واشنگٹن؍ اسلام آباد۔ ایم این این۔ ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران پاکستان کے سفارتی کردار اور واشنگٹن کے ساتھ حالیہ رابطوں کے باوجود امریکہ اور پاکستان کے تعلقات طویل مدتی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حالیہ مہینوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے ذریعے عالمی سفارت کاری میں اپنی اہمیت بڑھانے کی کوشش کی۔ اسلام آباد نے دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے اور مذاکراتی رابطوں میں کردار ادا کیا، جس کے باعث وقتی طور پر پاکستان کو واشنگٹن میں نئی اہمیت ملی۔ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی فوجی قیادت کے درمیان بڑھتے روابط نے بھی دونوں ممالک کے تعلقات کو وقتی گرمجوشی فراہم کی، تاہم امریکی کانگریس اور پالیسی حلقوں میں پاکستان کے بارے میں شکوک و شبہات اب بھی برقرار ہیں۔ کئی امریکی سینیٹرز اور ماہرین نے پاکستان کے دہشت گردی سے متعلق ماضی کے کردار اور خطے میں اس کی پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکی پالیسی ساز پاکستان کو اس وقت ایک مخصوص سفارتی ضرورت کے تحت اہم سمجھ رہے ہیں، لیکن واشنگٹن میں عمومی رائے یہی ہے کہ یہ تعلقات وقتی اور حالات پر مبنی ہیں، نہ کہ مستقل اعتماد پر قائم۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور بھارت کے تعلقات کے برعکس امریکہ اور پاکستان کے روابط ادارہ جاتی بنیادوں پر مضبوط نہیں ہیں۔ تجزیے میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ پاکستان نے حالیہ سفارتی توجہ کو اپنی عالمی شبیہ بہتر بنانے کے لیے مکمل طور پر استعمال نہیں کیا۔ اسی دوران امریکہ نے سکیورٹی خدشات کے باعث پشاور میں اپنا قونصل خانہ بند کرنے کا اعلان بھی کیا، جسے بعض ماہرین دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود عدم اعتماد کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان معدنیات، جغرافیائی محل وقوع اور خطے میں سفارتی کردار کے باعث وقتی اہمیت ضرور حاصل کر سکتا ہے، لیکن اندرونی سکیورٹی مسائل، شدت پسندی، بلوچستان میں شورش اور غیر یقینی سرمایہ کاری ماحول امریکہ کے لیے بڑے خدشات بنے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ پاکستان کے ساتھ محدود تعاون جاری رکھ سکتا ہے، لیکن طویل مدتی بنیادوں پر واشنگٹن کی ترجیحات اب بھی بھارت، بحر ہند حکمت عملی اور انڈو پیسفک خطے پر مرکوز دکھائی دیتی ہیں۔












