• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 18, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

یہ بات تو بالکل غلط ہے

شعیب رضا فاطمی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 21, 2023
0 0
A A
یہ بات تو بالکل غلط ہے
Share on FacebookShare on Twitter

اتنے بڑے ملک کے اتنے عظیم وزیر اعظم کے خلاف جو باتیں ان دنوں پارلیمنٹ میں ہو رہی ہیں یہ بات بالکل غلط ہے۔میں کئی روز سے کانگریس سمیت ان تمام اپوزیشن پارٹیوں کی دیدہ دلیری پر اندر اندر لعنت ملامت کر رہا ہوں کہ آخر یہ لوگ چاہتے کیا ہیں ؟کیا سچ مچ ان سیاسی جماعتوں کو ملک کے مستقبل سے ذرہ بھر بھی محبت نہیں ہے کہ وہ ایک ایسے قائد کے خلاف محاذآرائی کر رہے ہیں جس نے محض 9برس میں ملک کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔ایک ایسا شخص جس نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ اعلان ساری دنیا میں کر دیا کہ 2014سے پہلے کے ہندوستانی اپنی جائے پیدائش ہندوستان بتاتے ہوئے شرماتے تھے لیکن اب انہیں فخر ہوگا۔ایک ایسا مہا نائک جس نے ملک میں پہلی بار پچھلی سرکاروں کے بنائے سارے کل کارخانوں کو کباڑیوں کے حوالے کر کے ،ترقی کا سارا ٹھیکہ اڈانیوں کو دے کر سرکاری افسروں کو ایک کے بعد دوسرے الیکشن کی تیاری میں لگا دیا۔اور خود پورے ملک میں گھوم گھوم کر پرچار کرنے کے کام میں لگ گئے۔باقی کے بچے دنوں میں وہ من کی بات بھی عام جن سے کرتے ہیں اور پنچھی پریم کی کی وجہ سے مور کو دانہ بھی کھلاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی ان اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں کے منہ میں جو آتا ہے بکے چلے جاتے ہیں۔انہیں اندازہ بھی نہیں کہ ہمارا دیش کتنی تیزی سے ترقی کرتے کرتے انگریزوں کے بنائے پارلیمنٹ سے سودیشی پارلیمنٹ تک آگیا۔ہمارے اس نیتا نے اپنی قوت کا مشاہدہ کراتے ہوئے ایک آواز میں سارے ملک کی کرنسی کو کاغذ کا ٹکڑا قرار دے دیا اور ایک آواز لگا کر 125کروڑ کی آبادی کو مہینوں کےلئے ہلنے جلنے سے بھی منع کر دیا۔ایک ایسا لیڈر جس کے دور اقتدار میں سوائے ایک دھرم کے جس کو وہ خود مانتا ہے کسی بھی دھرم کو پھلنے پھولنے کا ادھیکار نہیں۔اس کی آواز پر پورا ملک تالی اور تھالی بجاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آتا ہے۔لیکن پھر بھی اپوزیشن والے بے شرمی کے ساتھ پوچھتے ہیں کہ انہوں نے کیا کیا ہے ؟کیا ان لوگوں نے سچ مچ اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں کہ انہیں نظر ہی نہیں آرہا ہے کہ آج دیش کا سارا چینل یا زیادہ تر اخبار ایک آواز میں اس مہان پروش کے کارناموں کے قصیدے پڑھ رہا ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک دو نہیں سیکڑوں چینل اور اخبار ایک ساتھ اس سرکار کے قصیدے کا پروگرام 24 گھنٹے اور ساتوں دن پڑھیں لیکن ان کی تعریف ختم ہی نہ ہو۔اب اپوزیشن اپنی آنکھیں اور کان بند کر لیں تو پھر اس میں کس کی غلطی ہے ۔
مجھے تو اب خود ہی شرم آنے لگی ہے اس بات سے کہ ملک کی سب سے پرانی سیاسی پارٹی ،(جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے انگریزوں کی غلامی سے دیش کو آزاد کرایا (اور یہ کہنے اور لکھنے والے بھی صرف کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظریہ کے لوگ ہی ہیں )کے نیتا ودیش میں جا کر اتنی اچھی سرکار کی برائی کریں اور پھر دیش میں آکر معافی بھی نہ مانگیں۔ اور جب انہیں پارلیمنٹ میں بولنے نہ دیا جائے تو ڈینگ ہانکیں کہ سرکار ان سے ڈر گئی ہے۔