اتنے بڑے ملک کے اتنے عظیم وزیر اعظم کے خلاف جو باتیں ان دنوں پارلیمنٹ میں ہو رہی ہیں یہ بات بالکل غلط ہے۔میں کئی روز سے کانگریس سمیت ان تمام اپوزیشن پارٹیوں کی دیدہ دلیری پر اندر اندر لعنت ملامت کر رہا ہوں کہ آخر یہ لوگ چاہتے کیا ہیں ؟کیا سچ مچ ان سیاسی جماعتوں کو ملک کے مستقبل سے ذرہ بھر بھی محبت نہیں ہے کہ وہ ایک ایسے قائد کے خلاف محاذآرائی کر رہے ہیں جس نے محض 9برس میں ملک کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔ایک ایسا شخص جس نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ اعلان ساری دنیا میں کر دیا کہ 2014سے پہلے کے ہندوستانی اپنی جائے پیدائش ہندوستان بتاتے ہوئے شرماتے تھے لیکن اب انہیں فخر ہوگا۔ایک ایسا مہا نائک جس نے ملک میں پہلی بار پچھلی سرکاروں کے بنائے سارے کل کارخانوں کو کباڑیوں کے حوالے کر کے ،ترقی کا سارا ٹھیکہ اڈانیوں کو دے کر سرکاری افسروں کو ایک کے بعد دوسرے الیکشن کی تیاری میں لگا دیا۔اور خود پورے ملک میں گھوم گھوم کر پرچار کرنے کے کام میں لگ گئے۔باقی کے بچے دنوں میں وہ من کی بات بھی عام جن سے کرتے ہیں اور پنچھی پریم کی کی وجہ سے مور کو دانہ بھی کھلاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے منہ میں جو آتا ہے بکے چلے جاتے ہیں۔انہیں اندازہ بھی نہیں کہ ہمارا دیش کتنی تیزی سے ترقی کرتے کرتے انگریزوں کے بنائے پارلیمنٹ سے سودیشی پارلیمنٹ تک آگیا۔ہمارے اس نیتا نے اپنی قوت کا مشاہدہ کراتے ہوئے ایک آواز میں سارے ملک کی کرنسی کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دے دیا اور ایک آواز لگا کر 125کروڑ کی آبادی کو مہینوں کےلئے ہلنے جلنے سے بھی منع کر دیا۔ایک ایسا لیڈر جس کے دور اقتدار میں سوائے ایک دھرم کے جس کو وہ خود مانتا ہے کسی بھی دھرم کو پھلنے پھولنے کا ادھیکار نہیں۔اس کی آواز پر پورا ملک تالی اور تھالی بجاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتا ہے۔لیکن پھر بھی اپوزیشن والے بے شرمی کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا ہے ؟کیا ان لوگوں نے سچ مچ اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں کہ انہیں نظر ہی نہیں آرہا ہے کہ آج دیش کا سارا چینل یا زیادہ تر اخبار ایک آواز میں اس مہان پروش کے کارناموں کے قصیدے پڑھ رہا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک دو نہیں سیکڑوں چینل اور اخبار ایک ساتھ اس سرکار کے قصیدے کا پروگرام 24 گھنٹے اور ساتوں دن پڑھیں لیکن ان کی تعریف ختم ہی نہ ہو۔اب اپوزیشن اپنی آنکھیں اور کان بند کر لیں تو پھر اس میں کس کی غلطی ہے ۔
مجھے تو اب خود ہی شرم آنے لگی ہے اس بات سے کہ ملک کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی ،(جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے انگریزوں کی غلامی سے دیش کو آزاد کرایا (اور یہ کہنے اور لکھنے والے بھی صرف کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظریہ کے لوگ ہی ہیں )کے نیتا ودیش میں جا کر اتنی اچھی سرکار کی برائی کریں اور پھر دیش میں آکر معافی بھی نہ مانگیں۔ اور جب انہیں پارلیمنٹ میں بولنے نہ دیا جائے تو ڈینگ ہانکیں کہ سرکار ان سے ڈر گئی ہے۔