نئی دہلی ، مختلف سرکل میں تعینات تقریبا چار ہزار پولس اہلکاروں کو پندرہ دن کے اندر دوسرے سرکل میں بھیج دیا ہے پولس ہیڈ قوارٹر کی جانب سے ملی اطلا ع کے مطابق تمام اہلکاروں کو 13مارچ تک اگلے سرکل میں جانے کی ہدایت دی گئی ہے نئے سرکل میں آئے پولس اہلکار کو علاقہ کے بارے میں جانکاری کم ہے بتایا جاتا ہے کہ روٹ کی جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک پر بھی اثر پڑ سکتا ہے جانکاری کے مطابق ٹریفک پولس کے نظام میں تقریبا5000 ہزار پولس اہلکار تعینات ہیں عام طور پر ایک سرکل میں کم سے کم چھ ماہ سے ایک سال کا وقت ایک سرکل میں گزارنا ہوتا ہے اس کے بعد دوسرے سر کل میں ٹرانسفر کردیا جاتا ہے لیکن ایسا کرتے وقت کچھ باتوں کا دھیان رکھا جاتا ہے کہ 20 سے25 فیصد پولس اہلکاروں کا ہی تبادلہ ہو تا ہے کہ ٹریفک سرکل ڈسٹرب نہ ہو لیکن اس مرتبہ90 فیصد تبادلے صرف15 دن کے اندر کردئے گئے ہیں جن میں سپاہی سے لیکر سب انسپیکٹر سطح کے افسران بھی شامل ہیں تمام سرکل میں دوسرے پولس اہلکاروں کو بھیج دیا گیا ہے کئی پولس اہلکار تو ایسے ہیں جنیہں محض ایک ماہ ہی ہوا تھا ذرائع کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر تبادلے کی وجہ سے ٹریفک پر قابو پانے پر بھی اثر پڑ ے گا ٹریفک پولس اہلکاروں کو اپنے سرکل کے بارے میں اچھی جانکاری ہوتی ہے دوسرے سرکل کی جانکاری میں وقت لگ جاتا ہے ٹریفک پولس کے ذریعہ 23فروری کو 1367پولس اہلکاروں کے تبادلے کئے گئے تھے ان میں اے ایس آئی اور ایس آئی شامل تھے اس کے بعد9 مارچ کو 2602 ٹریفک پولس اہلکاروں کے تبادلے کئے گئے تھے ان میں سپاہی اور حولدار شامل ہیں ان میں200 ایسی خواتین سپاہی بھی ہیں جو ٹریفک میں پہلی بار آئی ہیں ان پولس اہلکاروں کو13 تک اگلے سرکل میں پہوچنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔












