• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 18, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

روزہ اور اس کے طبی فوائد

پروفیسر ڈاکٹر سید فضل اللہ قادری

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 26, 2023
0 0
A A
روزہ اور اس کے طبی فوائد
Share on FacebookShare on Twitter

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:(1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی شہادت دینا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، ( 2 ) نماز قائم کر نا،(3) زکوٰ ۃ دینا،(4) رمضان المبارک کے روزے رکھنا،(5) اللہ کے گھر کی زیارت (یعنی حج)کر نا“۔اسلام کی یہ پانچ ایسی بنیادیں ہیں جن پر ایمان لا نا مسلمان ہونے کی اوّلین شرط ہے،انہیں صداقتوں پر اسلام کا نہایت وقیع (Forcefull ) محل تعمیر ہوتا ہے۔ ایک مومن کی اسلامی زندگی انہیں بنیادوں کے گرد گردش کر تی ہے ، اس سے سر موانحراف ایک مومن کے ایمان کو شک و شبہ کا اسیر بنا دیتا ہے ۔ اسلام کی یہ پانچ بنیادیں ”ارکان اسلام“ کہی جاتی ہیں، یہ انسانی زندگی کے عملی حصہ ہیں ،جن کو شعوری طور پر زندگی میں جاری و ساری کر کے ایک با مقصد زندگی کی تعمیر ہوتی ہے،یہ عبادت ترک نفسانی خواہشات اور نفس انسانی کی طہارت کے لیے بہت اہم ہے۔ انہیں میں سے ایک اہم رکن رمضان المبارک کے روزے رکھنا ہے ۔ اللہ تعالی کا ارشاد گرامی ہے: ” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طرح پہلے انبیاءکے پیروؤ ں پر فرض کئے گئے تھے “ اس سے لعلکم تتقون یعنی:اس سے تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی اوریہی ساری عبادتوں کاحاصل ہے۔اس ماہ میں قرآن نازل کیا گیا ، جو اسلام کا نہایت مقدس قیمتی سرمایہ ہے۔ ساری دنیا کے لیے سرمایہ ¿حیات اور منشور حیات ہے، راہ ہدایت ہے،بالخصوص ان لوگوں کے لیے جو اس پر ایمان ویقین رکھتے ہیں۔ قرآن کریم کا مطالعہ ذہنی یکسوئی کے ساتھ کیا جائے تو اس کے زریں صفحات میں ایمان، عقائد، اخلاق و عبادات، آداب زندگی اور معاملات سے متعلق احکامات و مسائل بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔اسی قرآن کے حوالہ سے نماز ، روزہ ، زکوۃ ، نکاح و طلاق، معاشی اور معاشرتی مسائل کو بہت ہی شرح و بسط کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی کی نازل شدہ کتابوں میں یہی واحد کتاب ہے،جو انسانی خرد برد سے محفوظ ہے؛ کیوں کہ اس کے لیےفرما دیاگیا ہے اور جب خود خالق کائنات اپنے پیغام کی حفاظت کی ذمہ داری کا وعدہ فرما رہا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس میں کامیاب ہوہی نہیں سکتی،جب کہ تاریخی شواہد موجود ہیں کہ سابقہ کتابیں اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہ رہ سکیں اور مخبوط العقل انسانوں نے اس کے احکامات میں خردبرد کر نا شروع کر دیا اور اس کی حقیقت و اصلیت کو پوری طرح مسخ کر کے چھوڑ دیا ۔ آج دنیا میں بد امنی ، بد اخلاقی ، شرو فساد پیدا کر نے والے دراصل انہیں کتابوں کے ماننے والے ہیں،جب کہ قرآن حکمت و دانائی کی تعلیم دینے والی کتاب ہے ۔ قرآن صرف مسلمانوں کی ہی کتاب نہیں؛بلکہ عالم انسانیت کے لیے اس میں پیغام نجات ہے اور اس روز تک کے لیے انسانوں کے لیے راہ ہدایت سے یہاں تک کہ روز حشر بیا ہو جائے ….رمضان کے مہینہ میں نزول قرآن اس ماہ کی خصوصیات میں ایک اہم خصوصیت ہے ۔
