نئی دہلی، ایم این این۔ فرسٹ پوسٹ میں شائع ایک تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ چین کی حالیہ گلوبل سیکورٹی سوچ اور پالیسی دستاویزات بیجنگ کے عالمی نظریے کی بنیادی کمزوریوں اور تضادات کو بے نقاب کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چین خود کو عالمی استحکام، ترقی اور سکیورٹی کے ضامن کے طور پر پیش کرتا ہے، تاہم اس کی خارجہ اور عسکری پالیسیوں میں جارحانہ رویہ، سرحدی دباؤ اور علاقائی طاقت کے استعمال کے واضح عناصر موجود ہیں۔ مضمون میں کہا گیا کہ بیجنگ ایک طرف “مشترکہ سکیورٹی” کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب جنوبی چین سمندر، تائیوان اور ہند بحرالکاہل خطے میں اپنی عسکری موجودگی مسلسل بڑھا رہا ہے۔ تجزیے میں کہا گیا کہ چین کی گلوبل سیکورٹی اینشیٹیو دراصل ایک ایسا متبادل عالمی نظام پیش کرنے کی کوشش ہے جس میں مغربی جمہوری اقدار کے بجائے ریاستی کنٹرول، نگرانی اور مرکزیت کو ترجیح دی جاتی ہے۔ مضمون کے مطابق بیجنگ “عدم مداخلت” کا نعرہ تو دیتا ہے لیکن اقتصادی دباؤ، قرض سفارتکاری اور سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے مختلف ممالک کی پالیسیوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ چین کے سکیورٹی نظریے میں شفافیت کی کمی اور اختلافی آوازوں کے لیے محدود جگہ اس کے عالمی دعوؤں کو کمزور بناتی ہے۔ مصنف کے مطابق اندرونِ ملک سخت نگرانی، سنسرشپ اور انسانی حقوق سے متعلق الزامات بھی چین کی “عالمی قیادت” کے بیانیے پر سوالات کھڑے کرتے ہیں۔ مضمون میں خبردار کیا گیا کہ اگر چین طاقت کے توازن کے بجائے دباؤ اور اسٹریٹجک انحصار پر مبنی ماڈل کو فروغ دیتا رہا تو اس سے خطے میں کشیدگی اور جغرافیائی سیاسی تقسیم مزید بڑھ سکتی ہے۔












