بنگال میں ترنمول کانگریس کو احساس ہو گیا ہے کہ یہاں کے سیاسی حالات اچھے نہیں ہیں۔ساگر دیگھی ضمنی الیکشن میں ترنمول کی ہار اور کمیونسٹ اور کانگریس کے مشترکہ امیدوار کی جیت نے ممتا بنرجی کے ماتھے کی شکن کو بڑھا دیا ہے۔ممتا بنرجی نے اس کے لئے پانچ مسلم لیڈروں کی ایک کمیٹی بھی بنائی ہے جو شکست کی وجوہات کا پتہ لگا کر جلد ہی ممتا بنرجی کو رپورٹ پیش کرے گی۔ممتا بنرجی مرشدآباد کے ساگر دیگھی سیٹ پر اپنی شکست کو ایک اتفاق سمجھنے کی غلطی نہیں کریںگی کیونکہ وہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور مغربی بنگال میں ترنمول کے اقتدار کی کہانی مسلمان ہی لکھتے ہیں۔
ممتا بنرجی جو خود ایک زمینی سیاستداں ہیں کے لئے کانگریس کی یہ جیت خطرے کی گھنٹی بھی ہے کیونکہ ذاتی طور پر انہیں خوب معلوم ہے کہ ان کے اقتدار کی کرسی اسی ووٹ بینک کے کندھوں پر رکھی ہے جو کبھی کانگریس کے پاس تھی اور بعد میں لیفٹ فرنٹ نے اسے کانگریس سے چھین لیا تھا۔ایسے میں مسلمانوں کی ہمدردی اگر ایک بار پھر کانگریس اور لیفٹ فرنٹ سے بڑھ رہی ہے تو یہ ان کےلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ساگر دیگھی میں شکست کے بعد سے اب تک ممتا بنرجی کمال ہوشیاری سے میڈیا کے ذریعہ یہ باور کرانے کی کوشش کرا رہی ہیں کہ بنگال میں کانگریس اور لیفٹ فرنٹ کے لیڈر بی جے پی سے مل کر انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ساگر دیگھی میں یہی ہوا ہے۔ اس طرح ممتا بنرجی اپنے طور پر اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کر رہی ہیں اور ہر سیاسی پارٹی ایسا ہی کرتی بھی ہے۔لیکن یہ سچائی نہیں ہے اس کا اندازہ خود ممتا بنرجی کو بھی ہے۔ان کو معلوم ہے مسلمان ووٹر کا بڑی تعداد میں بی جے پی کی طرف یا اس کے کسی محاذ کی طرف بڑھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔علاقائی سطح پر امید وار کی شخصیت سے متاثر ہوکر ایک دو فیصد ووٹ کا ادھر ادھر ہو جانا فطری ہے۔ممتا بنرجی کوتو اس کا اندازہ بھی ہے کہ این ڈی اے حکومت کے ساتھ مل جانے اور باجپائی حکومت میں وزیر رہنے کی وجہ سے آج بھی مسلمان ان کو شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔2014 کے بعد مغربی بنگال میں ان کی طرف مسلمانوں کا راغب ہونا بی جے پی کے اقتدار میں آ جانے کے خوف کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ گذشتہ انتخاب میں انہیں جو غیر معمولی کامیابی ملی ہے وہ نہ تو ان کی شخصیت کا جادو ہے اور نہ ہی ان کے پروگرام اور پالیسی کا کرشمہ۔ان کی کامیابی بی جے پی کا حد سے زیادہ مشتعل ہو جانا ہے۔بی جے پی نے بنگال کا چناو¿ بھی یوپی کی طرز پر بنگال میں لڑنے کی کوشش کی اور 80بنام 20کے فارمولے پر انتخابی مہم کو چلانے کی کوشش کی جو اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوا اور تقریباً 40فیصد مسلمان ممتا کے ساتھ کھڑے ہو گئے،نتیجہ یہ ہوا کہ مغربی بنگال میں لیفٹ اور کانگریس زیرو پر آؤ ٹ ہو گئی۔ممتا بنرجی کے سامنے گذشتہ انتخاب کا پورا ڈاٹا موجود ہے، انہیں دیکھنا چاہئے کہ ہندو ووٹرس نے انہیں نہایت قلیل تعداد میں ووٹ دئے ہیں اور اگر مسلمانوں کے کل ووٹ کا پچیس فیصد ووٹ بھی بکھر جاتا تو آج بنگال میں بی جے پی کی حکومت ہوتی۔