کیا یہ غلط بات نہیں ہے،انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ سرکار کتنی دور اندیش ہے کہ اسے یہ بات پہلے سے پتہ ہے کہ راہل گاندھی سنسد میں آ کر کیا بولینگے۔سرکار کو پتہ ہے کہ راہل گاندھی کے پاس سوائے اس کہانی کے اور کون سی کہانی ہے کہ مودی جی اور اڈانی کایہ رشتہ کیا کہلاتا ہے جس میں انہوں نے ایک کمپنی کو ہی ملک کا سارا ٹھیکہ دے دیا ،اپنے ملک کا بینک جب کم پڑا تو ودیشی بینک سے انہیں لون دلایا۔دوسرے ملک کے سربراہ سے سفارش کر کے انہیں ٹھیکہ دلوایا۔اپنے ملک میں تھرمل پاور پلانٹ لگا کر اس سے ہونے والے پولوشن کا خیال کئے بغیر بنگلہ دیش کو بجلی سپلائی کا ایگریمنٹ کرایا۔کیا یہی کہانی دہرانے کےلئے راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت چاہئے جبکہ ہمارے مودی جی یہ سمجھتے ہیں کہ دوستی میں سب کچھ جائز ہے۔کیا راہل گاندھی کا جنرل نالج اتنا کمزور ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ اڈانی جی اور مودی جی نے 2014 سے پہلے گجرات کے پورے دیش کے لئے ترقی کا ماڈل بنایا تھا اور اس ماڈل کو پورے دیش دکھاتے پھرنے کے لئے اڈانی جی نے انہیں ایک ہوائی جہاز بھی گفٹ کیا تھا تاکہ پورے دیش کا سفر کرنے میں مودی جی کو آسانی بھی ہو اور وقت کی بھی بچت ہو۔اور اسی گجرات ماڈل کو دیکھ دیکھ کر سارے دیش نے انہیں دیش کا پردھان سیوک بنایا اب جب وہ دیش کے پردھان سیوک بن گئے ہیں تو اڈانی جی کو وہ کیسے بھول سکتے ہیں۔اور راہل جی سمیت سارے اپوزیشن لیڈروں کو یہ ضد ہے کہ اس احسان کے بدلے احسان کا ذکر پارلیمنٹ میں ہو،کتنی غلط بات ہے۔کیا اس کو کوئی غیرت مند انسان برداشت کر سکتا ہے کہ دوستوں کے درمیان کے لین دین کو پبلک میں عام کرے۔راہل گاندھی اور ان کے ساتھ کھڑے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک ایسا پردھان سیوک جس نے 9 برس کے دوران ایک بار بھی پریس کانفرنس نہیں کیا کہ کہیں اس پر یہ الزام نہ لگ جائے کہ وہ پرچار تنتر کا سہارا لے کر اپنے کارنامے اپنے منہ سے بیان کر رہے ہیں۔جب کبھی ان کا جی چاہتا بھی ہے کچھ بولنے کا تو من کی بات کر کے دل ہلکا کر لیتے ہیں،ایسے شخص پر نئے نئے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔
ان اپوزیشن پارٹی کے لوگوں کو کیا معلوم کہ فقیری کیا ہے اور دیش کو صدیوں کے بعد جو فقیر سیوک ملا ہے اس کی کتنی قدر کی جانی چاہئے۔دیش کا کیا ہے ،اس کی اکنامی تو گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔بے روزگاری اور مہنگائی کی مار کھانے کے باوجود دیش کے لوگ اس پردھان کو ووٹ دے تو رہے ہیں اور جنتایہ بھی جانتی ہے کہ چاہے ووٹ دیں یا نہ دیں سرکار تو مودی کی پسند کی ہی بنے گی،تو پھر اپوزیشن والے بغیر مطلب سنسد میں ہنگامہ کیوں کر رہے ہیں ؟کوئی بھی پارٹی کسی دوسری سیاسی پارٹی سے تو لڑ سکتا ہے لیکن جس پارٹی کے ساتھ دیوتاؤ ں کا آشرواد ہو۔الکٹورل بانڈ کی شکل میں لکشمی جی جس پر مہربان ہوں ،سرکار کی ساری ایجنسیاں جس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہو،بار بار پوچھ رہی ہوں کہ ان داتا آگیادیں کہ اب کسے اٹھانا ہے یا کس کو ریمانڈ پر لینا ہے،عدالتیں جس کے اشارے پر فیصلے لکھتی ہوں ،الیکشن کمیشن جس کے اشارے پر جب چاہے جس پارٹی کانام اور سمبل جسے ان داتا کہے اسے دے دیتا ہو تو پھر اس سے لڑ نا کتنی غلط بات ہے ،ہے کہ نہیں۔












