تائی پے۔ ایم این این۔ تائیوان اور جاپان بحرالکاہل کے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی “گرے زون” سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاعی اور تکنیکی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر غور کر رہے ہیں۔ اس پیش رفت کو خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے عسکری دباؤ کے تناظر میں ایک اہم اسٹریٹجک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔تائیوان کے نیشنل سکیورٹی بیورو کے ڈائریکٹر جنرل سائی منگ ین نے قانون سازوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ تائی پے، ٹوکیو کے ساتھ کئی اہم شعبوں میں مشترکہ اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان میں زیر سمندر انٹرنیٹ کیبلز کا تحفظ، چین کی سمندری “گرے زون” کارروائیوں کا مقابلہ، اور سائبر سکیورٹی و مصنوعی ذہانت میں تعاون شامل ہے۔ یہ بیان جاپان کی وزیر اعظم سینائی تکائیچی کی جانب سے نئی “فری اینڈ اوپن انڈو پیسیفک” حکمت عملی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس حکمت عملی میں سمندری سلامتی، اہم معدنیات اور توانائی کی سپلائی چینز کے تحفظ، اور خطے کے شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعاون کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی “گری زون” حکمت عملی میں وہ اقدامات شامل ہیں جو مکمل جنگ کے بغیر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے ساحلی محافظ جہازوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت، فضائی دراندازی، سائبر حملے، اور اطلاعاتی جنگ۔ اس طرز عمل کا مقصد مخالف ممالک پر مسلسل دباؤ ڈالنا اور ان کی دفاعی صلاحیتوں کو آزمانا ہوتا ہے۔ تائیوان اور جاپان دونوں سمندری راستوں، زیر سمندر مواصلاتی کیبلز، اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں مشترکہ خطرات کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک اب سکیورٹی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ تعاون عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ انڈو پیسیفک میں طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے اور چین کے بڑھتے ہوئے علاقائی دباؤ کے خلاف ایک مضبوط جمہوری اشتراک کی بنیاد بن سکتا ہے۔