دیدی کو اس انتخاب کے بعد ہی اس کا اندازہ ہو جانا چاہئے تھا اور یہ کوشش کی جانی چاہئے تھی کہ مسلمانوں کے ووٹ فیصد کو سنبھال کر رکھنے کی کوشش کرتیں لیکن انہوں نے لگاتار اس پالیسی کی خلاف ورزی کی اور مسلمانوں کو اپنے نام نہاد مسلم لیڈروں کے حوالے کر کے خود مرکزی سیاست کے اعلیٰ عہدے تک رسائی کےلئے بھاگ دوڑ کرنے لگیں۔اور ان کے مسلم قائدین جن میں اکثریت پرموٹروں کی ہے وہ اپنے کاروبار میں لگ گئے۔نتیجہ یہ ہوا کہ نہ خدا ہی ملا اور نہ وصال صنم ہی ہو سکا۔مرکزی سیاست میں آنے کے لئے بھی انہوں نے ’آپ‘ کی طرح کانگریس کو ہی حذف کرنے کی کوشش کی اور جب شرد پوار نے انہیں صاف لفظوں میں سمجھا دیا کہ کانگریس کے بغیر کسی بھی حزب اختلاف کے محاذ کا کوئی مطلب نہیں ہے تو وہ کانگریس کے وجود سے ہی انکار کرنے لگیں۔آج جب وہ کانگریس اور لیفٹ فرنٹ پر یہ الزام لگاتی ہیں کہ وہ بی جے پی کے ساتھ مل چکے ہیں اس وقت انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے کہ ان کی پارٹی نے مودی حکومت میں کب مسلم مسائل پر کانگریس کا ساتھ دیا ہے ؟
وہ چاہے سی اے اے ہو، دفعہ 370 ہو یا تین طلاق کا مسئلہ ،ان کے ممبران نے ہمیشہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں واک آؤ ٹ کر کے بی جے پی کی حمایت کی ہے۔یہاں تک کہ اپنے بھتیجے اور دیگر لیڈروں کو ای ڈی اور سی بی آئی سے بچانے کےلئے انہوں نے ناگپور تک کا سفر کیا۔اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان ایک بار پھر انہیں شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔ریاستی سطح پر کانگریس اوراس سے زیادہ لیفٹ فرنٹ نے مرچ مصالحہ لگا کر اور این ڈی اے کے زمانے کے بی جے پی سے ان کے تعلقات کا حوالہ دے کر ان کے خلاف مہم چلائی جو آج بھی جاری ہے۔کوڑھ میں کھاج اس وقت ہوا جب پھر پھرا شریف کا ایک پیر زادہ ان سے بغاوت پر اتر آیا اور نہ یہ کہ اس نے اپنی ایک الگ پارٹی بنا لی بلکہ بنگالی مسلمانوں میں ممتا بنرجی کے خلاف باضابطہ کام کرنا شروع کر دیا۔یہاں بھی ممتا بنرجی اس طرح ناکام ہوئیں کہ بجائے نوشاد صدیقی کو رام کرنے کے وہ طہ صدیقی پر ہی تکیہ کئے رہیں اور ان کے اشارے پر نوشاد صدیقی کے خلاف نہ صرف یہ کہ تشدد کا راستہ اختیار کیا بلکہ اسے اٹھاکر جیل رسید کر دیا۔آج مغربی بنگال کے عام مسلمان خود کو بالکل ٹھگا ہوامحسوس کر رہے ہیں۔مسلمانوں کی طرف ممتا کی کوئی توجہ نہیں ہے۔اردو اکیڈمی ہو یا مسلم یتیم خانہ ،وقف بورڈ ہو یا محمڈن اسپورٹنگ کلب ،طبیہ کالج ہو یا عالیہ یونیورسٹی یا پھر اردو اسکولوں کی ایک پوری فہرست سب اپنی خستہ حالی کا رونا رو رہے ہیں اور ممتا سرکار کی نا اہلی کا اشتہار بنے ہوئے ہیں۔اور حالت یہ ہے کہ آج اگر مغربی بنگال میں انتخاب ہو جائے تو کانگریس اپنی تمام خامیوں کے باوجود لیفٹ فرنٹ کے ساتھ مل کر ترنمول کانگریس کے مسلم ووٹ بینک میں اتنا بڑا شگاف کر دے گی کہ ممتا بنرجی اسے رفو بھی نہیں کر پائینگی اور انہیں لامحالہ بی جے پی کا دامن تھام کر خود کو اور اپنے بھتیجے کو جیل جانے سے بچانا ہوگا۔