کیا یہ غلط بات نہیں ہے،انہیں پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ سرکار کتنی دور اندیش ہے کہ اسے یہ بات پہلے سے پتہ ہے کہ راہل گاندھی سنسد میں آ کر کیا بولینگے۔سرکار کو پتہ ہے کہ راہل گاندھی کے پاس سوائے اس کہانی کے اور کون سی کہانی ہے کہ مودی جی اور اڈانی کایہ رشتہ کیا کہلاتا ہے جس میں انہوں نے ایک کمپنی کو ہی ملک کا سارا ٹھیکہ دے دیا ،اپنے ملک کا بینک جب کم پڑا تو ودیشی بینک سے انہیں لون دلایا۔دوسرے ملک کے سربراہ سے سفارش کر کے انہیں ٹھیکہ دلوایا۔اپنے ملک میں تھرمل پاور پلانٹ لگا کر اس سے ہونے والے پولوشن کا خیال کئے بغیر بنگلہ دیش کو بجلی سپلائی کا ایگریمنٹ کرایا۔کیا یہی کہانی دہرانے کےلئے راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت چاہئے جبکہ ہمارے مودی جی یہ سمجھتے ہیں کہ دوستی میں سب کچھ جائز ہے۔کیا راہل گاندھی کا جنرل نالج اتنا کمزور ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ اڈانی جی اور مودی جی نے 2014 سے پہلے گجرات کے پورے دیش کے لئے ترقی کا ماڈل بنایا تھا اور اس ماڈل کو پورے دیش دکھاتے پھرنے کے لئے اڈانی جی نے انہیں ایک ہوائی جہاز بھی گفٹ کیا تھا تاکہ پورے دیش کا سفر کرنے میں مودی جی کو آسانی بھی ہو اور وقت کی بھی بچت ہو۔اور اسی گجرات ماڈل کو دیکھ دیکھ کر سارے دیش نے انہیں دیش کا پردھان سیوک بنایا اب جب وہ دیش کے پردھان سیوک بن گئے ہیں تو اڈانی جی کو وہ کیسے بھول سکتے ہیں۔اور راہل جی سمیت سارے اپوزیشن لیڈروں کو یہ ضد ہے کہ اس احسان کے بدلے احسان کا ذکر پارلیمنٹ میں ہو،کتنی غلط بات ہے۔کیا اس کو کوئی غیرت مند انسان برداشت کر سکتا ہے کہ دوستوں کے درمیان کے لین دین کو پبلک میں عام کرے۔راہل گاندھی اور ان کے ساتھ کھڑے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک ایسا پردھان سیوک جس نے 9 برس کے دوران ایک بار بھی پریس کانفرنس نہیں کیا کہ کہیں اس پر یہ الزام نہ لگ جائے کہ وہ پرچار تنتر کا سہارا لے کر اپنے کارنامے اپنے منہ سے بیان کر رہے ہیں۔جب کبھی ان کا جی چاہتا بھی ہے کچھ بولنے کا تو من کی بات کر کے دل ہلکا کر لیتے ہیں،ایسے شخص پر نئے نئے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔
ان اپوزیشن پارٹی کے لوگوں کو کیا معلوم کہ فقیری کیا ہے اور دیش کو صدیوں کے بعد جو فقیر سیوک ملا ہے اس کی کتنی قدر کی جانی چاہئے۔دیش کا کیا ہے ،اس کی اکنامی تو گھٹتی بڑھتی رہتی ہے۔بے روزگاری اور مہنگائی کی مار کھانے کے باوجود دیش کے لوگ اس پردھان کو ووٹ دے تو رہے ہیں اور جنتایہ بھی جانتی ہے کہ چاہے ووٹ دیں یا نہ دیں سرکار تو مودی کی پسند کی ہی بنے گی،تو پھر اپوزیشن والے بغیر مطلب سنسد میں ہنگامہ کیوں کر رہے ہیں ؟کوئی بھی پارٹی کسی دوسری سیاسی پارٹی سے تو لڑ سکتا ہے لیکن جس پارٹی کے ساتھ دیوتاؤ ں کا آشرواد ہو۔الکٹورل بانڈ کی شکل میں لکشمی جی جس پر مہربان ہوں ،سرکار کی ساری ایجنسیاں جس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑی ہو،بار بار پوچھ رہی ہوں کہ ان داتا آگیادیں کہ اب کسے اٹھانا ہے یا کس کو ریمانڈ پر لینا ہے،عدالتیں جس کے اشارے پر فیصلے لکھتی ہوں ،الیکشن کمیشن جس کے اشارے پر جب چاہے جس پارٹی کانام اور سمبل جسے ان داتا کہے اسے دے دیتا ہو تو پھر اس سے لڑ نا کتنی غلط بات ہے ،ہے کہ نہیں۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    مارچ 18, 2026
    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    مارچ 18, 2026
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist