گوہاٹی :بچپن کی شادی کے خلاف کریک ڈاؤن میں لوگوں کی بڑی تعداد میں گرفتار کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے، گوہاٹی ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اس نے لوگوں کی نجی زندگیوں میں تباہی ڈالی ہے اور ایسے میں ملزمین سے پوچھ گچھ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہائی کورٹ نے بچوں کی شادی اور عصمت دری کے الزامات کے ملزمان پر جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ کے قانون، 2012 (پوکسو ) جیسے سخت قوانین کو نافذ کرنے پر آسام حکومت کی بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ بالکل عجیب الزامات ہیں۔ ملزمان کے ایک گروپ کی پیشگی ضمانت اور عبوری ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس سمن شیام نے تمام ملزمین کو فوری اثر سے ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت دی۔جسٹس نے کہایہ حراستی تفتیش کے معاملے نہیں ہیں۔ آپ (ریاست) کے قانون کے مطابق آگے بڑھیں، ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے۔ اگر آپ کسی کو مجرم پاتے ہیں تو چارج شیٹ دائر کریں۔ اسے مقدمے کا سامنا کرنے دیں اور اگر وہ مجرم ثابت ہوا ہے تو اسے سزا سنائیں۔انہوں نے کہا کہ یہ نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکو ٹراپک سبسٹینس (این ڈی پی ایس)، اسمگلنگ یا چوری شدہ املاک سے متعلق نہیں ہیں۔ انہوں نے منگل کو کہا، یہ (گرفتاری) لوگوں کی ذاتی زندگیوں میں تباہی پیدا کر رہی ہے۔ بچے ہیں، گھر والے ہیں، بوڑھے ہیں۔ یہ (گرفتاری) کرنا اچھا خیال نہیں ہو سکتا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک برا خیال ہے۔ 14 فروری تک بچوں کی شادی کے 4,225 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور کل 3,031 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ کریک ڈاؤن کا آغاز 3 فروری کو 4,004 ایف آئی آر کے ساتھ ہوا۔عدالت نے ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر ڈی داس سے کہا کہ ریاستی حکومت کے پاس جیلوں میں جگہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو بڑی جیلیں بنانے کا مشورہ دیا۔ جب سرکاری وکیل نے نشاندہی کی کہ پوسکو ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور عصمت دری (آئی پی سی سیکشن 376) کے تحت غیر ضمانتی الزامات ہیں، تو جسٹس شیام نے کہایہاں پوکسو کیا ہے؟ صرف اس لیے کہ پوکسو شامل کیا گیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جج نہیں دیکھے گا کہ وہاں کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آئی پی سی کی دفعہ 376 کیوں؟ کیا یہاں عصمت دری کا الزام ہے؟ یہ سب عجیب و غریب الزامات ہیں۔












