مولانا مودودی کہتے ہیں کہ”محض نظریات نہیں بلکہ علاقائیت علیحدگی کے نظریات گڑھتی ہے، اور اسی لئے بنیادی نظریہ علاقائیت کی نفی کرتا ہے، اور آج بنیادی نظریہ یعنی قرآنی نظریہ ہمارے لئے شاعری بن کر رہ گیا ہے جس پر ہم سر تو دھن سکتے ہیں عمل نہیں کر سکتے“آج پوری دنیا میں علیحدگی پسند گروہ کی سرگرمیوں نے نسل انسانی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے تو غریب اورامیر شہریوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کی لیکن پھر غریبوں کی تعداد اتنی کثیر ہو گئی کہ الکٹورل سسٹم کے تحت سرمایہ داروں کا اقتدار میں آنا مشکل ہو گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غریبوں کو تقسیم کرنا ناگزیر ہوگیا۔علاقائیت اور وطنیت کا ابھار در اصل اکثریتی طبقہ کو تقسیم کر نے کا ایک نادر نسخہ ہے۔اور ہمارے ملک میں اس نسخہ کا استعمال سیاستدانوں کو خوب راس آ رہا ہے۔سونے پر سہاگہ اس وقت ہو گیا جب سیاست کو سرمایہ داروں نے گود لے لیا اور سیاستدانوں کی معاونت کے لئے میڈیا کا کنٹرول سیاستدانوں کے ہاتھ میں دے دیا۔الکٹرونک میڈیا نے سب سے بڑا کام یہ کیا کہ عام لوگوں کی ذاتی رائے کو سوچ سمجھ کر بنائے گئے ایجنڈے کے ذریعہ تبدیل کر دیا۔اور یہ نعرہ عام کر دیا کہ زمانہ بدل رہا ہے۔
مثال کے طور پر ہمارے ملک میں میں آج 140کروڑ کی آبادی رفتہ رفتہ یہ بھولتی جا رہی ہے کہ اس ملک کی بنیاد میں تکثیریت ہے۔اور یہ تکثیریت ہی اس ملک کی سب سے بڑی خوبی ہے۔تکثیریت اور علاقائیت میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ علاقائیت میں ایک دوسرے کے لئے احترام کا جذبہ نہیں ہوتا جبکہ تکثیریت میں ہر ایک فرد کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی نسل رنگ مذہب اور کھانے پینے پہننے اوڑھنے کے سلسلے میں آزاد ہو اس پر کسی قسم کی پابندی اس وقت تک لاگو نہیں ہوگی جب تک اس کی یہ آزادی کسی اور کے لئے تکلیف کا باعث نہ ہو۔علیحدگی پسند نظریات کی بنیاد میں نفرت کی اینٹ چنی جاتی ہے تاکہ خود کو دوسروں سے علیحدہ اور برتر ثابت کیا جا سکے۔
برتری کا یہی زہر ہے جس نے آج ہمارے ملک کے جمہوری نظام کو تار تار کر دیا ہے۔ برہمنی فکر اب اپنا نیا نقاب پہن کر بھارت کے عام لوگوں کو ایک ایسے خیالی دور کا خواب دکھا رہا ہے جس کا کبھی وجود ہی نہیں تھا۔رام راجیہ کا تصور ایک خوبصورت خواب کے سوا کچھ نہیں لیکن میڈیائی قوت کے ذریعہ اسے اتنی شدت کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ عام لوگوں کی پسند بن چکا ہے اور اس نظام کے جلد از جلد نافذ ہونے کا لوگ شدت سے انتظار کرنے لگے ہیں۔موجودہ حکومت کی یہی منشا بھی ہے۔ملک کے عام لوگوں کو اس منزل تک پہنچانے کا آغاز بھی ملک میں ٹی وی سیریل رامائن اور مہابھارت کے ڈیلی سوپ کے ذریعہ ہوا تھا۔ورنہ اس کے پہلے بھارت کے عام لوگ رام اور کرشن کو صرف ایک دیوتا سمجھ کر پوجتے تھے۔لیکن جیسے ہی انہیں اپنے دیوتا رام اور کرشن کے درشن ہوئے اور لوگوں نے ان کے عہد کے خوبصورت محلات اور ان کے زرق برق لباس دیکھے انہیں لگا کہ رام راجیہ آنا ہی چاہئے۔ایک ایسا دور ان کا خواب بن گیا جس میں ان کا راجہ اپنی فوج کے ذریعہ جب چاہے کسی سونے کی لنکا میں آگ لگا کر اس کے راجہ کا سر کاٹ سکے۔ایک ملک کا یہ تفوق ہی علیحدگی پسندی کو جنم دیتا ہے اور جمہوری نظام کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیتا ہے۔ موجودہ حکومت میں بھی نظریات سے زیادہ علاقائیت نے نفرت کے ماحول کو پروان چڑھایا ہے۔گجرات ماڈل اس کی مثال ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے سیاسی منظر نامہ کو ہی یکسر تبدیل کر دیا۔اور اس ماڈل کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ وہاں افواہ کا ماحول خلق کرنے کے لئے ایک ریل میں آگ لگائی گئی اور پھر اس اندوہناک قتل کی واردات کو بہانہ بنا کر گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا۔
آج مسلمانوں سے نفرت ایک فیشن بن چکا ہے اور سیاست اس وبا کا سب سے بڑا شکار ہے۔اپنے اپنے عقیدے اور مذہب پر کاربند رہ کر دوسرے مذاہب اور ان کے عقیدے کا احترام کرنے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے اور یہ کسی تکثیری معاشرے کو نیست ونابود کرنے کا سب سے مہلک ہتھیار ہے۔ضرورت ہے ملک اور ملک کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لئے صرف سرکاری سطح پر نہیں بلکہ سیاسی و سماجی سطح پر بھی نفرت کے اس ماحول کی بیخ کنی کی جائے۔کیونکہ نفرت کی موجودگی میں صالح اقدار کا قیام کسی بھی صورت ممکن نہیں۔












