نئی دہلی ،اردو کے مشہور و معروف ناقد و ادیب پروفیسرابن کنول کے اچانک انتقال سے ادبی حلقوں میں غم کی فضا چھائی ہوئی ہے اور مختلف ادارے ان کے لیے تعزیتی جلسوں کا انعقاد کر رہے ہیں۔ اردو کے ہر دل عزیز ادارے غالب انسٹی ٹیوٹ نے بھی ان کی یاد میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ استاد محترم کی شکل میں میں نے اپنا ایک مخلص سرپرست کھو دیا ہے۔ وہ باقاعدہ میرے استاد تھے میں نے انھیں کے زیر نگرانی ایم فل اور پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھاتھا۔ لیکن جو رشتہ ان سے رسمی طالب علم کی حیثیت سے قائم ہوا تھا وہ روز بروز مستحکم ہوتا گیا۔ میں مشکل وقت میں ان سے مشورے بھی لیتا تھا اور مدد بھی اور وہ ہمیشہ خندہ پیشانی سے مدد فرماتے تھے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ جلد ان کی یاد میں ایک کتاب یا یادگاری مجلہ شائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس میں آپ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اپنی نگارشات ارسال فرمائیں۔ میں ان کی تسکین روح کے لیے دعا گو ہوں اور ان کے پسماندگان کے دکھ میں برابر کا شریک ہوں۔ پروفیسر عبدالحق نے کہا کہ پروفیسر ابن کنول عمر میں مجھ سے بہت چھوٹے تھے میں عمر کے اس مرحلے میں اس طرح کی خبر سننا تو نہیں چاہتا تھا بلکہ دعا کرتا رہا کہ یہ خبر جھوٹی ہو لیکن تقدیر کے فیصلے کو کون بدل سکا ہے۔ خدا ان کی مغفرت فرمائے۔انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کہا کہ میراان سے تعلق ادبی کے علاوہ وطنی بھی تھا کہ ہم دونوں کا ضلع ایک ہی ہے۔ افسوس ہم ایسے عہد میں آگئے ہیں جس میں لوگ زبان سے موت کا اعتراف کرتے ہیں لیکن شاید وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو موت نہیں آنی ہے۔ خدا مرحوم کی روح کو تسکین عطا کرے۔ پروفیسر محمد کاظم نے کہا کہ لمبے عرصے تک ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان کا خلوص ہمیشہ یکساں رہا چاہے وہ صدر شعبہ ہوں یا نہ ہوں۔ ان کی شفقتیں اب ہمیشہ کرب کا احساس دلائیں گی کہ اب ان کے جیسا مشفق نہیں رہا۔ ڈاکٹر امتیاز احمد نے کہا وہ اچھے دوست اور استاد کے اوصاف کی دولت رکھتے تھے اور لکھنے پڑھنے سے ان کا رشتہ آخر تک قائم رہا۔ ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے کہا کہ مجھے پروفیسر ابن کنول صاحب کی شاگردی کا شرف حاصل ہے۔ ان کی ہمیشہ خواہش ہوتی تھی میرے شاگرد اچھے مقام پر پہنچ جائیں۔ ایسے مخلص استاد بہت کم ہوتے ہیں۔ خدا ان کو جنت میں بلند مقام عطا کرے۔ جناب اقبال فردوسی نے مرحوم نے حسن اخلاق کا ذکر کرتے ہوئے ایک تعزیتی نظم پیش کی۔ جلسے کے بعد دو منٹ کی خاموشی اختیار کر کے مرحوم کی تسکین روح کے لیے دعا کی گئی۔












