دیوبند، مدرسہ کنزالعلوم ٹڈولی میں 41ویں سالانہ اجلاس عام کا انعقاد کیاگیا،جس میں امسال 25 حفاظ و قراءکی دستار بندی عمل میں آئی ۔جلسہ کی صدارت مولانا محمد عارف ابراہیمی رکن شوریٰ جامعہ مظاہر علوم سہارنپوراور سرپرستی مولانا حبیب اللہ مدنی صدر جمعیت علماءضلع سہارنپور نے کی ۔پروگرام کا آغاز قاری محمد ثاقب کی تلاوت قرآن کریم اورمحمد مقدس ابراہیمی کی نعت پاک سے ہوا ، نظامت کے فرائض مفتی محمد طیب استاذ حدیث جامعہ بدرالعلوم گڑھی دولت نے انجام دیئے۔اس موقع پر مولانا محمد عاقل و مفتی محمد پرویز ایوبی نے تعلیمی رپورٹ پیش کی اورتمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا محمد نسیم بارہ بنکی نے اپنے خطاب میں تعلیم و تربیت کی طرف توجہ دلائی اور کہاکہ ہر گھر سے کم از کم ایک حافظ و عالم دین تیار ہو نا چاہئے۔ انہوںنے علم کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مولانا محمد توقیر صدر شعبہ انگریزی زبان دارالعلوم دیوبند نے اخلاص و للہیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اخلاص کے بغیر ہر اچھے سے اچھا کام بھی ناقص اور ادھورا رہتا ہے ، اس لیے ہم سب کو اخلاص و اللہ کی رضامندی و خوشنودی کے لئے کام کرنا چاہیے ۔مولانا ظہورقاسمی ضلع صدر جمعیتہ علماءہند نے سماجی برائیوں بالخصوص عوام کو نشہ کی قباحت اور مہلک اثرات کی طرف توجہ دلائی اور کہاکہ ہر محلے کی مسجد میں ایک ایسی فعال کمیٹی قائم ہونی چاہئے جو بچوں کو اس مہلک مرض سے بچانے کے لئے موثر انداز میں کام کرے۔مولانا عبد الرشید مہتمم فیضان رحیمی مرزا پور نے بھی اپنے خطاب میں عوام کو ہر قسم کی برائی اور گناہ سے باز رہنے کی تلقین کی اور اللہ کے رسول کے طریقہ کے مطابق زندگی گزارنے پر زور دیا۔مولانا محمد عاقل مہتمم وشیخ الحدیث جامعہ بدرالعلوم گڑھی دولت نے اپنے خطاب میں علماءکی قدر دانی اور فضیلت پر زور دیا اور کہاکہ ہمیں کوئی ایسا کام اور عمل نہیں کرنا چاہیے کہ جو ان کی ناقدری اور پریشانی کا باعث بنے ۔انہوں نے کہاکہ بزرگوں اور اللہ کے نیک بندوںکی قربت سے رضاءالٰہی حاصل ہوتی ہے۔ جامعہ احمد العلوم خانپور کے مہتمم مفتی محمد عمران قاسمی نے مدارس اسلامیہ کی ضرورت و اہمیت کو بیان کیا۔ مولانا حبیب اللہ مدنی نے اپنے خطاب میں تعلیم و تربیت کی اہمیت اور اس کے حصول پر زور دیا اور اس سلسلے میں عوام کو بیدار رہنے کی تلقین کی اور مدارس کی ہر طریقہ سے تعاون کرنے پر زور دیا۔ مولانا مدنی کی دعاءپر جلسہ کا اختتام ہوا۔