روزہ جہاں تزکیہ نفس اور روحانی پاکیز گی کا ذریعہ ہے، وہیں یہ انسان کی ظاہری و باطنی جسمانی صحت کے لیے قدرت کی جانب سے انمول تحفہ ہے ۔ ارشاد گرامی صلی اللہ علیہ وسلم سے”صو موا تصحّوا“روزہ رکھو؛ تا کہ صحت مند رہو۔ اس مختصر سے جملے میں صحت کے اسرار موز پوشیدہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے ایک ماہ کے روزے کو فرض کرکے ہمیں اپنی صحت کی حفاظت کر نے اور تازہ دم ہونے کا ایک مجرب نسخہ عطا فرما دیا ہے ۔
رمضان لفظ رمض سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی حرارت اور تپش آفتاب کے ہیں،یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ یہ گناہوں کوجلا دیتاہے۔دانشو ران طب اسلامی تو روزہ کے طبی نقطئہ نظر کے مُؤ د تو ہیںہی، طب جدید کے معالجین و ماہرین بھی فاقہ کو بطور اصول علاج تسلیم کر رہے ہیں اور مختلف جسمانی امراض میں فاقہ کشی کا مشورہ بھی دیتے ہیں۔ ایک امریکی ڈاکٹر لوگان نے لکھا ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو روزہ رکھتا ہوں اور صحت حاصل کر تا ہوں۔ انسان بیمار کیوں پڑتا ہے؟ یہ ایک سوال ہے،جو ہرذی شعور انسان کے دل و دماغ میں پیدا ہو تاہے۔ تفصیلی گفتگو کا موقع تو نہیں ہے، اختصار کی راہ اپنا تے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جسم انسانی قوتوں کا مرکز ہے جو قوت عاملہ ، قوت دافعہ ، قوت ماسکہ ، قوت جاذبہ، قوت مد برہ ، قوت جسمانی پر مشتمل ہے۔بقول بقراط طبیعت ایک قوت ہے،جو جسم انسانی میں بغیر ارادہ وشعور کے تد بیر و تصرف کرتی ہے اور اصلاح و درستی بدن پر مامور ہے، اسی طرح قوت عاملہ کا کام جذب و انہضام (Digestion) سے ہے تو دوسری جانب قوت دافعہ(Impelling power ) جسم سے فضلات کو دفع کرتی ہے۔در اصل یہی فضلات جسم میں رک کر امراض کی افزائش کا موجب بن جایا کرتے ہیں،انسان بطو ر غذا جو کچھ کھاتا پیتا ہے ،اس میں تغیر واستحالہ ہضم و جذب کے بعد کا رآمدا جزاءانسانی جسم کا حصہ بن جاتے ہیں، وہی توانائی و حرارت پیدا کر تے ہیں اور یہ ساری کی ساری کار فرمائی قوت عاملہ کی ہوتی ہے۔ ہضم و جذب کے سلسلہ میں جو فضلات اورسمی مواد جسم کے اندر جمع ہوتے جاتے ہیں، ان کو قوت دافعہ جسم سے باہر نکالنے کا فریضہ انجام دیتی ہے ؛ لیکن اگر ایسا نہیں ہوپارہا ہے تو انسانی زندگی کا گزار نا محال ہو جائے گا۔ انسانی صحت کے قیام کا دارومدار ان ہی قوتوں پر موقوف ہے اوریہ دونوں قوتیں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملز وم ہیں، اگران میں سے ایک قوت دافعہ کمزور ہو جائے اور اپنی ذمہ داریاں طبی حالت میں انجام نہ دے سکے تو جسم کا تنقیہ و تصفیہ نامکمل رہ جائے گا تو پھر دوسری قوت عاملہ فوراً ہی اس کی مدد کو آگے بڑھتی ہے اور یہ مدداس وقت ممکن ہے جب کہ اکل و شرب کو کچھ عرصہ کے لیے موقوف کر دیا جائے؛تاکہ معدہ کو کچھ راحت مل جائے گی،چناںچہ روزہ معدہ کو راحت و سکون پہنچانے کا ایک بڑا وسیلہ وذریعہ ہے ۔ انسانی معدہ روزوں کے ذریعہ راحت و سکون حاصل کر تا ہے، یہ بے حد فائدہ مندہوتا ہے، معدہ سے نکلنے والی رطوبتوں میں بھی توازن قائم ہو جاتاہے اورتیزابیت Acidity بھی غیر معمولی مقدار میں جمع نہیں ہوپاتی ہے ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ” جس وقت معدہ غذا سے خالی ہوتا ہے، اس وقت نظام ہضم کو راحت و سکون حاصل کر نے کا موقع ملتا ہے اور پھر وہ قوت جو کہ تغذیہ اور استحالہ میں خرچ ہوا کرتی تھی ،اب جسم سے سمی مواد کو دور کر نے اور تنقیہ میں خرچ ہوا کرتی ہے ۔
شفاءالملک حکیم محمد حسن قریشی کا قول ہے کہ” اگر فضلات کو بدن میں رہنے دیا جائے تو یہ اپنی کمیت مثلاً بلڈ پریشر ، ذیابطیس، شکری ، معدہ و جگر کی خرابی ، تبخیر معدہ اور پیٹ کی متعدد بیماریاں وغیرہ کا سبب بن سکتی ہیں؛لہذا ان فضلات کا اخراج فوری توجہ کا متقاضی ہے اور روزہ اس کا بہتر ین علاج ہے؛ اس لیے کہ روزہ سے بدن کی قوت مدافعت کو تقویت ملتی ہے، اگر قوت مدافعت (Immunity) قوی ہو تو انسان امراض سے محفوظ رہتا ہے “ ۔
پوپ ایلن گال روزہ سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنے روحانی پروکاروں کو ہر ماہ تین روزے رکھنے کی تلقین دے ڈالی، یہ شوگر اور معدے کے امراض کے لیے اکسیرہے۔سگمنڈ فرائڈ ماہر نفسیا ت کا کہنا ہے ” روزہ دماغی اور نفسیاتی امراض کا پورے طور پر خاتمہ کرتا ہے، روزہ دار کو جسمانی امتلائ(Body Congetion) اور ذہنی دباؤ (Mental Depression) وغیرہ سے واسطہ نہیں پڑتا۔ روزہ کے دوران اعصابی نظام بھی راحت محسوس کرتا ہے ۔روزہ اور دن میں پانچ بار وضو سے دماغ میں دوران خون توازن کے ساتھ جاری رہتا ہے،جو صحت مند اعصابی نظام کی گواہی دیتا ہے۔ روزہ خلیات (Cell) کے اندر سیال مادوں میں بھی توازن بر قرار رکھتا ہے ۔ روزہ کی حالت میں خون میں کولیسٹرول کی مقدرا بھی متوازن رہتی ہے، دل بھی سہولت کے ساتھ جسم کے مختلف حصوں کو خون فراہم کرتا رہتا ہے ۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ روزہ رکھنے کی صورت میں انسان کمزور ہو جاتا ہے، ہاں انسان اگر مسلسل فاقہ کشی کرتا ہو تو قوت و توانائی کا ضائع ہونا سمجھ میں آتا ہے؛ لیکن روزہ رکھنے کی حالت میں افطاری ، عشائیہ اور سحری کرتا رہتا ہے تو اس طر پر روزہ رکھنے سے کسی بھی حالت میں نہ انسان کی توانائی ختم ہوتی ہے اور نہ وہ ضعیف ہوتا ہے؛بلکہ اس سے فائدہ ہی ہوتا ہے بدن سے فاسد اور سمی مواد کا تنقیہ ہوا کرتا ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ روزوں کے ایام میں بسیار خوری ہمیشہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے؛ کیوں کہ مشاہدہ یہ ہے کہ افطاری کے وقت تلی ہوئی اور مرغن غذاؤ ں کا بکثرت استعمال طبیعت کو بوجھل بنا دیتی ہے ، گرانی محسوس ہوتی ہے،معدہ خراب ہو جاتا ہے ، کھٹے ڈکار آنا شروع ہو جاتے ہیں،نفخ شکم کی شکایت عام ہوتی ہے اور اس کا منفی اثر صحت پر پڑتا ہے، کبھی کبھی اسہال و پیچش کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے اور اب انسان اپنے اندر ضعف و نقاہت محسوس کرتا ہے ؛اس لیے روزہ رکھئے، روزہ کو خواہ مخواہ بدنام نہ کیجئے؟ اصل قصور وار تو ہم ہی ہیں۔
افطار کھجور اورنمکین چیز سے کیجئے ، کھجور سے افطار کر نانبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے،یہ مفید غذا ہے ،اس کے اندرغذائی اجزاءکے علاوہ حیاتین کی بھر پورمقدار ہے، جہاں تک نمکین چیز کے استعمال کی ہدایت دی گئی ہے، اس کی وجہ خاص یہ ہے کہ اشتہا اور ہاضمہ کو بڑھاتی ہیں، نفخ شکم کو دور کرتی ہیں، جسم میں توانائی پیدا ہوتی ہے اورسنت رسول اللہ کی ادائیگی بھی ہوتی ہے۔ روزہ کے ایام میں ہلکی ذود ہضم غذائیں استعمال کریں اور روزہ کا مقصد حاصل کریں اور اس کی افادیت سے لطف اندوز ہوں اور جسم و روح کی صحت حاصل کریں۔کم کھانا ،پینا اطباکے نزدیک صحت کا ضامن ہے اور اہل اللہ نے صفائی دل کے لیے مفید لکھا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ روزہ انسان کے لیے ایک مقوی و روحانی غذا ہے ۔
روزہ کے اثرات انسانی اعضا وجوارح پر:
٭ روزہ نظام ہضم پر مثبت اثر کرتا ہے ۔
٭ روزہ معدہ و امعاءکے افعال کو درست کرتا ہے۔
٭روزہ پانقراس (Pancreas) کی اصلاح کرتا ہے۔(اس کی رطوبت کا خاصہ یہ ہے کہ وہ غذاکے روغنی اجزاء(Fats) اورانڈے کی سفیدی کے مانند اجزا(Albumin) کی اصلاح کرتا ہے۔)
٭روزہ جگر کی اصلاح کرتا ہے اور روزے کے توسط سے جگر اپنی توانائی بخش کھانے کے اسٹور کرنے کے عمل میں بڑی حد تک آزاد ہو جاتا ہے ۔
٭روزہ (Globulin) جو جسم کے نظام مدافعت کو محفوظ رکھتا ہے اور جگر کو تقویت پہنچاتا ہے ۔
٭ روزہ گلے اور خوراک کی نالی کو آرام دیتا ہے۔
٭ روزہ معدہ سے نکلنے والی رطوبتوں کو متوازن کر تا ہے، نتیجةً Acidity کا اجتماع نہیںہوپاتاہے ۔
٭ روزہ قلب کو خاص آرام مہیا کرتا ہے۔ ابنساط قلب Diastolicاور انقباض قلب Systolicکے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ہمارے علم میں ہے کہ بیشتر امراض قلب اورقلب کی شرائین Coronaryarteryمیں کو لیسٹرول کے جمع ہو جانے سے ہوتا ہے، جس سے شرائین کی کشادگی میں تنگی ہو نے لگتی ہے،روزہ کی وجہ سے خون میں موجود شحمی اجزا ئ(کولیسٹرول) تحلیل ہو جاتا ہے، حالیہ تحقیقی مطالعہ بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے ۔
٭ روزہ سمن مفرط Obesityکا بہترین علاج ہے ۔
٭ روزہ فشار الدم Hypertensionکے تدارک کے لیے بہترین عبادت ہے ۔
٭ روزہ بول شکری کے لیے نہایت مفید ہے ۔
٭ روزہ گردہ کے افعال میں توازن پیدا کرتا ہے ۔
٭ روزہ خون کے سرخ ذرّات R.B.C کو بڑھاتا ہے ۔
٭ روزہ نظام تنفس ، طحال( تلی ) پر خاص طور سے اثر انداز ہوتا ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ روزہ اللہ تعالی نے ایک ماہ کا فرض کر کے ہمارے جسمانی نظام پر ایک بڑ احسان کیا ہے ، معدہ،امعاءجگر، گر دے ،قلب اور اعصابی نظام کو آرام و سکون پہنچا نے کا بہترین موقع فراہم کر رہا ہے؛ تا کہ بھوک وپیاس کی حالت میں فضلات حل پذیر ہو جائیں؛ لیکن روزہ کی یہ ساری خصوصیات سے ہم اسی وقت استفادہ کرسکتے ہیں،جب کہ ہم روزہ کو اس کی شرائط کی بنیاد پر رکھیں،ہم افطار اور بعد افطار صبر و تحمل سے کام لیں،راہ اعتدال کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، جس طرح پورے دن کھانے پینے سے رکے رہے ، نفس پر قابو رکھا،اب وقت اجازت بھی صبر و احتیاط کے دامن کو نہ چھوڑیں، لذت آشناں زبان پر قابو رکھیں، اکثر یہ بات مشاہد ہ میں آتی ہے کہ افطار میں اور اس کے بعد کھا نے پر کنٹرول نہیں رکھ پاتے اور فیضان روزہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اللہ تعالی اس بابر کت مہینے اور روزہ کی برکتوں کو حاصل کر نے کی توفیق عطا فرمائیں ۔(آمین)

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    مارچ 18, 2026
    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    مارچ 18, 2026
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist