آج مجھے خسرو یاد آ رہے ہیں۔ شاید اس لئے کہ اب ہمارا ملک آمریت کی طرف قدم بڑھا چکا ہے۔ لکھنے کے لئے موضوعات کی بھر مار ہے اور ہر موضوع کا مطالبہ ہی نہیں بلکہ اس کا حق بھی ہے کہ اس پر لکھا بھی جائے اور ایوان بالا تک ان موضوعات ومسائل کو پہنچایا جائے لیکن دل سے آواز آتی ہے کہ کون سنے گا اور کسے فرق پڑے گا ؟کہا جاتا ہے کہ مایوسی کا موسم شاعری اور تصوف کے لئے خوش گوار ہوتا ہے ،اور جب شاعری و تصوف کا ایک ساتھ ذکر کیا جائے تو خسرو یاد آتے ہیں۔سلطنت دہلی کا ایک ایسا نابغہ جس نے اس مٹی کی فطرت کے موافق ماحول خلق کرنے کی سعی کی اور کامیاب و کامران بھی ہوا۔
مجھے آج خسرو اس لئے یاد آ رہے ہیں کہ و ہ ہندوستان میں گنگا جمنی تہذیب کے بانی تھے۔ وہ جمہوری اقدار کے بیچ کی افزائش اس وقت کر رہے تھے جب دنیا میں کہیں جمہوریت کا نام و نشان نہیں تھا اور آمریت کادور شباب تھا۔ جنگوں میں سپاہی گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے تھے اور ضل الٰہی سرخرو ہو رہے تھے لیکن خسرو ایک الگ دنیا کی بنیاد کو مضبوط کر رہے تھے۔ یوں تو اس دنیا کی بنیاد میں تصوف کا گارا تھا لیکن خسرو نے تصوف کے جمال کو صرف اپنے لئے وقف کر لیا۔ ہندوستان میں تصوف کا بنیاد گذار حضرت معین الدین چشتی کو تسلیم کیا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کو خلق خدا کی خدمت کےلئے وقف کر دی تھی۔ اس ملک سے ان کا رشتہ اس قدر گہرا ہے کہ آج بھی انہیں سلطان الہند ہی کہا جاتا ہے۔ بات آگے بڑھ کر حضرت نظام الدین تک آتی ہے جو حق کے علمبردار بن کر سلاطین عصر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کی اوقات بتاتے نظر آتے ہیں۔لیکن ان کے شاگرد رشید خسرو کی موجودگی ان بادشاہوں کے دربار میں لازمی ہو جاتی ہے۔ اس دور کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو طوائف الملوکی کا یہ عالم ہے کہ صرف خسرو کی زندگی میں سات باد شاہوں نے دہلی میں حکومت کی اور کمال یہ ہے کہ ان تمام پادشاہوں کا حضرت نظام الدین کے خانقاہ میں داخلہ ممنوع تھا۔ لیکن خسرو تمام بادشاہوں کے درباری بھی تھے اور حضرت نظام الدین کے چہیتے بھی۔
لیکن اس دور آمریت کے بادشاہ بھی کیسے تھے جو اپنے زور بازو سے قتل وخون کا بازار گرم کر کے سلطنت پر قبضہ تو کر لیتے تھے لیکن ایک فقیر سے آنکھ ملانے کی جرآ ت نہیں کر پاتے تھے اور ان کے چہیتے چاگرد کو دربار شاہی کا رکن بنانے کو مجبور تھے۔ وہ فقیر بھی ایسا کہ ہر روز اپنے شاگردوں کو یہ درس دیتا تھا کہ بادشاہ کا کردار کیسا ہونا چاہئے، جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک فقیر میری را جدھانی میں عوام کے سامنے بادشاہت کے حقائق رکھ رہا ہے۔ ہر روز سوال کر رہا ہے۔ خلق اللہ کو دربار کے سائے سے بچنے کی تلقین کر رہا ہے ۔نہ خود دربار میں حاضری دیتا ہے اور نہ اپنے خانقاہ میں بادشاہ وقت کو آنے کی اجازت دیتا ہے، اور بادشاہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ خسرو اس فقیر کے شاگرد خاص ہیں۔ انہیں دربار میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔یہ تاریخ عالم کی وہ ان سلجھی گتھی ہے جسے سلجھانا تو دور ہم آج تک یہی نہیں سمجھ سکے کہ خسرو اس تمام کش مکش میں بھی کیسے خود کو بھی سنبھال رہے تھے اور اپنے پیر و مرشد سے بھی کس طرح وفاداری کی سند پاتے رہے، اور ساتھ ہی عربی اور فارسی زبان جو سرکاری اور مذہبی زبان دونوں تھی کی بیلوں میں کھڑی ہولی کے پیوند لگا کر اودھی سے ہم آہنگ کر کے بھوجپوری سے سنوار کر ایک نئی زبان کس طرح خلق کرلی جس کے ریشے ریشے سے جمال کی تابانی کا سوتا بھونا پڑ رہا ہو۔ لیکن آج اکیسویں صدی میں اپنی تمام روایتوں اور تاریخ کو قدموں سے روند کر جمہوریت کا مکھوٹا لگا کر عوام کے ذریعہ کئے گئے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وقت کے نہایت جابر حکمراں ٹی وی چینلوں سے اینکروں کو نکلوانے کی سازش میں مصروف ہیں۔ موجودہ حکمراں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس ملک کی مٹی میں آمریت پروان نہیں چڑھنے پائیگی ۔ یہ ہندوستان کی سرزمین ہے اور آمریت کےلئے اس ملک کی مٹی کبھی زرخیز نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بڑے بڑے سورما آئے بڑے بڑے سورما پیدا بھی ہوئے لیکن انہوں نے یہاں کے بھگتوں اور صوفیوں کی منصفی کے خلاف ایک قدم بھی نہیں چلے اور جس نے بھی ہندوستان کی اصل تہذیب، جمال کی تہذیب حسن کی تہذیب کے خلاف ریشہ دوانی کی بر باد ہو گئے۔ووٹوں کی سیاست جب کاروبار بن جائے تو پھر ملک میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں رہ جاتا اور جب عوام پر جبر وظلم کی انتہا ہو جائے تو پھر عوام کی حکمرانی کا دور شروع ہوتا ہے۔ آج ہم اسی دور میں ہیں جب آمریت شدت کے ساتھ حملے کو تیار ہے لیکن اپنی جاہلیت کی وجہ سے اسے نہیں معلوم کہ اس کا انجام کیا ہونے والا ہے،اور اس دھرتی پر اس کے پہلے بھی ایسا بارہا ہو چکا ہے۔












