نئی دہلی،ڈی ڈی اے(دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی) نے مہرولی میں عمارتیں اور اسٹورز پر بلڈوزر چلادیا۔ڈی ڈی اے کے مطابق نوٹس دسمبر میں دیا جا چکا تھا۔لیکن وہاں کے لوگوں کاکہنا ہے کہ حکومت نے ہمیں کوئی نوٹس نہیں دیاہے۔خواتین کا کہناہے کہ ہمارے پاس ان گھروں کی تصدیق شدہ رجسٹری موجود ہے جسے ڈی ڈی اے نے پاس کیا تھا۔تجاوزات کے دوران کچھ خاندانوں نے خود کو گھروں میں بند کر لیا اور کہا کہ بلڈوزر ہماری لاشوں کے اوپر سے گزرے گا۔
متاثرین کا روتے ہوئے کہنا ہے کہ ہم اور ہاؤس ٹیکس ،پانی کا بل، ٹیکس ادا کرتے ہے ۔تو ڈی ڈی اے ہمارے گھر کیوں توڑ رہے ہیں۔عوام کے مطابق ڈی ڈی اے کو پروپرٹی ڈیلر سے بات کرنی چاہیے ۔کیونکہ پروپرٹی ڈیلر نے ہمیں گھر فروخت کئے تھے۔ متاثرین کا رو رو کر برا حال ہے،ان کا کہنا ہے کہ ڈی ڈی اے نے ہماری محنت کی کمائی کے گھر تباہ کردئےہیں، اب ہم کہاں جائیں گے ۔ڈی ڈی اے کو عوام کازبردست احتجاج کا سامناکرنا پڑا،کچھ خواتین نے تجاوزات کےخلاف پولیس اہلکاروں پر مرچ پاؤڈر پھینکا۔بعد میںپولیس نے خواتین پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔
19خاندانوںنے عدالت سے اسٹے لے رکھا ہے لیکن پھر بھی ڈی ڈی اے کی تجاوزات جاری ہے۔متاثرین کے غصے کی وجہ سے بھاری تعداد میں آر ایف اور دہلی پولیس کے اہلکارموقے پر تعینات ہیں۔












