تائی پے، ایم این این۔ تائیوان کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنے اطراف چین کے سات بحری جہازوں اور ایک سرکاری جہاز کی موجودگی ریکارڈ کی ہے، جس کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ تائیوانی حکام کے مطابق مسلح افواج نے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی اور ضروری ردعمل دیا۔ تائیوان کی وزارتِ دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ چینی بحری جہاز تائیوان کے اطراف سرگرم رہے، تاہم اس دوران کسی چینی جنگی طیارے کی پرواز ریکارڈ نہیں کی گئی۔
بیان میں کہا گیا کہ “آر او سی آرمڈ فورسز نے صورتحال کی نگرانی کی اور مناسب جواب دیا۔رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں چین نے تائیوان کے اطراف اپنی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ تائیوانی وزارتِ دفاع نے گزشتہ دنوں بھی متعدد چینی جنگی طیاروں اور بحری جہازوں کی موجودگی رپورٹ کی تھی، جن میں بعض طیارے تائیوان کے (ADIZ) میں داخل ہوئے تھے۔
بیجنگ مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور “دوبارہ اتحاد” اس کی قومی پالیسی کا اہم جزو ہے۔ دوسری جانب تائیوان خود کو ایک خودمختار جمہوری نظام کے طور پر چلاتا ہے، جس کی اپنی حکومت، فوج اور اقتصادی نظام موجود ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین اب گرے زون ہتھکنڈے کے تحت تائیوان پر دباؤ بڑھا رہا ہے، جس میں براہِ راست جنگ کے بغیر مسلسل فوجی، بحری اور فضائی سرگرمیوں کے ذریعے نفسیاتی اور اسٹریٹجک دباؤ پیدا کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے تائیوان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف ایشیا پیسیفک بلکہ عالمی تجارت، سیمی کنڈکٹر سپلائی چین اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔












