سائنسی ایجادات انسانی زندگی کو آسان بناتی ہیں۔انسان جب سے زمین پر آیا ہے اس نے ہر دن اپنی زندگی کو آسان بنانے کی طرف قدم بڑھائے ہیں ۔موجودہ دور میںمحیر العقول سائنسی ایجادات صرف انسان کی عقل کا کارنامہ نہیں ہے بلکہ خالق کائنات نے حسب ضرورت اس کی رہنمائی کی ہے اور خام مال فراہم کیا ہے۔اس لیے کہ عقل کے لحاظ سے تو جو لوگ گزر گئے وہ زیادہ عقل مند تھے ۔لہٰذا یہ تسلیم کرنا چاہئے کہ یہ ایجادات من جانب اللہ ہیں ،اسی نے انسان پر الہام کیا ،اسی نے کامیابی دی ۔اب جس انسان نے اس جانب قدم بڑھائے ،فطرت کی رہنمائی اسی کے حصے میں آئی ۔مسلمان بھی ایک طویل عرصے تک انسانیت کی بھلائی کے لیے زندگی کو آسان اور پرامن بنانے کی جدو جہد کرتے رہے ۔لیکن گزشتہ چار سو سال سے بحیثیت قوم انھوں نے یہ عمل ترک کردیا ہے ۔اب ان کے ہاتھوں میں تسبیح کی مالائیں ہیں ،جن پر وہ خدا نام جپ رہے ہیں،ملت کو ناکارہ بنانے اور اقتدار سے محروم کرنے کے لیے ابلیس نے اپنے کارندوں کو جو نسخہ بتایا تھا وہ کارگر ہوگیا ہے ۔بقول اقبال:
مست رکھو ذکرو فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
گزشتہ سو سال میں انسان نے سائنسی دنیا میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے ۔ایک ایک دن میں کئی کئی سال کی جست لگائی ہے ۔ٹیلی کمیونیکشن کی دنیا میں 1867میں الگزینڈر گراہم بیل نے پہلا ٹیلی فون بنایا۔ٹرانسپورٹیشن کے میدان میںرائٹ برادران نے سب پہلا جہاز جو صرف 59سیکنڈ ہوا میں رہا تھا 1903میں اڑایا تھا ۔طب کی دنیا میں بھی حیرت انگیز انقلابات آئے ۔دل ،گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے بارے میں سو سال قبل کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔یہاں تک کہ اب جنس بدلی جانے لگیں۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان ایجادات میں خیر امت کا کوئی رول نظر نہیں آتا ۔البتہ دل کوخوش کرنے کے لیے ہمارے دانشور کہتے ہیں کہ انگریزوں نے یہ ایجادات مسلمانوں کی تحقیقات سے استفادے کے بعد کی ہیں ،مجھے بھی تسلیم ہے ،لیکن یہ بات فخر کرنے کی نہیں بلکہ ڈوب مرنے کی ہے کہ ہم اپنے اجداد کے علمی ورثہ سے کوئی استفادہ نہ کرسکے۔
اس وقت جس میدان میں سائنس نے زیادہ ترقی کی ہے یا ہردن نئی تبدیلیاں سامنے آرہی ہے وہ سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا میدان ہے ۔چھوٹا سا ایک موبائل ،علم کی ایک دنیا ہے ،گیان کا خزانہ ہے ۔اس ایجاد کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس سے استفادہ کرنے والے ہر طبقے کے لوگ ہیں ،مالدار ترین بھی اور فاقہ مست بھی ،عالم ،فاضل ،گیانی بھی اور جاہل ،گنوار بھی ۔اس ایجاد کے بے شمار فائدے ہیں ،دن رات دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اس سے مستفید ہورہی ہے ۔اس نے فاصلے کم کردیے ہیں ،گوگل سرچ انجن نے لائبریریاں قدموں میں لاکر ڈال دی ہیں ،اس نے زبان کو قوت گویائی دی ہے ،اب جس کی آواز حکومت و اقتدار دبانا چاہتا ہے اس کی صدا سوشل میڈیا کے دوش پر سوار ہوکر چاردانگ عالم میں پھیل جاتی ہے۔