نئی دہلی، سماج نیوز سروس:دہلی میںنیٹ امتحان کی منسوخی کے بعدکسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے این ٹی اے آفس کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔یوتھ کانگریس اوراکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے اراکین نے آج بروز بدھ 13 مئی 2026کو پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعدنیٹ انڈر گریجویٹ 2026 کی منسوخی پر دہلی میںاین ٹی اے دفتر کے باہر احتجاج کیا۔دریں اثنا میڈیکل ایسوسی ایشن نےبھی نیٹ کی منسوخی پر این ٹی اےکی تبدیلی کا مطالبہ کیاہے۔فیڈریشن آف آل انڈیا میڈیکل ایسوسی ایشن (FAIMA) نے نیٹ امتحان کے انعقاد میں’نظاماتی ناکامی‘ کا الزام لگاتے ہوئے اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔یہ عرضی 3 مئی کو نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعہ منعقدہ نیٹ 2026 کے امتحان کی منسوخی کے بعد ہے، جسے 12 مئی کو پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے درمیان منسوخ کر دیا گیا تھا جو اب سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے زیر تفتیش ہے۔ایڈووکیٹ تنوی دوبے کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں قومی جانچ کے فریم ورک کی جامع نظر ثانی کی درخواست کی گئی ہے، جس میں این ٹی اے کو ایک زیادہ خود مختار ادارہ سے تبدیل کرنا بھی شامل ہے۔ ایسوسی ایشن نے ان رپورٹوں کا حوالہ دیا کہ انکرپٹڈ پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے’گیس پیپرز‘میں اصل امتحان کے 100 سے زیادہ سوالات سے مماثل ہیں۔ اس نے عدالت پر زور دیا ہے کہ وہ حکومت کو ہدایت دے کہ وہ اس طرح کے امتحانات کے انعقاد اور ساکھ کو بحال کرنے کیلئے’تکنیکی طور پر جدید اور خود مختار ادارہ‘ قائم کرے۔FAIMA نے امتحان کے دوبارہ انعقاد کی نگرانی کیلئے سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں اور سائبر سیکیورٹی اور فرانزک ماہرین پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی نگرانی کمیٹی کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ منسوخی سے 22 لاکھ سے زیادہ امیدوار متاثر ہوئے ہیں، جن میں نظرثانی شدہ امتحانی شیڈول، ایڈمٹ کارڈ، مراکز اور کونسلنگ کے عمل پر غیر یقینی صورتحال ہے۔












