جےپور،14مئی،سماج نیوز سروس: ایجنسی نے ملک بھر میں کئی مقامات پر چھاپے بھی مارے ہیں، اور تکنیکی اور فرانزک تحقیقات جاری ہیں۔سی بی آئی نے یہ معاملہ 12 مئی کو وزارت تعلیم کے محکمہ ہائر ایجوکیشن سے موصولہ شکایت کی بنیاد پر درج کیا تھا۔شکایت میں NEET UG-2026 امتحان کے انعقاد اور پیپر لیک ہونے میں بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ پیپر لیک سے متعلق ہر پہلو کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے۔گرفتار ملزمان میں سے تین کو جے پور، ایک گروگرام اور ایک کو ناسک، مہاراشٹرا سے گرفتار کیا گیا۔ حراست میں لیے گئے افراد میں شبھم کھیرنار، مانگی لال بنوال، وکاس بنوال، دنیش بنوال اور یش یادو شامل ہیں۔ جے پور میں، چار ملزمان کو ایس او جی ہیڈکوارٹر سے درگا پورہ میں جج کی رہائش گاہ پر پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں ٹرانزٹ ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ تمام ملزمین سے اب دہلی میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ملزمان کو پیشی کے دوران منہ چھپاتے دیکھا گیا۔جانچ کے دوران سی بی آئی نے موبائل فون سمیت کئی دستاویزات اور الیکٹرانک آلات برآمد کئے۔ ایجنسی راجستھان ایس او جی کے ساتھ تال میل کر رہی ہے جس نے ابتدائی تفتیش کی۔اس دوران یہ معاملہ بھی سیاسی رخ اختیار کر چکا ہے۔ سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گرفتار ملزم دنیش بنوال کے بی جے پی سے تعلقات ہیں۔ انہوں نے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خاندان کے کئی افراد پہلے ہی سرکاری ملازمت پر فائز ہیں۔اپوزیشن لیڈر ٹیکا رام جولی نے بھی بی جے پی پر حملہ بولا۔ انہوں نے بی جے پی ایم ایل اے مہندر پال مینا کی سوشل میڈیا پوسٹس شیئر کیں اور الزام لگایا کہ دنیش بنوال کے بی جے پی اور بی جے وائی ایم کے ساتھ تعلقات ہیں۔ جولی نے کہا کہ بی جے پی اب اس معاملے سے خود کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ سیاستدانوں اور ملزمین کے درمیان قریبی تعلقات کے ثبوت سامنے آ رہے ہیں۔بدھ کو جے پور میں درگا پورہ کے جج مہیندر کمار شرما نے ملزم کو ایک دن کے ٹرانزٹ ریمانڈ پر بھیج دیا۔ سماعت سے واپسی پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک ملزم نے کہا کہ ہمیں پھنسایا جا رہا ہے اور اہم لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ ملزم کے اس بیان سے صورتحال مزید بگڑ گئی اور اپوزیشن نے حکومت پر سوال اٹھانا شروع کر دیئے۔راجستھان میں NEET پیپر لیک کو لے کر سیاسی بیان بازی تیز ہو گئی ہے، اور اب تمام نظریں سی بی آئی کی تحقیقات اور مزید کارروائی پر مرکوز ہیں۔