آپ پل بھر میں اپنے پیاروں کو دیکھ سکتے ہیں اور اپنے من کی بات سنا سکتے ہیں ۔اللہ کی اس نعمت پر جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ علماءکی تقریریں ،علمی مباحثے ،یوٹیوب پر موجود ہیں،فیس بک اور انسٹاگرام کے ذریعے دنیا بھر کے حالات و کوائف سے باخبر رہا جاسکتا ہے ،ٹیوٹر ہماری بات ایوان اقتدار تک بھی پہنچا دیتا ہے ۔طلبہ اپنے نصاب سے متعلق مواد حاصل کررہے ہیں ،ریاضی ،فزکس اور کیمسٹری کی مشکلات کا حل بھی موجود ہے ۔بیشتر زبانوں کی لغات اور ڈکشنریاں فراہم ہیں ،ٹرانسلیشن کی سہولیات مفت میں دی جارہی ہیں۔امریکہ میں بیٹھا ہوا ڈاکٹر بھارت کے مریض کا آپریشن کررہا ہے۔غرض آپ جتنا غور کریں گے ،اس کے فائدے دیکھتے جائیں گے۔
ہر چیز کے فائدے بھی ہیں تو کچھ نقصانات بھی ہیں ۔بعض نقصانات وہ ہیں جو خود اس شئی کی فطرت میں ہیں اور بعض نقصانات طریقہ استعمال میں ہیں ۔ہم جانتے ہیںکہ موبائل فون یا کمپیوٹر ،لیپ ٹاپ کے ذریعہ سوشل میڈیا کا استعمال ہوتا ہے ۔ان میں انٹرنیٹ کا کنکشن ہوتا ہے ،بہت زیادہ دیر تک ان کااستعمال صحت پر برے اثرات ڈالتا ہے۔نظر کمزور ہونا ،کمر اور گردن میں تکلیف ہونا عام شکایات ہیں جو پیدا ہوجاتی ہیں۔یہ وہ نقصانات ہیں جو بذات خود ان آلات کے استعمال سے حاصل ہوتے ہیں ۔اب سوشل میڈیاکے استعمال پر نظر ڈالیے تو اس کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔آج کے نوجوان میں ایک بڑی خرابی یہ آگئی ہے کہ وہ ہروقت سوشل میڈیا سے چپکا رہتا ہے ۔کھانا کھاتے وقت ،کہیں آتے جاتے ،ڈرائیونگ کرتے وقت بھی کانوں میں برڈس یا ایر فون لگی رہتی ہیں ،یہاں تک کہ واش روم میں بیٹھ کربھی چیٹنگ ہوتی رہتی ہے ۔اس کثرت استعمال نے اس کی توجہ اپنی صحت ،اپنے والدین کی خدمت ،سماجی کاموں میں اس کے رول ،کی طرف سے ہٹادی ہے ۔ایک طرف دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی ہے تو دوسری طرف اس کی وجہ سے آج کے نوجوان کو اپنے بغل والے کی شکل بھی یاد نہیں ہے ۔آپ ٹرین میں خاص طور پر دہلی میٹرو میں سفر کیجیے ،ہر نوجوان لڑکا اور جوان لڑکی اپنی دنیا میں مگن اور مست ہے ۔اس کے کانوں میں ایر فون لگی ہے ،اسے پیچھے ہٹو ،آگے بڑھو ،راستہ دیجیے ،ذرا کھسکئے کی آواز تک نہیں آتی ،نہ جانے کتنے لوگ اسی حالت میں ایکسیڈینٹ کا شکار ہوجاتے ہیں۔نگاہیں موبائل اسکرین پر ٹکی ہیں اس لیے کچھ دکھائی نہیں دیتا ،دماغ فرینڈزکی باتوں میں الجھا ہوا ہے اس لیے کچھ مزید سوچ نہیں سکتا ۔یہی حال گھر میں ہے ۔ہر بچہ اپنے کمرے میں اپنی گلوبل دنیا میں مصروف ہے ۔اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ گھر میں خالہ، ممانی ،ماموں آئے ہیں ۔لنچ اور ڈنر پر والدین ان کی صورت دیکھ لیتے ہیں،بات وہاں بھی نہیں کرسکتے کیوں کہ اولاد کے ایک ہاتھ میں چمچ ہے تو دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اسکرین اوپر نیچے کرنے میں مشغول ہیں ۔