ماسکو، (یو این آئی) روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ یوکرین کے ساتھ روس کا تنازع ختم ہونے والا ہے۔ انہوں نے دوسری عالمی جنگ میں سوویت یونین کی جیت کی مناسبت سے ماسکو میں منعقدہ ایک محدود فوجی پریڈ کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ بی بی سی نے اتوار کو یہ اطلاع دی۔سکیورٹی خدشات کی وجہ سے روس کی سالانہ پریڈ میں ٹینکوں اور میزائلوں کی روایتی نمائش نہیں ہوئی کیونکہ حکام کو اندیشہ تھا کہ یوکرین ڈرون کے ذریعے ریڈ اسکوائر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ثالثی سے ماسکو اور کیف کے درمیان آخری لمحات میں ہوئی جنگ بندی نے کسی بھی حملے کے خطرے کو کم کر دیا اور پریڈ بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوئی۔مسٹر پوتن کے یہ تبصرے ان کی یومِ فتح کی تقریر کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے جنگ کو جائز قرار دیا تھا۔ اس تقریر میں انہوں نے کہا کہ روس ایک منصفانہ جنگ لڑ رہا ہے اور یوکرین کو ایک جارح طاقت قرار دیا جسے ناٹو کے پورے بلاک کی جانب سے اسلحہ اور مدد فراہم کی جا رہی ہے۔بعد ازاں، ایک پریس کانفرنس میں جب مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کی مدد سے متعلق سوال پوچھا گیا تو مسٹر پوتن نے کہا کہ انہوں نے (مغرب نے) مدد کا وعدہ کیا اور پھر روس کے ساتھ ٹکراؤ کو ہوا دینا شروع کر دی جو آج تک جاری ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ معاملہ اب سلجھنے والا ہے لیکن یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔روسی فوج نے 2014 میں کریمیا اور مشرقی یوکرین کے کچھ حصوں پر قبضہ کر لیا تھا، پھر فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کا آغاز کر دیا۔ مسٹر پوتن نے کہا کہ وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے تب ہی ملیں گے جب ایک مستقل امن معاہدے پر اتفاق ہو جائے گا۔مسٹر پوتن نے کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ مسٹر زیلنسکی ذاتی ملاقات کے لیے تیار ہیں لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے جب ہم نے اس طرح کے بیانات سنے ہیں۔ مسٹر پوتن نے کہا کہ وہ یورپ کے لیے نئے سکیورٹی انتظامات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ان کے پسندیدہ مذاکرات کار جرمنی کے سابق چانسلر گیرہارڈ شروڈر ہوں گے۔سابق جرمن چانسلر صدر پوتن کے دیرینہ دوست ہیں اور روسی سرکاری توانائی کمپنیوں کے لیے اپنے کام کی وجہ سے متنازع رہے ہیں۔امریکہ کی قیادت میں ہفتہ کے آخر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت، کیو اور ماسکو نے ایک دوسرے کے 1,000 قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا لیکن مسٹر پوتن نے ہفتہ کو کہا کہ روس کو یوکرین سے ابھی تک کسی بھی قسم کے تبادلے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔












