نئی دہلی ، یہ بہت دلچسپ ہے کہ الیکشن کمیشن نے شیو سینا کا فیصلہ کر لیا ہے لیکن لوک جن شکتی پارٹی کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ چراغ گروپ کا کہنا ہے کہ جس منطق کی بنیاد پر الیکشن کمیشن نے ایکناتھ شندے کے دھڑے کو اصلی شیو سینا مان کر اسے تیر اور کمان کا انتخابی نشان دیا ہے، اسی منطق کی بنیاد پر لوک جن شکتی پارٹی کے پشوپتی کمار پارس دھڑے کو ہوجانا چاہیے اس قیاس کو لےکر پارس خیمہ خوش فہمی میں ہے اور چراغ گروپ تذبذب میں ۔پارس گروپ کا کہنا ہے کہ حقیقی ایل جے پی اسی کو سمجھی جائے گااور اسے’ جھونپڑی‘ نشان دیدیا جائے گا۔واضح ہو کہ 2021 سے شروع ہونے والا لوک جن شکتی پارٹی کا تنازعہ ابھی تک ختم نہیں ہوسکا ہے، لیکن 2022 میں شروع ہونے والا تنازعہ الیکشن کمیشن نے حل کرلیا ہے، جب کہ دونوں کی کہانی ایک جیسی ہے۔ جس طرح شیو سینا ٹوٹ گئی، الیکشن کمیشن نے دونوں کو عارضی نام اور انتخابی نشان دیدیاہے، اسی طرح اس نے لوک جن شکتی پارٹی کو بھی دیا۔ اب تک پارس اور چراغ کے دھڑے اسی سے کام کر رہے ہیں۔اس لیے کارکنان کو ایسا لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ بی جے پی کی انتخابی ضروریات کے مطابق لیا گیا ہے۔ بی جے پی کو ابھی بہار میں فیصلے کی ضرورت نہیں ہے، جب کہ مہاراشٹر میں اس کی ضرورت ہے کیونکہ ممبئی سمیت کئی بڑے شہروں میں بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں۔ اگر شنڈے دھڑے کو شیوسینا کا نام اور انتخابی نشان نہ ملتا تو وہ ممبئی کی لڑائی میں معمولی حیثیت بھی حاصل نہیں کر پاتی۔ اس وقت اس کا فیصلہ ہوا۔ بہار میں بھی لوک سبھا انتخابات سے پہلے فیصلہ لیا جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی پارس اور چراغ دھڑے کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اگر کوئی تال میل نہیں ہے تو یہ تقریباً طے ہے کہ بہار میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ مہاراشٹر سے مختلف ہوگا۔ ایل جے پی کے چھ میں سے پانچ ممبران پارلیمنٹ پارس دھڑے کے ساتھ ہیں لیکن حقیقی ایل جے پی کا نام اور انتخابی نشان چراغ پاسوان کو دیا جائے گا، جو واحد ایم پی ہیں۔ وہ رام ولاس پاسوان کے بیٹے ہیں اور ان کی سیاسی وراثت ہے۔ دوسری بات، وہ بی جے پی کے تئیں بہت نرم ہیں اور خود کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ہنومان کہتے ہیں۔