نئی نسل کی اس حالت نے اسے اپنے آس پاس کی دنیا سے بے خبر کردیا ہے ۔اسی کا نتیجہ ہے کہ بے روزگاری میں اضافے اور لاکھوں نوکریاں ختم ہونے کے باوجود سناٹا ہے ۔جو نسل اپنے گھر میں بوڑھے والدین کی حالت زار سے واسطہ نہیں رکھتی وہ ملک کی بگڑتی معیشت اور خطرے میں پڑتی سالمیت پر کیا شور مچائے گی ۔معاف کیجیے گا آج کی نئی نسل ملکی اور معاشرتی مسائل سے اس قدر کم دلچسپی رکھتی ہے کہ اگر ملک غلام بھی ہوجائے تو اس پر فرق پڑنے والا نہیں ہے ۔
سوشل میڈیا کے نقصانات میں سے ایک فحاشی و بے حیائی میں اضافہ ہے ،Entertainment کے نام پر گندی اور کھلی ہوئی بے شرمی کا مظاہرہ ہے ۔گالیوں اورجنسی بدتمیزیوں پر مشتمل ویڈیوز ہیں ،جو آج کی نوجوان نسل بنا بنا کر ڈال یوٹیوب اور دیگر سائٹس پر ڈال رہی ہے۔ پورنوگرافی ،سیکس کرتے ہوئے ویڈیوز،سیکس کی دوائیں وغیرہ کی بھرمار ہے ۔اس کے ذریعہ وہ پیسہ کمارہی ہے۔سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا ہے ۔عزتیں نیلام ہورہی ہیں ،زناکاری میں اضافہ ہورہا ہے ۔کبھی کبھی تو یہ سب دیکھ کر دل پکارتا ہے کاش دنیا نے ترقی نہ کی ہوتی ،ہم اُسی دور میں پیدا ہوگئے ہوتے جب آسائشیں کم تھیں مگر احترام زیادہ تھا۔بچوں کے پاس بزرگوں کے قصے سننے کا وقت تھا ،وہ اپنے گھر آئے ہوئے مہمانوں کو روکنے کے لیے ان کا جھولا چھپا دیتے تھے۔
اس صورت حال میں خدا کی یہ نعمت عذاب اور زحمت بن جاتی ہے۔حکومت نے آئی ٹی اور سائبر کرائم کے لیے قوانین بنائے ہیں ،ٹول فری نمبر بھی جاری کیا ہے ،لیکن سوشل میڈیا کے ذریعہ جو بے حیائی ،فحاشی اور عریانیت کی تجارت ہورہی ہے اس پر لگام کیسے لگے ؟اخلاقی اور سماجی قدروں کو پامال ہونے سے کیسے بچایا جائے ؟نئی نسل کو ملک کا معمار کیسے بنایا جائے ؟اس جانب کوئی توجہ نہیں ہے ۔ملت اسلامیہ جسے خیر امت بنایا گیا ہے ،امربالمعروف اور نھی عن المنکر جس کے فرائض میں شامل ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ اس بگاڑ میں کچھ زیادہ ہی پیش پیش ہے ۔برادران وطن کی نسلیں تو کسی حد تک سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کررہی ہیں ،لیکن مسلم نوجوانوں کی اکثریت بے شرمی و بے حیائی کی تشہیر میں لگی ہے ۔کیا خیر امت کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ وہ نئی نسل کو اس کے مضر اثرات سے بچائے ؟کیا کسی تنظیم کو اس کے سد باب کے لیے مہم نہیں چلانی چاہیے ؟مساجد کے ائمہ ،اسکولوں کے اساتذہ ،سماجی مصلحین ،مذہبی مبلغین کو اس پہلو پر غور کرنا چاہئے اور دل سوزی و محبت سے نسل نو کو سمجھانا چائیے ۔آئی ٹی کے مسلم پروفیشنلس کو اصلاحی مواد فراہم کرنا چاہئے ۔حکومت کو مخرب اخلاق مواد کو غیر قانونی قرار دینا چاہئے اور ایک مانیٹرنگ سسٹم بنانا چاہئے ،اسے اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کہ کوئی سائبر کرائم کے دفتر میں مطلع کرے ،پھر کارروائی کی جائے ۔یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ روحانی اور اخلاقی صحت کا بھی خیال رکھے ۔












