نئی دہلی ،شاہی امام مسجد فتح پوری مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے جمعہ کی نماز سے قبل خطاب میںمسلمانوں سے اپیل کی کہ اخلاص کے ساتھ عبادات میں مشغول رہیں اورا پنے مال و دولت کو ملت کے تعمیری کاموں میں اور بچوں کی تعلیم پر صرف کریں ۔انہوںنے کہا کہ18فروری ہفتہ کو بعد نماز عشاءمسجد فتح پوری میں محفل معراج شریف منعقد ہوگی ۔ انہوںنے کہا کہ فرقہ پرستانہ بیانات کا سلسلہ برابر جاری ہے ۔یہ قابل مذمت ہے ۔ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر سابق ایم ایل اے نے کہاکہ مغربی اتر پردیش بڑھتی آبادی کی وجہ سے پاکستان بننے جا رہا ہے اورکہا تما م پارٹیوں کوبڑھتی ہوئی آبادی پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔مفتی مکرم نے کہا کہ آبادی بڑھانے کا الزام بے بنیاد ہے ۔مسلمانوں کی آبادی زیادہ نہیں بڑھی اور وہ بڑھانا بھی نہیں چاہتے ۔انہوںنے کہا کہ تلنگانہ میں ایک سیاسی پارٹی کے مقامی صدر نے حیدر آباد میںکہا کہ اگر ہم اقتدار میں آئےں گے تو ہم نظام سے وابستہ ثقافتی شبیہ کومٹا کر رہیں گے ۔مفتی مکرم نے کہا کہ کچھ سیاسی لیڈر برابر ایک فرقہ کونشانہ بنا کر ماحول بگاڑنا چاہتے ہیں یہ نہیں ہونا چاہئے ۔ایو دھیا میں رام جنم بھومی کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والے غیر مسلم شخص اور اس کی بیوی کو مہاراشٹر کے احمد نگر سے گرفتار کر لیا گیا ہے اس نے دہلی کے باشندے بلال کے نمبر کاغلط استعمال کیا تھا اور ۲ فروری کی صبح تقریبا پانچ بجے رام جنم بھومی کیمپس میں رہنے والے منوج کو فون پر رام مندر کو بم سے اڑانے کی دھمکی دی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ دہلی میٹرو کو بھی اڑانے کی دھمکی دی تھی ۔دھمکی دینے والے نے حالات خراب کرنے کےلئے بلال کے نمبر کا استعمال کیا تھا ۔ایودھیا کا ماحول خراب کرنے کےلئے پہلے بھی ناپاک کوششیں ہو چکی ہیں جنہیں پولیس نے بروقت ناکام بنا دیا تھا ۔مفتی مکرم نے کہا کہ ایسے لوگوںپر شدید کارروائی ہونی چاہئے مسلمان ہمیشہ محبت ،امن سلامتی کے علمبردار ہیں بے بنیاد الزام لگا کر انہیں بدنام کیا جا رہا ہے ۔












