ممبئی، ادھو ٹھاکرے نے کہا ’’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ بالا شیو ٹھاکرے کا چہرہ چاہتے ہیں، وہ انتخابی نشان چاہتے ہیں لیکن شیو سینا کا خاندان نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو مہاراشٹر آنے کیلئے بالا صاحب ٹھاکرے کے ماسک کی ضرورت ہے۔ ریاست کے لوگ جانتے ہیں کہ کون سا چہرہ اصلی ہے اور کون سا نہیں‘۔چوروں کو مقدس ’تیر اور کمان‘ دیا گیا ہے، اسی طرح ’مشال‘ بھی چھینی جا سکتی ہے۔ میں ان کو چیلنج کرتا ہوں۔ اگر وہ مرد ہیں تو چوری شدہ ’تیر اور کمان‘ کے ساتھ ہی ہمارے سامنے آئیں، ہم ’مشعل‘ کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔ یہ ہمارا امتحان ہے، جنگ شروع ہو چکی ہے‘۔ان کا یہ تبصرہ اس وقت آیا جب الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایکناتھ شندے کے دھڑے کو حقیقی شیوسینا کے طور پر تسلیم کیا۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ بال ٹھاکرے کا چہرہ چاہتے ہیں، وہ انتخابی نشان چاہتے ہیں لیکن شیو سینا کا خاندان نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو مہاراشٹر آنے کیلئے بالا صاحب ٹھاکرے کے ماسک کی ضرورت ہے۔ ریاست کے لوگ جانتے ہیں کہ کون سا چہرہ اصلی ہے اور کون سا نہیں ہے!انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ چوروں کو مقدس کمان اور تیر دیا گیا تھا، اسی طرح مشعل بھی وہ چھین سکتے ہیں۔ میں ان کو چیلنج کرتا ہوں۔ اگر وہ مرد ہیں تو چوری شدہ کمان اور تیر لے کر بھی ہمارے سامنے آئیں، ہم مشعل کے ساتھ الیکشن لڑیں گے۔ یہ ہمارا امتحان ہے، جنگ شروع ہو چکی ہے۔ٹھاکرے کو گزشتہ جون میں مہاراشٹر کے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا جب شندے نے ٹھاکرے کی قیادت کے خلاف بغاوت کی، جس میں سینا کے 56 میں سے 40 ایم ایل ایز اور اس کے 18 لوک سبھا ممبران میں سے 13 کی حمایت کا دعویٰ کیا گیا۔ سن روف والی کار سے مضافاتی باندرہ میں ٹھاکرے کی رہائش گاہ ’ماتوشری‘ کے باہر پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ادھو نے ایکناتھ شندے کے دھڑے کو چیلنج کیا اور کہا کہ لڑائی شروع ہو گئی ہے۔ اب یہ فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر شندے چوری شدہ کمان اور تیر کو نہیں اتار سکیں گے اور وہ افسانوی راکشس راون کی طرح گر جائیں گے جو شیو دھنش کو نہیں اٹھا سکتا تھا۔












