نئی دہلی، عہد حاضر میں کہ جب سائنس و ٹیکنالاجی اپنے شباب پر ہے اور لوگ اس کو دیکھ کر جدیدیت یا ماڈرنٹی کا تصور کرتے ہیں تو ایسے میں معروف صحافی اور سابق مرکزی وزیر ایم جے اکبر نے تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے جدیدیت کے بالکل الگ مفہوم بیان کیے ۔ انھوں نے کہا کہ ماڈرن ازم ، ماڈرنٹی یا جدیدیت کا مطلب چمک دمک نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جمہوری آزادی سے ہے ، جہاں بولنے ، کچھ کہنے ، کچھ سننے اور کچھ کرنے کی آزادی ہے وہاں جدیدیت ہے اور یہ دماغ میں ہوتی ہے۔انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں خسرو فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ تقریب میں ” 21ویں صدی میں جدیدیت کا مفہوم “ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر اکبر نے کہا کہ مغل امپائر ہو یا آٹومن امپائر ان کا زوال اسی لیے ہوا کہ انھوں نے جدیدیت کو قبول نہیں کیا ۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم آج کی بات کریں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ چین میں جدیدیت نہیں ہے یا چین ماڈرن نہیں ہے کیونکہ وہاں جمہوری آزادی نہیں ہے ۔ وہاں ممکن ہے کہ کمیونسٹوں کے لیے آزادی ہو لیکن مسلمانوں پر پابندیاں عائد ہیں ، وہ بول نہیں سکتے ، کچھ کہہ نہیں سکتے ۔ انھوں نے کہا کہ جہاں جہاں عورتوں کے حقوق ادا کیے گئے ، ان کو بولنے کی آزادی دی گئی ، ان کو برابری کا درجہ دیا گیا وہاں ماڈرنٹی کا تصور ہے ۔ انھوں نے اس معاملہ میں ہندوستان کی تعریف کی ۔ ایم جے اکبر نے تاریخ وسطیٰ سے لے کر جدید تاریخ تک پر روشنی ڈالی ۔ انھوں نے کہا کہ اقلیت اور اکثریت کیا ہے ؟ انھوں نے کہا کہ جب مغلوں کی حکومت تھی تو کیا مسلمان اکثریت میں تھے ؟ نہیں تھے لیکن کیا انھیں اقلیت مانا گیا ؟ نہیں مانا گیا کیونکہ وہ پاور میں تھے ۔انھوں نے کہا کہ یہ اقلیت اور اکثریت کا تصور پاور سے ہے تعداد سے نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ در اصل جدیدیت انسان کے دماغ میں ہوتی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حجاب پہننے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ماڈرنٹی کے خلاف ہیں۔یہ تصور غلط ہے ۔ اپنے قریب ایک گھنٹے کے خطاب میں انھوں نے کئی اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔انھوں نے اسلام اور مسلمان کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ یہ نعرہ خطرناک تھا کہ اسلام خطرے میں ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ اسلام خطرے میں کیسے ہو سکتا ہے ، مسلمان ہو سکتا ہے ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اپنے صدارتی خطبہ میں ایم جے اکبر کی باتوں کی تائید کی اور کہا کہ یہ بالکل درست ہے کہ جمہوریت کے بغیر جدیدیت کا تصور ممکن نہیں ہے ۔ آپ کا حسن سلوک کیسا ہے ؟ آپ کا رویہ کیا ہے ؟ آپ کی فکر کیا ہے ؟ یہ سب دیکھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ جدیدیت ہے یا نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ کووڈ 19نے بہت کچھ بدل دیا ۔ انھوں نے کہا کہ 21ویں صدی میں ماڈرنٹی کا مطلب گڈ گورننس ہے ۔ خسرو فاونڈیشن کے صدر پدم شری پروفیسر اخترالواسع نے سب سے پہلے دونوں مہمانوں کا بھرپور تعارف پیش کیا اور ان کی علمی خدمات کا اعتراف کیا ۔ شکریہ ادا کرنے کے لیے آئے خسرو فاؤنڈیشن کے فاونڈر ڈائریکٹر اور آئی آئی سی سی کے چیئرمین سراج الدین قریشی نے کہا کہ میں سوچ رہا تھا کہ سائنس نے انسان کو کمزور کیا یا مضبوط کیا ؟ انھوں نے کہا کہ جب میں ریڈیو کے زمانہ پر غور کرتا ہوں تو بھی حیرت ہوتی تھی اور آج موبائل کو دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے اور آنے والے دنوں میں نہ جانے کیاکیا آئے گا ۔ انھوں نے کہا کہ ایم جے اکبر نے تاریخ پر روشنی دالی اور تاریخ ایسی چیز ہے کہ جس میں سب کچھ سمٹ جاتا ہے ۔اس موقع پر خسرو فاونڈیشن کی جانب سے شائع کی گئی کتاب ” ہندی ادب میں مسلم ادیبوں کا حصہ “ کا اجراءبھی عمل میں آیا ۔ اس کتاب کے مصنف آصف عمر ہیں اور یہ کتاب پہلے ہندی میں شائع ہو چکی ہے اب اس کا ترجمہ اردو میں فاروق ارگلی نے کیا ہے ۔ اس موقع پرانڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے نائب صدر ایس ایم خان ، جمشید زیدی ، شمیم سوتوالے ، سلیم شیرازی ، فرید بک ڈپو کے پبلشر محمد ناصر، ڈاکٹر حفیظ الرحمن،صحافی نیلم مہاجن سمیت کئی اہم شخصیات نے شرکت کی ۔












