نئی دہلی ، 20 مارچ کی شام تک دہلی کے سیاسی حلقوں میں سب کچھ معمول پر تھا۔ 21 مارچ کو پیش ہونے والے بجٹ کے حوالے سے ہر طرف چرچے ہو رہے تھے۔ عام دہلی والے بھی انتظار کر رہے تھے کہ آخر اس بار بجٹ میں ان کے لیے کیا کچھ ہو گا۔لیکن پیر کو رات 8.00 بجے تک سب کچھ بدل گیا۔ ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ دہلی حکومت کا بجٹ 21 مارچ کو پیش نہیں ہوگا۔ اروند کیجریوال نے صبح تقریباً 8.15 بجے ٹویٹ کیا اور وزارت داخلہ پر دہلی کا بجٹ روکنے کا الزام لگایا۔ اس کے بعد بی جے پی کی طرف سے بھی بیانات آنے لگے۔ رات 9.00 بجے گورنر ہاؤ س کی طرف سے وضاحت آئی۔اس وضاحت میں کہا گیا کہ، LG نے 09.03.2023 کو اپنے چند مشوروں کے ساتھ سالانہ مالیاتی بیان 2023 2024 کی منظوری دی اور فائل وزیر اعلیٰ کو بھیج دی۔ اس کے بعد دہلی حکومت نے وزارت داخلہ کو ایک خط بھیجا جس میں صدر کی منظوری طلب کی گئی (جیسا کہ قانون کے ذریعہ لازمی ہے)۔ وزارت داخلہ نے 17.03.2023 کو دہلی حکومت کو اپنے مشاہدات سے آگاہ کر دیا .واضح ہو کہ بجٹ 21.03.2023 کو پیش کیا جانا تھا۔ لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کا کہنا ہے کہ دہلی حکومت سے رات 9.25 بجے فائل موصول ہوئی تھی اور ایل جی نے منظوری دے کر 10.05 بجے وزیر اعلیٰ کو مزید قانونی کارروائی کے لیے بھیج دی تھی . اب اس پورے معاملے پر کیجریوال حکومت کا کہنا ہے کہ جب 17 مارچ کو ہی وزارت داخلہ نے بجٹ پر تبصرے بھیجے تھے تو دہلی کے چیف سکریٹری اور فائنانس سکریٹری نے وہ فائل تین دن تک اپنے پاس کیوں رکھی۔ دہلی کے دونوں سکریٹری بجٹ کی اتنی اہم فائل اپنے پاس کیسے رکھ سکتے ہیں؟جب وزیر خزانہ کیلاش گہلوت کو وزارت داخلہ کے تبصرے کا علم ہوا تو انہوں نے فوراً جواب لکھا اور فائل آگے بھیج دی۔ کیونکہ سیکرٹریز نے تین دن تک تین گھنٹے کا کام روک دیا۔ کیا وہ مرکز کے کہنے پر کام کر رہا ہے؟ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ ان دونوں سکریٹریوں کو ہٹا دے، لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے کیونکہ یہ دہلی حکومت کے خلاف سازش ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ وہ کون سے تین نکات ہیں جن پر بجٹ آخری لمحات میں پھنس گیا (1) بجٹ کا صرف 20فی صد سرمایہ ہی انفرااسٹرکچر پر خرچ کرنے کی تجویز ہے۔ اور یہ رقم دہلی کے لیے نا کافی ہے . کیونکہ دہلی ملک کی راجدھانی ہے اور ایک میٹروپولیٹن شہر بھی ہے ۔(2) کیجریوال حکومت نے دو سالوں میں پبلسٹی پر ہونے والے اخراجات کو دوگنا کر دیا ہے، جس پر لیفٹیننٹ گورنر نے وضاحت طلب کی ہے۔(3) لیفٹیننٹ گورنر نے آیوشمان بھارت جیسی مرکزی اسکیم کا فائدہ دہلی کے غریب لوگوں کو نہ دینے پر بھی وضاحت طلب کی ہے۔کل ملا کر جیسا کہ وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت بلا وجہ دہلی سرکار کے سارے پروگرام کو ڈسٹرب کرنا چاہتی ہے .لیکن عاپ کی سرکار دہلی کے عوامی مفاد کو کبھی گزند پہنچنے نہیں دیگی ۔












