سید پرویز قیصر
انڈین پریمیر لیگ میں نو ہزار رن بنانے والے نو ہزار رن بنانے والے وراٹ کوہلی پہلے بلے باز بن گئے ہیں۔ دہلی میں رائل چیلنجرس بنگلورو کی جانب سے کھیلتے ہوئے دہلی کیپٹلس کے خلاف انہوں نے اپنی آوٹ ہوئے بغیر23 رن کی اننگ کے دوران ایسا کیا۔ وہ 35منٹ میں15 بالوں پر ایک چوکے اور دو چھکوں کی مدد سے یہ رن بنانے میں کامیاب رہے تھے۔
اس میچ کے اختتام تک دائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے2008 سے اب تک رائل چیلنجرس بنگلورو کیلئے جو275 میچ کھیلے انکی267 اننگوں میں40.05 کی اوسط اور133.80 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ آٹھ سنچریوں اور66 نصف سنچریوں کی مدد سے9012 رن بنائے ہیں جس میں305 چھکے اور808 چوکے شامل ہیں۔ وہ دس مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر113 رن ہے جو انہوں نے راجستھان ڑائلز کے خلاف جے پور میں6 اپریل2024 کو 94 منٹ میں 72 بالوں پر بارہ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے بنایا تھا اور اس میچ میں انکی ٹیم چھ وکٹ سے ہارگئی تھی۔ پنجاب کنگس کے خلاف بنگلورو میں18 مئی2016 کو وہ50 بالوں پر12 چوکوں اور آٹھ چھکوں کی مدد سے 113 رن بنانے میں کامیاب رہے تھے لیکن اس مرتبہ وہ آوٹ ہوگئے تھے اور انکی ٹیم ڈکورتھ اینڈ لوئیس قاعدے کے تحت82 رن سے کامیاب ہوئی تھی۔اس اننگ میں آٹھ چھکے انکے ایک اننگ میں مشترکہ طور پر سب سے زیادہ چھکے ہیں۔ بنگلورو میں14 مئی2016 کو گجرات لائینس کے خلاف جب انہوں نے94منٹ میں55 بالوں پر109رن بنائے تھے تو اس میں پانچ چوکے اور آٹھ چھکے شامل تھے۔ اس میچ میں رائل چیلنجرس بنگلورو نے 144 رن سے جیت اپنے نام کی تھی۔
راٹ کوہلی کی موجودگی میں رائل چیلنجرس بنگلورو کو جن137 میچوں میں کامیابی ملی ہے انکی131 اننگوں میں انہوں نے50.89 کی اوسط اور140.65 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ پانچ سنچریوں اور39 نصف سنچریوں کی مدد سے5089 رن بنائے ہیں۔ وہ چھ مرتبہ صفر کا شکار ہوئے ہیں اور انکا سب سے زیادہ اسکو113 رن ہے جو انہوں نے پنجاب کنگس کے خلاف بنگلورو میں18 مئی2016 کو وہ50 بالوں پر12 چوکوں اور آٹھ چھکوں کی مدد سے 113 بنایا تھاور انکی ٹیم ڈکورتھ اینڈ لوئیس قاعدے کے تحت82 رن سے کامیاب ہوئی تھی۔
وراٹ کوہلی کی موجودگی میں رائل چیلنجرس بنگلورو کو جن137 میچوں میں کامیابی ملی ہے انکی131 اننگوں میں انہوں نے50.89 کی اوسط اور140.65 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ پانچ سنچریوں اور39 نصف سنچریوں کی مدد سے5089 رن بنائے ہیں۔ وہ چھ مرتبہ صفر کا شکار ہوئے ہیں اور انکا سب سے زیادہ اسکو113 رن ہے جو انہوں نے پنجاب کنگس کے خلاف بنگلورو میں18 مئی2016 کو وہ50 بالوں پر12 چوکوں اور آٹھ چھکوں کی مدد سے 113 بنایا تھاور انکی ٹیم ڈکورتھ اینڈ لوئیس قاعدے کے تحت82 رن سے کامیاب ہوئی تھی۔
وراٹ کوہلی کے ٹیم میں رہتے انکی ٹیم کو جن131 میچوں میںشکست ہوئی ہے انکی130 اننگوں میں انہوں نے31.51 کی اوسط اور 126.10 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ تین سنچریوں اور26نصف سنچریوں کی مدد سے3782 رن بنائے ہیں۔ وہ چار مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہے تھے۔ ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر113 رن ہے جو انہوں نے راجستھان ڑائلز کے خلاف جے پور میں6 اپریل2024 کو 94 منٹ میں 72 بالوں پر بارہ چوکوں اور چار چھکوں کی مدد سے بنایا تھا اور اس میچ میں انکی ٹیم چھ وکٹ سے ہارگئی تھی۔
تین ٹائی ہوئے میچوں کی تین اننگوں میں انہوں نے38.00 کی اوسط اور108.57 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ ایک نصف سنچری کی مدد سے114 رن بنائے ہیں جبکہ نا مکمل رہے چار میچوں کی تین اننگوں میں وہ0 13.5 کی اوسط اور207.69 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ27رن بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔












