بات تھوڑی کڑوی ضرور ہے لیکن یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کا سامنا ملک کا ہر مسلمان کر رہا ہے لیکن وہ اپنی غلامی کا اعتراف کرنے کو تیار نہیں. عام طور پر ملک میں ہونے والے ہر انتخاب سے قبل مسلم ووٹ بینک کا ایک نعرہ لگتا ہے. ایک ایسا ووٹ بینک جس کا کوئی وجود ہی نہیں لیکن اس جھوٹے نعرے کا یہ اثر ہوتا ہے کہ سارے ملک کے غیر مسلم ووٹر اپنے کان کھڑے کر لیتے ہیں اور اپنا ووٹ اسے دینے کا من بنا لیتے ہیں جس پارٹی کے ساتھ مسلمانوں کے جانے کا یقین ہوتا ہے. لیکن سچ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اس ملک میں کوئی پسندیدہ سیاسی پارٹی کبھی رہی بھی ہوگی لیکن اب نہیں ہے. کوئی پسندیدہ سیاسی لیڈر کبھی رہا ہوگا اب نہیں ہے. کوئی پسندیدہ مذہبی یا مسلکی قائد کبھی رہا ہوگا اب نہیں ہے. کوئی پسندیدہ مسلم تنظیم اور ادارہ رہا ہوگا اب نہیں ہے۔اور اس کے باوجود کہا یہی جاتا ہے کہ فلاں پارٹی کے ساتھ مسلمانوں کا پورا ووٹ بینک ہے. اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس فلاں پارٹی سے اکثریتی ووٹرس صرف اس لئے دور ہو جاتے ہیں کہ اس کے کامیاب ہوتے ہی یہ ملک ہندوستان سے پاکستان بن جائے گا کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات برسوں کی محنت سے ڈالی گئی ہے کہ مسلمان کا مطلب ہی ملک دشمن ہوتا ہے. غدار ہوتا ہے، وہ سوتا ہندوستان میں ہے لیکن خواب میں کراچی اور لاہور گھوم رہا ہوتا ہے. وہ مسجد سے لے کر خانقاہوں تک صرف ملک اور ملک کی اکثریتی آبادی کے خلاف سازش کر رہا ہوتا ہے. وہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت سے نفرت کرنے والا ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
میں جانتا ہوں کہ جو باتیں میں نے ابھی تک کہی ہیں وہ اتنی عام ہیں کہ آپ سب اس سے واقف ہیں. لیکن اب جو باتیں میں کہنے جا رہا ہوں وہ آپ کو چونکنے پر مجبور کر دیںگی۔اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد اس ملک میں مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن اس ملک کے مسلم قائدین ہی ثابت ہوئے ہیں . ان ملی اداروں اور تنظیموں نے بھی ایسے وقت میں مسلمانوں کی معقول رہبری نہیں کی جب انہیں اس کی اشد ضرورت تھی .وہ صرف مسلمانوں کے زخم پر مرحم لگانے کے لئے صبر کے مرحم لے کر دوڑتی رہیں۔اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس دنیا کا پورا نظام سیاست کے اشارے پر چل رہا ہے. بین الاقوامی سیاست سے لے کر ملکی سیاست تک اور ریاستی سیاست سے لے کر وارڈ ممبری کی سیاست تک. ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اس ملک میں کسی بھی مذہب یا فرقہ کی ایسی کوئی بھی تنظیم نہیں ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ اس کے مذہب اور مسلک کے تمامی لوگ اس کے ہر حکم کے پابند ہیں خاص طور پر سیاسی موقف کے. اور اس کی سب سے بڑی وجہ ان مذہبی یا مسلکی قائدین کا کردار ہے جو کسی بھی زاویہ سے ان کی زبانی لفاظی سے میل نہیں کھاتا. عام طور پر مسلمانوں کے بارے میں یہ غلط فہمی یا خوش فہمی بھی عام ہے کہ تمام مسلمان چونکہ ایک اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں، ان کا ایک ہی قبلہ ہے، وہ سب داڑھی رکھتے اور کرتا پاجامہ اور ٹوپی لنگی پہنتے ہیں تو ان سب کا مفاد بھی ایک ہی ہوتا ہے، ان سب کے مسائل اور ان مسائل سے نمٹنے کے طریقہ بھی ایک ہی ہوتے ہیں. یہ افواہ ہے اور کوری بکواس بھی.
مسلمانوں میں مسلکی جھگڑے ایسے ہیں کہ ہر دور میں شیعہ مسلمان سنی مسلمانوں کی مخالف پارٹی کو ووٹ دیتے رہے ہےں۔انصاری، ڈفالی، کباڑی، رنگریز، دھوبی، نائی، قریشی، اور نہ جانے کتنے ذات ایسے ہیں جو مسلمانوں کے شرفا یعنی سورن سمجھے جانے والے سید، شیخ، مغل اور پٹھانوں کی نہ قیادت پسند کرتے ہیں اور نہ ان کی سرپرستی میں چلنے والے اداروں کو اپنا ادارہ تصور کرتے ہیں،اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملت کے نام نہاد بڑوں نے ملت کی اس اندرونی بیماری کو دور کرنے کی کبھی عملی کوشش ہی نہیں کی .اور برسر اقتدار سیاسی جماعت کے سامنے خود کو تمام مسلمانوں کاٹھیکہ دار باور کراتے رہے۔عام طور پر مسلم تنظیموں میں تنظیم کے سربراہان کے جاں نثار ہی ممبر ہوتے ہیں اور ان کے منہ پر لبیک یا حضرت کے علاوہ کوئی نعرہ نہیں ہوتا۔اور اس طرح رفتہ رفتہ یہ تمام تنظیمیں ملت اسلامیہ کے لئے غیر موثر اور ناکارہ ہو گئی ہیں۔
بی جے پی اور آر ایس ایس نے ہندوستانی مسلمانوں کی اس حالت کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کیا ہے اور اب ان کا ایکشن بھی شروع ہو چکا ہے .مودی متر سے لے کر صوفی پنچایت تک کا ان کا پلان اس لئے بنا ہے تاکہ وہ مسلمانوں کے درمیان اتنی بڑی خلیج حائل کر دیں کہ پھر انہیں جب چاہیں الگ الگ کیچووں کی طرح مسل ڈالیں ۔کیا آر ایس اور بی جے پی کی اس حکمت عملی کے تدارک کے لئے ملی تنظیموں کے پاس کوئی پلان ہے ؟یا پھر ہم اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب مسلمانوں کے درمیان سے ہی مسلمانوں کے خلاف آواز اٹھنے لگے گی اور سڑکوں پر نعروں کی آواز گونجے گی۔ابھی تک یہ سب صرف اس لئے نہیں ہوا ہے ہے کہ اس سلسلے میں کسی سرکار نے پہل نہیں کی تھی لیکن اب سرکار ایسے لوگوں کی پشت پناہی بھی کریگی اور انہیں ہر طرح کے وسائل بھی مہیا کرائیگی تاکہ ملت ملت کا نعرہ لگانے والے اپنے آپ بے یار و مدد گار ہو جائیں ۔ان کا کام صرف ماتم کرنا رہ گیا ہے۔ ملی مسائل و مصائب پر وہ بڑے دلگداز انداز میں ملت کے مصائب بیان کرتے ہیں اور اس کی بھر پور قیمت سرکار سے حاصل کر کے اس کی کسی اور ستم ظریفی کے انتظار میں بریانی و حلوے سے غم غلط کرنے میں لگ جاتے ہیں۔
غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے، گونگے، جاہل اور اپاہج ہندوستانی مسلمانوں کی اس حالت کے ذمہ دار مذہبی قائدین اور ان کے اداروں و تنظیموں کے کارناموں کو پرت در پرت کھولنےکی اب اشد ضرورت ہے تاکہ عام مسلمان یہ جان سکیں کہ کس طرح یہ نام نہاد برگزیدہ لوگ سرکاری انفارمر کی خدمات انجام دے رہے ہیں. اور کروڑوں ہندوستانی مسلمانوں کو غلام بنا کر رکھدیا ہے۔آزاد ہندوستان کے غلام مسلمانوں کی داستان بہت طویل ہے۔باقی پھر کبھی












