نئی دہلی اسلام ایک آفاقی اور ابدی مذہب ہے، اس نے انسانی معاشرے کے مختلف مسائل کے حل اور انسانی زندگی کی تمام ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنا منظم حکم نازل کیا ہے۔آج اسلام کو سمجھنے اور اس کی تعلیمات کو پرکھنے کا رجحان یہاں پر نظر آتا ہے۔ عالمی سطح پر عالمی حالات کے پیش نظر اسلام کو عملی انداز میں پیش کرنے اور دعوت و تبلیغ کے عصری اسلوب کو اپناتے ہوئے عالم انسانیت کے لیے اسلام کی شکل میں ایک متبادل طرز زندگی کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر اختر الواسع نے اپنے صدارتی خطبہ میں کیا۔للتا پارک ایک مینار جامع مسجد لکشمی نگر دہلی مےں چل رہے جامعہ شاہ ولی اللہ دہلی کے تحت منعقدہ دستار تکمیل حفظ وافتاو مفتیان ہند کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرتے ہوئے علماءکرام مشترکہ طور پر مفتی عبدالواحد قاسمی کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں وسائل کی کمی کے باوجود علمائے کرام منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں جو کہ قابل تقلید ہے۔اس موقع پر محب العلما الحاج حفیظ اللہ شریف نے تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علماءکرام انبیاءکے حقیقی وارث ہیں ان کا خیال رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے تنظیم کو ایک لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔غور طلب ہے کہ ولی اللہ دارالافتاءآئی آر ڈبلیو ایف اکےڈمی کے دو طالب علم حافظ محمد صادق للیتاپارک اور حافظ محمد انس نبی کریم کی دستار بندی،نیز ادراہ سے قاری احمد کو تجوید کی سند،دو عالم مولانا طیب مکی سلیم پور کیدستار فضیلت کے ساتھ ادارہ سے فارغ ہوئے چار مفتیان کرام مفتی ممتاز قاسمی مادی پور،مفتی افشان قاسمی وزیر آباد مفتی غلام محمد قاسمی اور مفتی سید مشکورکی افتا ءکی دستار بندیکی گئی اور انہےں افتا کی سندبھی دی گئی ۔اس سے قبل کے سالوں مےں ادارہ کے تربیت یافتہ ائمہ کرام مفتی کنور شکیل ترکمان گیٹ، مفتی مشاہد حسین پٹنہ والی مسجد باڑہ ہندراؤ، مفتی محمد طیب بلی ماران، مفتی محمد مسعود دہلی گیٹ، مفتی محمد خالد قاسمی مفتی لونی، مفتی محمد اشرف امینی، مفتی محمداکرم قاسمی بابری مسجد نبی کریم ، مفتی محمد ساجد قاسمی، مفتی محمد عادل قاسمی،مفتی محمد فاضل قاسمی ،مفتی محمد سلمانقاسمی سنگم وہار ، مفتی گلفام قاسمی منڈاؤلی، مفتی محمد رفیع قاسمی، مفتی صلاح الدین جعفرآباد اور مفتی مبین سمیت کل 18 مفتیوں کو ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ یہ ایوارڈ عالمیت کے درجے مےں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کوتشجیعی ایوارڈ دےئے گئے ۔
اس موقع پر پروفیسر اختر الواسع، حفظ اللہ شریف، شہ روز طارق رضا ایڈیٹر روزنامہ دور جدید، ڈاکٹر اسرار عالم، آزاد ڈائریکٹر منار ہدی، ڈاکٹر عمران احمد چودھری، سوامی وشوا آنند جی مہاراج، ڈاکٹر پروفیسرریاض القمر ڈائریکٹر مولانا آزاد میڈیکل کالج، مولانا جاوید صدیقی قاسمی، اور ڈاکٹر مفتی آصف اقبال کو مولانا ابوالکلامآزاد ایوارڈ سے نوازا گیا، جب کہ مولانا منہاج احمد قاسمی چیف رپورٹر روزنامہ ”ہمارا سماج“ کو”القلم“ ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا ۔ سرفراز علیگ، مولانا اعجاز الرحمن قاسمی اور مشہور شاعر طالب رامپوری کو القلم ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس موقع پر پروگرام کے کنوینر مولانا مفتی عبدالواحد قاسمی تھے۔جبکہ تلاوت قاری احمد اور قاری شعیب کے نعت سے جلسہ کا آغاز ہوا۔ دارالافتاءکی اہمیت بیان کرتے ہوئے ادارہ سے فارغ ہونے والے مفتی ممتاز احمد قاسمی نے کہا کہ فتاوی شرعی حکم کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی اطاعت مسلمانوں پر لازم ہے، مولانا جاوید قاسمی صدیقی نے بھی اہم خطاب کیا، مفتی مختار، قاری عمران، قاری سہیل، قاری سفیان، مولانا حذیف الرحمن، مولانا تنویر، قاری عبد المنان، مولاناضیاءاللہ قاسمی، قاری ہارون، مفتی خبیب، مفتی عالم گیر، مفتی رحمت اللہ، قاری ثناؤ اللہ، ایف اسماعیلی، قاری یوسف سمیت ڈھائی سو سے زائد خواتین طلباء، طالبات اور نامور لوگوں نے شرکت کی۔ آخر میں مفتی عبدالواحد قاسمی امام و خطیب ایک مینار جامع مسجد للیتاپارک نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور مولانا فاروق مظہر اللہ شاہی امام و خطیب بھوگل جامع مسجد کی دعا پر جلسہ کا اختتام ہوا۔












