نئی دہلی ،انجمن فیضان رخسار ملت کے زیر اہتمام نہال وہار ناگلو ئی میں عرس رخسار ملت کا انعقاد کیا گیا۔جس کی سر پر ستی سید سلیم میاںصدارت سید بلال میاں قیا دت مو لانا نور العین اور نظامت مو لانا کو نین رضا پو رنیہ نے کی۔پرو گرا م کا آغاز مولانا وسیم احمد کی قرآنی آیات اورمو لانا ہلال رضا بریلوی،قاری طاپر حسین اشرفی،غلام سرور و مدرسہ جامعہ فاطمہ کے طلبا و طالبات کی نعت و مناقب سے ہوا۔اس مو قع خطیب خصوصی مفتی شہر یار رضا پو رنیہ نے رخسار میاں کی دینی مذہبی مسلکی مشربی تعلیمی تبلیغی تدریسی تنظیمی تحریکی تقریری تصنیفی دعوتی اور اصلاحی خدمات روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ بزرگوں کا اعراس منانا صاحب عرس کے بلندئی درجات وابستگان سلسلہ کے لئے باعث خیر و برکت اور اسلاف و اکابرین امت کا ایک مستحسن عمل ہے مگر شرط یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی فعل خلاف شرع نہ ہو۔انہوں نے رخسار میاں کو ایک ہمہ جہت شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کی دینی و تعلیمی مشن کے فروغ میں تعاون پیش کرنے کی اپیل کی ۔ جامعہ عشرہ مبشرہ لونی کے سربراہ مولانا حکیم فاروق رضا برکاتی نے صاحب عرس سید رخسار حسن میاں کو آسمان علم و عمل کا نیر تاباں قرار دیتے ہوئے الجامعتہ الفاطمہ کو ان کی زندگی کا عظیم شاہکار قرار دیا اور کہا کہ سادات گھرانے کے اس فرد نے خاندانی شرف و بزرگی عالمانہ وقار اور خانقاہی روایات کی ہمیشہ پاسداری کی اور ان خاصان خدا کے اذکار کو بندہ مومن کے لئے دارین میں کامیابی کی ضمانت بتایا اور ان کے نقوش قدم پر چلنے کی تلقین کی۔ مولانا مصطفی رضا نو ری نے کہا کہ موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا مگر اس کے باجود آج ہم دنیوی رنگ و بو میں گم ہوکر فکر آخرت سے غافل ہیں ۔ناظم اجلاس و جامعہ فاطمہ کے پرنسپل مولانا نورالعین مصباحی نے شرکائے محفل کو ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے جامعہ کی تعمیر و ترقی کے لئے اراکین جامعہ کا دست و بازو بن کر ادارہ کو مضبوط کرنے کی اپیل کی۔اس مو قع پر جامعہ سے فا رغ ہو نے والے بچو ں کوعلما ئے کرام کے ہاتھوں دستار حفظ سے سر فراز کیا گیا ۔اہم شرکا ءمیں قاری ریاست علی،مو لانا تصور علی نظامی،مو لانا شکیل احمد جا ئسی،مو لانا ثنا ءاللہ قادری، مفتی کبیر احمد، مولانا عبدالحلیم رضوی، مولانا افتخار عالم، مولانا ضمیرالاسلام، مولانا نعیم شیری ، قاری اشتیاق احمد،قاری عبداللہ،کمال الدین رضوی اور حافظ محمد اسلام سمیت درجنوں ائمہ کے نام شامل ہیں۔ رمضان علی ،محمد سلمان خان، محمد ظفر، عظیم احمد، حافظ ارشاد (اسو) حافظ نجف علی، علی احمد، محمد منا، معراج احمد، فیروز عالم، محمد ساحل، محمد سلمان،غلام علی، محمد الطاف، محمد ساجد، عرفان احمد، حافظ فرقان احمد، محمد انیس، محمد عارف، محمد راجو اور اظہار الدین نے اپنا خاص تعاون پیش کیا۔صلا ة و سلا م و دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔












