نئی دہلی ,دہلی کے میئر کے انتخاب کے 80 دنوں کے بعد بالآخر دہلی کو اپنا نیا میئر مل ہی گیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی شیلی اوبرائے دہلی کی نئی میئر بن گئی ہیں۔ عام آدمی پارٹی کی لیڈر شیلی اوبرائے نے 150 ووٹوں کے ساتھ انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بی جے پی لیڈر ریکھا گپتا کو 34 ووٹوں سے شکست دی۔دہلی کا میئرعہدہ حاصل کرنے کا سفراتنا بھی آسان نہیں تھا۔ دہلی میں گزشتہ سال 4 دسمبر کو میئر کے انتخاب ہوئے تھے۔ انتخاب کے نتائج 7 دسمبر کو آئے۔ انتخابی نتائج نے بی جے پی کو سب سے بڑا دھچکا پہنچایا اور عام آدمی پارٹی نے 250 وارڈوں میں سے 134 پر کامیابی حاصل کی۔اس سے قبل میئر کے انتخاب کے لیے 6 جنوری، 24 جنوری اور 6 فروری کو ایوان کا اجلاس بلایا گیا تھا لیکن تین بار ایوان میں ہنگامہ آرائی کے باعث میئر کا انتخاب نہیں ہوسکا۔ اس دوران دہلی کی سیاست پر میئر کے انتخاب کا مسئلہ چھایا رہا۔وہیںڈپٹی میئر کے امیدوار آل محمد اقبال نے 147 ووٹ حاصل کیے۔ دوسری جانب بی جے پی کی جانب سے ڈپٹی میئر کے عہدے کے امیدوار کمل باگڈی کو 116 ووٹ ملے۔ دہلی کے میئر کے انتخاب میں عام آدمی پارٹی کے شیلی اوبرائے کی جیت کے بعد بدھ کو پارٹی کے لیے ایک اور اچھی خبر آئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار آل محمد اقبال نے بھی ڈپٹی میئر کا عہدہ جیت لیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کی جانب سے ڈپٹی میئر کے عہدے کے امیدوار آل محمد اقبال کو 147 ووٹ ملے۔ ڈپٹی میئر کے لیے ایوان میں کل 265 ووٹ ڈالے گئے۔ جن میں سے 2 ووٹ باطل رہے۔ خاص بات یہ ہے کہ بی جے پی ایم پی گوتم گمبھیر ڈپٹی میئر کے انتخاب میں بی جے پی امیدوار کمل باگڈی کے حق میں ووٹ دینے ہاؤس نہیں پہنچے۔بی جے پی رہنماؤں نے گوتم گمبھیر کے لیے مزید وقت کا مطالبہ کیا، لیکن میئر نے کہا کہ ووٹنگ کا وقت ختم ہوچکا ہے اور انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ ڈپٹی میئر کے انتخاب میں 9 کے قریب کونسلروںنے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ ووٹنگ سوک سینٹر میں ہوئی۔ دہلی کو چوتھی کوشش میں اپنا میئر ملا کیونکہ نامزد اراکین کو ووٹنگ کا حق دینے پر ہنگامہ آرائی کے درمیان انتخاب پہلے ہی رک گیا تھا۔گزشتہ ہفتے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد میئر الےکشن کیلئے تاریخ متعین کیا۔دہلی کی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) انتخاب کرانے کیلئے ایوان کا اجلاس بلانے کی منظوری دے دی تھی۔اسی وقت، دہلی کی نو منتخب میئر شیلی اوبرائے نے بدھ کو کہا کہ عام آدمی پارٹی کی قیادت والی دہلی میونسپل کارپوریشن اگلے تین مہینوں میں لینڈ فل سائٹ کا معائنہ کرے گی۔
سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد آج مکمل ہونے والی پولنگ میں محترمہ اوبرائے کو 150ووٹ ملے ، جب کہ ان کی حریف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی امیدوار ریکھا گپتا کو پولنگ میں 116ووٹ ملے۔ گزشتہ 10برسوں میں پہلی بار دہلی کے میئر کے عہدے کیلئے خاتون میئر منتخب ہوئی ہیں۔ محترمہ اوبرائے دہلی کے پٹیل نگر اسمبلی حلقہ کے وارڈ نمبر 86سے کونسلر ہیں۔دہلی میونسپل کارپوریشن کی آخری خاتون میئر 2011میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی رجنی ایبی تھیں، جس کے بعد میونسپل کارپوریشن کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ 2022میں دہلی میونسپل کارپوریشن کے انضمام کے بعد کارپوریشن کا یہ پہلا الیکشن تھا۔ اس سے قبل، میئر کا انتخاب تین بار ملتوی کیا گیا کیونکہ اس سلسلے میں عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کے اراکین کے درمیان اس وقت ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جب بی جے پی نے نامز د اراکین سے ووٹ دلانے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد عام آدمی پارٹی نے عدالت عظمی سے رجوع کیا تھا۔جیت کے بعد، نو منتخب میئر شیلی اوبرائے نے کہا’ہم وزیر اعلیٰ کجریوال کی طرف سے لوگوں کو دی گئی ’10ضمانتوں‘ پر کام کریں گے‘۔وزیر اعلیٰ اروند کجریوال نے محترمہ شیلی اوبرائے کی جیت کے بعد کہا’غنڈہ گردی ہار گئی ہے ، دہلی کے عوام کی جیت ہوئی ہے‘۔4 دسمبر کو دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بی جے پی کو 15سال بعد شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس الیکشن میں عآپ نے 134سیٹیں جیتی ہیں اور بی جے پی 104سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے ۔ کانگریس کو 9سیٹیں ملیں اور3سیٹیں دوسری پارٹیوں کے پاس گئی تھیں۔ 17فروری کو سپریم کورٹ نے میئر کے انتخاب کے معاملے کی سماعت کے بعد میئر کے انتخاب کا نوٹس 24گھنٹے کے اندر جاری کرنے کو کہا تھا اور فیصلہ سنایا تھا کہ نامزد اراکین کو ووٹ دینے کا حق نہیں ہوگا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ میئر کے انتخاب کے بعد ہی’ڈپٹی میئر کا انتخاب کرایا جا سکتا ہے ۔












