نئی دہلی، حکومت نے مالی سال 2022-23 سے 2025-26 کے لیے 4800 کروڑ روپے کی مرکزی اسپانسرڈ اسکیم ‘وائبرنٹ ولیج پروگرام(وی وی پی) کو منظوری دی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں بدھ کو ہوئی مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس اسکیم کو منظوری دی گئی۔شمالی سرحد پر بلاکس کے دیہاتوں کی جامع ترقی کے ساتھ نشان زد سرحدی دیہات میں رہنے والے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہو رہا ہے ۔ اس اسکیم سے لوگوں کو سرحدی علاقوں میں اپنے آبائی مقامات پر رہنے کی ترغیب دینے اور ان دیہاتوں سے نقل مکانی کو روکنے میں مدد ملے گی، سرحدی سیکورٹی کو بہتر بنایا جائے گا۔اطلاعات و نشریات کے وزیر انوراگ ٹھاکر نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ یہ اسکیم ملک کی شمالی زمینی سرحد کے ساتھ 19 اضلاع اور 46 سرحدی بلاکس، چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ضروری بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور روزی روٹی کے مواقع پیدا کرنے کے لیے فنڈ فراہم کرے گی۔ جامع ترقی حاصل کرنے اور سرحدی علاقوں میں آبادی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے پہلے مرحلے میں 663 گاؤں کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس اسکیم کا مقصد شمالی سرحد کے سرحدی گاووں میں مقامی قدرتی انسانی اور دیگر وسائل کی بنیاد پر معاشی محرکات کی شناخت اور ترقی کرنا نیز سماجی انٹرپرینیورشپ کی حوصلہ افزائی، ہنر مندی کی ترقی اورانٹرپرینیورشپ کے ذریعے نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنا کر "ہب اینڈ اسپوک ماڈل” پر ترقیاتی مراکز کو تیارکرنا ہوگا۔ نیز یہ اسکیم مقامی ثقافت، روایتی علم اور ورثے کے فروغ کے ذریعے سیاحت کی صلاحیت کا فائدہ اٹھانے اور کمیونٹی پر مبنی تنظیموں، کوآپریٹیو، ایس ایچ جی، این جی او کے ذریعہ “ایک گاوں ایک پروڈکٹ” کے تصور پر پائیدار ماحولیاتی زرعی کاروبار کو فروغ دے گی۔مسٹر ٹھاکر نے بتایا کہ وائبرنٹ ولیج ایکشن پلان گرام پنچایتوں کی مدد سے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ تیار کیاجائے گا۔ مرکزی اور ریاستی اسکیموں کی صد فیصد تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس اسکیم کے تحت جن اہم مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، ان میں تمام موسم کے مطابق سڑکیں، پینے کا پانی، چوبیس گھنٹے شمسی اور ہوا کی توانائی پر مرکوز بجلی کی فراہمی، موبائل اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، سیاحتی مراکز، کثیر مقصدی مراکز اور صحت و تندرستی کے سینٹر شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ بارڈر ایریا ڈیولپمنٹ پروگرام کے ساتھ کوئی جزوی مماثلت نہیں ہوگی۔ 4800 کروڑ روپے کے مالیاتی مختص میں سے 2500 کروڑ روپے سڑکوں کے لیے استعمال کیے جائیں گے ۔وہیںمرکزی کابینہ نے بدھ کو ملک میں کوآپریٹو تحریک کو مضبوط بنانے اور اسے گاؤں اور پنچایت کی سطح تک لے جانے کے لیے ایک جامع منصوبہ اور پروگرام کو منظوری دی۔وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ کی میٹنگ کے فیصلے کے تحت پانچ سالوں میں پورے ملک میں دو لاکھ پرائمری ایگریکلچرل کوآپریٹیو سوسائٹیز (پی اے سی ایس)/ڈیری/فشریز کوآپریٹو سوسائٹیاں قائم کی جائیں گی۔
اس منصوبے کے نفاذ کے لیے ایکشن پلان نابارڈ، نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) اور نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) تیار کریں گے ۔کابینہ کی میٹنگ کے بعد جاری کردہ ایک ریلیز کے تحت ہر ایک چھوڑی ہوئی پنچایت میں دودھ ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیوں میں آپریشنل پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ سوسائٹیز (پی اے سی ایس) اور ہر ساحلی پنچایت/گاؤں کے ساتھ ساتھ بڑے آبی ذخائر والے ہر پنچایت/گاؤں میں ماہی پروری کوآپریٹو سوسائٹیوں کے قیام کے ساتھ ساتھ ایسی سوسائٹیوں کو مزید مضبوط کرنے کا منصوبہ ہے جو اس وقت دیہات میں مضبوط ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت کا اگلے پانچ سالوں میں دو لاکھ کثیر مقصدی پی اے سی ایس/ڈیری/مچھلی کوآپریٹیو قائم کرنے کا ابتدائی ہدف ہے ۔کابینہ کے فیصلوں کے مطابق اس اسکیم کو این اے بی اے آر ڈی، نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (این ڈی ڈی بی) اور نیشنل فشریز ڈویلپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) کے تعاون سے ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کی وزارت کی مختلف اسکیموں کے آپس میں ملاپ اور ہم آہنگی کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔












