موسم بدلنے پر نزلہ، زکام، کھانسی، سردی بخار کا ہونا فطری ہے۔ عام طور پر یہ تین چار دن میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔ مگر اس سال کھانسی، زکام لوگوں کی پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ بخار تو تین چار دن میں اتر جا رہا ہے لیکن کھانسی زکام تین سے چار ہفتوں میں بھی ٹھیک نہیں ہو رہا۔ ملک بھر میں ان فلواینجا کے 3084 سے زیادہ معاملے سامنے آچکے ہیں۔ کرناٹک کے ضلع ہاسن کے 82 سالہ اور ہریانہ کے ضلع جند کے 56 سالہ شخص کی ان فلو اینجا سے موت ہو چکی ہے۔ فلو سے گجرات کے بڑودا کی 58 سالہ خاتون کی موت بھی ریکارڈ ہوئی ہے۔ حالانکہ اس کے نمونے جانچ کے لئے بھیجے گئے ہیں۔ اولا ذکر دونوں ہائی بلڈ پریشر کے مریض تھے، ہریانہ کے شخص کو کینسر بھی تھا۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں اب تک دس مریضوں کی موت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اب اسے ایچ3 این2 وائرس سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ ان فلو اینجا ایچ3 این2 ایک سے دوسرے میں پہنچنے والی بیماری ہے۔ ویسے یہ وائرل فیور کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر فیصد میں بات کی جائے تو 92 فیصد بخار سے متاثر ہو کر ڈاکٹر کے پاس آ رہے ہیں۔ 86 فیصد کھانسی، زکام کی اور 16 فیصد سانس پھولنے کی شکایت کر رہے ہیں۔
بھارت میں ان فلو اینجا (Influenza) وائرس اے اور بی زیادہ ایکٹو ہے۔ یہ مانسون کے بعد لوگوں میں موسمی بیماری کی وجہ بنتا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج) کی وجہ سے سردی کے ختم ہونے سے پہلے ہی گرمی شروع ہونے سے ان فلو اینجا کا وائرس ایچ3 این2 سرگرم ہو گیا۔ یہ ان فلو اینجا اے فیملی سے ہی ہے۔ اسے ہانکانگ وائرس بھی کہتے ہیں۔ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر رام شنکر اپادھیائے کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اسپتال میں بھرتی کی شرح میں اضافہ کا باعث بنتا ہے۔ اس وقت اسپتال میں بھرتی ہونے والے مریضوں کی شرح 7فیصد ہے لیکن اسے نظر انداز کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ ایچ3 این2 وائرس سے متاثر ہونے والے مریض میں کورونا جیسی علامات پائی جاتی ہیں۔ کھانسی، ناک بہنا یا بند ہونا، گلے میں خراش، سردرد، بدن درد، بخار، سردی لگنا، تھکان، سانس پھولنا، دست، الٹی وغیرہ۔ ایچ3 این2 وائرس کے ملک میں بڑھتے معاموں کا جائزہ لینے کے لئے مرکزی وزیر صحت من سکھ مانڈوی نے 10 مارچ کو ہنگامی میٹنگ بلائی تھی۔ اس کے بعد مرکزی سیکرٹری صحت نے تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو خط لکھ کر الرٹ رہنے کو کہا ہے۔نیتی آیوگ بھی اس مسئلہ پر میٹنگ کر چکا ہے۔
دہلی این سی آر میں کھانسی، زکام، بخار کے مریضوں میں 40 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اسپتال آنے والے ہر پانچویں مریض میں یہ علامات دکھائی دے رہی ہیں۔ دہلی کے سبھی اسپتالوں میں ایچ3 این2 سے نبٹنے کی تیاری کی گئی ہے۔ آل انڈیا میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں میڈیسن شعبہ کے ڈاکٹر نول وکرم نے بتایا کہ کچھ مریضوں کو سانس سے جڑی پریشانی ہو سکتی ہے۔ لیکن زیادہ تر مریضوں میں کھانسی، زکام، بخار کی علامات پائی جا رہی ہیں۔ صفدر جنگ اسپتال کے ڈاکٹر بی ایل شیروال نے بتایا کہ او پی ڈی میں ان فلو اینجا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ لیڈی ہارڈنگ اسپتال کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ ایچ3 این2 وائرس سے متاثر مریضوں کے لئے بیڈ مختص کئے گئے ہیں مگر ابھی تک کسی بھی مریض کو اس کی ضرورت پیش نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اسپتال میں فیور کلینک الگ تیار کیا ہے۔ نوئیڈا کے ضلع اسپتال میں 3500 مریضوں کا مطالعہ کیا گیا۔ ان میں سے 660 مریضوں میں کووڈ جیسی علامات پائی گئیں۔ مگر اینٹیجن جانچ میں کوئی بھی مریض کووڈ سے متاثر نہیں پایا گیا۔
ایس ایم ایس میڈیکل کالج جے پور میں جنرل میڈیسن شعبہ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر پونیت سکسینا کا کہنا ہے کہ او پی ڈی میں ہر تیسرا چوتھا مریض تیز بخار، کھانسی، زکام کی شکایت لے کر آ رہا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایچ3 این2 کا وائرس موسم کے بدلاؤ کے ساتھ ایکٹو ہوتا ہے اور تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس میں عام طور پر بخار 3-4 دن رہتا ہے۔ لیکن کچھ معاملوں میں بخار 6-7 دن میں ٹھیک ہو رہا ہے۔ ہندی روزنامہ بھاسکر کی خبر کے مطابق ان فلو اینجا کے 2700 معاملے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ جے پور کے اسپتالوں میں اوسطً فلو کے 2200 روزانہ آ رہے ہیں۔ ریسپریٹری انفیکشن عام لوگوں کو زیادہ متاثر کر رہا ہے۔ بچوں کے لنگس میں ایچ3 این2 وائرس کا 70 انفیکشن پایا گیا۔ اس کی وجہ سے بچوں کا بخار 7-8 دن میں بھی پوری طرح ٹھیک نہیں ہو رہا۔
اس وائرل انفیکشن سے ملک کا بڑا حصہ متاثر ہے۔ اترپردیش کے کانپور، آگرہ، لکھنؤ اور پریاگ راج میں ان فلو اینجا کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 5 دنوں کے دوران صرف کانپور میں وائرس سے متاثر مریضوں کی تعداد 100 سے اوپر پہنچ چکی ہے۔23 مریضوں کو آئی سی یو میں بھرتی کرنا پڑا ہے۔ وہیں بھوپال میں سردی کھانسی کے مریضوں کی تعداد 310 ہو گئی ہے۔ مدھیہ پردیش میں روزانہ 40 سے زیادہ اسپتال آرہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہر تیسرا چوتھا مریض ایچ3 این2 یا اس سے ملتی جلتی علامات یعنی سردی کھانسی اور فلو سے متاثر ہے۔ ایس ایس جی ہاسپٹل گجرات کے ریزیڈنٹ میڈیکل آفیسر ڈی کے ہیلایا نے بتایا کہ 10 مارچ تک 80 مریض موسمی فلو کے آ چکے ہیں۔ ان میں سے 77 ایچ1 این1 کی اور تین میں ایچ3 این2 کی علامات پائی گئی ہیں۔ گجرات کے وزیر صحت روشی کیش پاٹل نے ایچ3 این2 وائرس سے ہوئی کسی بھی موت کی تصدیق نہیں کی ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق ایچ3 این2 وائرس کا زیادہ خطرہ کمزور امیونٹی والوں کو ہے۔ اس سے استھما، پھیپھڑے کے مریضوں، ہائی بلڈ پریشر یا کسی دوسری سنگین بیماری میں مبتلا افراد کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ بزرگ، حاملہ خواتین اور بچے متاثر ہو سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پولیوشن اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں پر جانے سے بچنا چاہئے۔ گزشتہ دو سال کے دوران کووڈ کا لوگوں کی قوت مدافعت پر منفی اثر ہوا ہے۔ ان فلو اینجا کے لوگوں کو بڑی تعداد میں متاثر کرنے کا یہ بھی ایک سبب ہے۔ ایچ3 این2 وائرس کووڈ کے وائرس کی طرح پھیل رہا ہے۔ اس لئے حکومت کی جانب سے ماسک لگانے، دوری بنانے اور بیمار ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ میڈیکل اسٹور سے دوائی نہ لیں اور نہ ہی اینٹی بایوٹک دواؤ ں کا استعمال کریں۔ صرف وائرل میں دی جانے والی دواؤ ں کا ہی استعمال کیا جائے۔ ہلدی، ادرک، تلسی، شہد کے استعمال سے بیماری میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر سے رجوع کرنا زیادہ بہتر ہے۔آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ دہلی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر رندیپ گولیریا نے بیماری سے ڈرنے کے بجائے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔ اسی وقت کورونا کے معاملوں میں اضافہ نے بھی تشویش پیدا کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے آس پڑوس کے لوگوں کی بھی اس وائرل بیماری سے حفاظت کریں۔












