نئی دہلی،( یو این آئی)فٹ بال کی تاریخ میں 2002 کا ورلڈ کپ ارجنٹائن کے لیے ایک ایسے خواب کی طرح تھا جو تعبیر سے پہلے ہی چکنا چور ہو گیا۔ جنوبی امریکی کوالیفائرز میں 18 میں سے 13 میچز جیت کر اور 42 گول داغ کر ٹورنامنٹ میں قدم رکھنے والی ارجنٹائن کی ٹیم کو عالمی اعزاز کے لیے سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا تھا۔مارسیلو بیسالا کی نگرانی میں ارجنٹائن کے پاس گیبریل باٹیسٹوٹا، ہرنین کرسپو، ایریل اورٹیگا، جوان سباسٹیان ویرون اور ڈیاگو سیمونی جیسے مایہ ناز کھلاڑیوں کا دستہ موجود تھا۔ دفاع میں زانیٹی اور سیموئل جیسے تجربہ کار کھلاڑی اسے ایک "مکمل ٹیم” بنا رہے تھے۔انہیں نائجیریا، سویڈن اور انگلینڈ کے ساتھ ‘گروپ آف ڈیتھ میں رکھا گیا تھا۔ارجنٹائن نے نائجیریا کو 0-1 سے ہرا کر آغاز تو اچھا کیا، لیکن اصل ڈرامہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں ہوا۔ یہ 1998 کے ورلڈ کپ کا ری میچ تھا، جہاں 23 سالہ ڈیوڈ بیکہم کو ریڈ کارڈ دکھا کر باہر کیا گیا تھا اور انگلینڈ کی شکست کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔2002 میں بیکہم نے اپنی تقدیر بدل ڈالی۔ ہاف ٹائم سے قبل مائیکل اوون کے گرنے پر ملنے والی متنازع پنالٹی کو بیکہم نے خاموشی سے گول میں بدل دیا۔ انگلینڈ نے یہ میچ 0-1 سے جیتا اور بیکہم نے چار سال پرانے داغ دھو کر اپنے ناقدین کو خاموش کر دیا۔آخری گروپ میچ میں ارجنٹائن کو ہر حال میں سویڈن کے خلاف جیت درکار تھی۔ سویڈن نے دوسرے ہاف میں فری کک کے ذریعے برتری حاصل کر لی۔ ارجنٹائن نے تابڑ توڑ حملے کیے، یہاں تک کہ انہیں ایک پنالٹی بھی ملی اورٹیگا کی ہٹ گول کیپر نے روک لی، تاہم ہرنین کرسپو نے ری باؤنڈ پر گول کر کے مقابلہ 1-1 سے برابر کر دیا۔ لیکن ارجنٹائن کو جس دوسرے گول کی ضرورت تھی، وہ نہ مل سکا اور ٹیم پہلے ہی مرحلے میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی۔ارجنٹائن کی یہ رخصتی 1962 کے بعد پہلی بار گروپ اسٹیج پر ہوئی تھی۔ جس ٹیم نے کوالیفائرز میں گولز کی برسات کی تھی، وہ ورلڈ کپ کے 3 میچوں میں صرف 2 گول کر سکی۔ارجنٹائن اکیلی بڑی ٹیم نہیں تھی، دفاعی چیمپئن فرانس تو ایک بھی گول کیے بغیر باہر ہو گئی تھی۔جہاں ارجنٹائن اور فرانس ناکام ہوئے، وہیں برازیل نے رونالڈو اور رونالڈینیو کی قیادت میں پانچواں عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔2002 کا ورلڈ کپ اس بات کی یاد دہانی تھا کہ فٹ بال کاغذ پر نہیں، میدان میں کھیلا جاتا ہے۔ رینکنگ اور شہرت کسی فتح کی ضمانت نہیں، بلکہ دباؤ میں بہتر کارکردگی اور حالات کے مطابق ڈھل جانا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔












