نئی دہلی، سماج نیوز سروس: ملک کے سب سے بڑے تعلیمی گھوٹالوں میں شمار کیے جا رہے نیٹ پیپر لیک معاملے میں ایک بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ راجستھان پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) اور مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) کی مشترکہ تحقیقات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک مقامی لیڈر دنیش بوال اور اس کے بھائی مانگی لال بوال کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے لاکھوں روپے دے کر نیٹ-یو جی کا سوالیہ پرچہ خریدا اور بعد میں اسے دیگر لوگوں کو فروخت بھی کیا۔ جانچ ایجنسیوں کے مطابق دونوں بھائیوں نے تقریباً 30 لاکھ روپے میں یہ پرچہ راجستھان کے سیکر ضلع کے رہنے والے راکیش منڈواریا سے خریدا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ابتدا میں انہوں نے یہ پرچہ اپنے خاندان کے کچھ بچوں کو امتحان میں کامیاب کرانے کے مقصد سے حاصل کیا تھا، لیکن بعد میں مالی فائدہ اٹھانے کے لیے اسے دوسرے امیدواروں تک بھی پہنچایا گیا۔تفتیشی حکام کے مطابق دنیش بوال جے پور کی جموا رام گڑھ اسمبلی سیٹ پر بی جے پی کا سرگرم کارکن رہا ہے اور پارٹی کے کئی پروگراموں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بی جے پی یوتھ مورچہ میں ایک عہدے پر بھی فائز رہ چکا ہے۔ پارٹی کے کئی بڑے لیڈروں کے ساتھ اس کی قربت کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں، جن میں راجستھان کے کابینی وزیر راجیہ وردھن سنگھ راٹھور کے ساتھ اس کی تصویر خاص طور پر زیر بحث ہے۔ کانگریس پارٹی نے اس معاملے کو لے کر بی جے پی پر سخت حملہ بولا ہے۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ نیٹ پیپر لیک میں بی جے پی لیڈر کی گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملے کے تار سیاسی حلقوں تک پہنچ چکے ہیں۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے ریکیٹ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ تمام کرداروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔












