ملک میں فی الحال سیاسی انتقام کا دور ہے اور یہ انتقام حزب اختلاف کی سیاسی پارٹیوں سے لے کر مسلمانوں تک پھیلی ہوئی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمان اس انتقام کا شکار کیوں ہیں ؟اس کا جواب یہ ہے کہ جنگ آزادی سے لے کر آزاد ہندوستان کی از سر نو جمہوری طرز پر تعمیر میں مسلمانوں نے کانگریس کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا جو کانگریس کی مخالف شدت پسند جماعت آر ایس ایس کو ناپسند تھا کیونکہ اس کا موقف ملک کو ایک ہندو راشٹر بنانے کا تھا۔لہٰذا وہ مسلمانوں کو ہمیشہ نشانہ بناتی رہی۔آزادی کے بعد سے ملک میں ہزاروں ہندو مسلم فسادات آر ایس ایس کے اشارے پر ہوئے اور متعدد جگہوں پر وہ براہ راست ان فسادات میں شامل رہی۔کانگریس جو جمہوری اقدار کی حامل سیاسی پارٹی تھی اس نے ان شر پسندوں کی شر پسندی پر کبھی سخت ایکشن نہیں لیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ مذہبی منافرت کا ان کا مشن پھلتا پھولتا رہا۔انہوں نے رفتہ رفتہ ملک میں لاکھوں اسکول کھول لئے جہاں بچوں کو خود ساختہ تاریخ جس میں مسلم حکمرانوں کی بربریت کی فرضی داستانیں سنائی گئیں۔انہیں خاص طور پر یہ بتایا گیا کہ یہ ملک ہندوؤ ں کا ہے اور یہاں رہنے والے مسلمان غاصب ہیں اور کانگریس سمیت تمام سیکولر نظریات والی پارٹیاں ان کو ووٹ کےلئے پال رہی ہیں۔اور اس کےلئے انہوں نے بٹوارے کو ثبوت کے طور پر پیش کیا کہ جب مسلمانوں کو الگ ملک دے دیا گیا تو پھر ان کا اس ملک میں رہنا ناجائز نہیں تو اور کیا ہے۔ آر ایس ایس کے اس نظریہ کے تحت پروان چڑھتی نسل جوان ہوئی اور ملک کے ہر ادارے میں ان کا تسلط قائم ہو گیا اور اب ان کی نفرت مسلمانوں سمیت ہر اس سیاسی پارٹی اور تنظیم سے تھی جو مسلمانوں کو اس ملک کا باعزت شہری سمجھتے تھے۔یہی وہ نفرت ہے جس کا زہر اب پورے ملک میں پھیل چکا ہے اور جس کی بنیاد پر مرکزی حکومت پر بی جے پی کا قبضہ ہے۔
اعظم خاں اسی انتقامی کارروائی کا شکار ہیں اور مرکزی حکومت سے لے کر یوگی حکومت تک نے ان کو پوری طرح نیست و نابود کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔کسی سیاسی پارٹی کے لیڈر سے انتقام کی جتنی بھی حدیں ہو سکتی تھیں وہ سب پار ہو چکی ہیں اور صاف صاف نظر آ رہا ہے کہ اس کی وجہ ان کا مسلمان ہونا بھی ہے اور مسلمانوں کی قیادت کی صلاحیت بھی ان میں بدرجہ اتم موجود ہے۔تعلیم یافتہ ہونا ایک بات ہے اعظم خان تعلیمی مشن کے جرنیل کی حیثیت سے اپنی شناخت بنا چکے ہیں اور آر ایس یا بی جے پی کو ان کی یہ کوالٹی قطعی پسند نہیں۔حیرت اس امر پر بھی ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں تعلیمی بیداری کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو بھی اعظم خان کی مظلومیت نظر نہیں آ رہی ہے۔اور سارے ملک نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔تازہ معاملہ ان پر ہونے والے مظالم سیریز کا نیا ایپی سوڈ ہے۔جس کے تحت یو پی سیاسی انتظامیہ نے جوہر ٹریننگ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی عمارت کو سیل کر دیا ہے اور عمارت کو ضلع اقلیتی بہبود افسر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس عمارت میں رام پور پبلک اسکول چلتا تھا،جس کے پرنسپل نے موقع پر پہنچ کر انتظامیہ پر الزام لگایا کہ نوٹس کی مدت 18 مارچ تک ہے لیکن اس سے پہلے ہی عمارت کو سیل کیا جا چکا ہے۔جوہر سنستھان کی عمارت ایس پی کے دور حکومت میں محمد علی جوہر ٹرسٹ کو 33 سال کے لیے 100 روپے کی سالانہ فیس پر لیز پر دی گئی تھی۔ فیصلہ کیا گیا تھاکہ لیز کی مدت میں 33-33 سال کے لیے دو مرتبہ توسیع کی جاسکتی ہے۔ ایس پی لیڈر اعظم خان ٹرسٹ کے تاحیات صدر ہیں۔ لیز کے وقت زمین پر مولانا محمد علی جوہر ٹریننگ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کو چلانے کا منصوبہ بتایا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ ادارہ عربی اور فارسی کی تعلیم کے ساتھ تحقیقی کام بھی کرے گا۔ بعد میں اس حالت کو بدلتے ہوئے اعلیٰ تعلیم کی جگہ تمام مضامین میں پرائمری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے الفاظ شامل کر دیے گئے۔ اس کے بعد رام پور پبلک اسکول کے نام سے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی عمارت میں اسکول شروع کیا گیا۔
28 جنوری کو لکھنؤ میں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں شرائط کی خلاف ورزی کی بنیاد پر لیز کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔اور وہ شرائط کیا تھی جس کی منسوخی یا روگردانی کا ادارے پر الزام ہے کہ وہاں ریسرچ کے علاوہ اسکول بھی چلایا جائے گا اور اس میں بغیر کسی تفریق کے بچوں کا داخلہ ہوگا۔ اس کے بعد محکمہ اقلیتی بہبود کے ڈائریکٹر جے ریبھا نے جوہر ٹریننگ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی زمین اور عمارت کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا تھا۔ اس کے بعد ڈی ایم رویندر کمار منداد نے اے ڈی ایم (انتظامیہ) للتا پرساد شاکیہ کی صدارت میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دی۔ ایس ڈی ایم صدر، ضلع اقلیتی بہبود افسر اور سی او سٹی کو کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ضلع اقلیتی بہبود افسر نے جوہر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 15 دنوں کے اندر عمارت خالی کرنے کی ہدایت دے دی۔ منگل کی شام کو اے ڈی ایم (ایڈمنسٹریشن) للتا پرساد شاکیہ اور ایس ڈی ایم صدر نرنکر سنگھ کی قیادت میں محکمہ محصولات کی ٹیم نے عمارت کو سیل کر دیا۔جوہر شودھ سنستھان کی عمارت کے حوالے سے حکومتی سطح سے رام پور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رویندر کمار کے مطابق موصولہ ہدایات کے مطابق کارروائی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے قبل ازیں نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔ رام پور پبلک اسکول کے بچوں کا امتحان ختم ہو گیا۔ بچے دوسرے اسکول میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ لیکن اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بچوں کے امتحان ابھی ختم نہیں ہوئے۔ ہمیں جاری کردہ نوٹس کے مطابق ہمارے پاس 18 مارچ تک کا وقت تھا لیکن عمارت کو نوٹس کی مدت مکمل کیے بغیر سیل کر دیا گیا ہے۔ تقریباً 1600 بچوں کا مستقبل تاریک ہو چکا ہے۔
اب اگر اسے انتقام کی سیاست نہیں تو اور کیا کہینگے۔یہ الگ بات ہے کہ مرکزی حکومت سے لے کر ریاستی حکومت تک یہ چیخ چیخ کر اعلان کر رہی کہ بی جے پی کی حکومت میں رام راجیہ قائم ہو چکا ہے۔شاید اسی کا نام رام راجیہ ہے۔












