دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم کی چکی بہت تیزی سے گردش کرنے لگتی ہے اس ظلم کے خلاف آوازیں بھی اٹھنے لگتی ہیں۔شروع شروع میں ان آوازوں کو دبانے کی کوشش بھی ہوتی ہے لیکن نیوٹن لا کے مطابق ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے اور بالآخر ظالم کو شکست کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔ہمارے ملک میں بھی ان دنوں ظلم کی چکی تیزی سے گردش کرنے لگی ہے اور اس کی زد میں ملک اور ملک کی یکجہتی ہے۔صدیوں کی کوشش کے بعد سر اٹھانے والی ملک دشمن قوتوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا ہے یا یہ کہیں کہ ملک کے آئین و قوانین کو یر غمال بنا لیا ہے،اور اگر یہ صرف ایک پارٹی جو طویل عرصہ سے اقتدار میں تھی لیکن اب اقتدار سے باہر ہے ،اور بس اسی لئے ملک سے لے کر بیرون ملک تک یہ واویلا ہے کہ جمہوریت خطرے میں ہے تو پھر بدھ کی شام رام ناتھ گوئنکا ایوارڈ کے جلسے میں انڈین ایکسپریس کے چیف ایڈیٹر راج کمل جھا کو چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے یہ کیوں کہنا پڑا کہ ”جب ایک رپورٹر دہشت گردوں کے لئے بنائے گئے قانون کے تحت گرفتار کر لیا جائے،جب ایک پروفیسر کارٹون بنانے کی وجہ سے گرفتار کر لیا جائے،جب ایک طالب علم اپنی تقریر کی وجہ سے پولیس کے شکنجے میں جکڑ لیا جائے،جب ایک فلمی کلاکار کو ایک ٹوئٹ پر گرفتار کر لیا جائے ،“تب ایک چیف جسٹس کی معنویت میں یقینا اضافہ ہو جاتا ہے۔
یعنی بات کرسی کی سیاست سے بہت آگے نکل چکی ہے اور اب کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی بطور ممبر آف پارلیمنٹ برطرفی کے بعد اس میں کسی بھی شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ نریندد مودی حزب اختلاف کو پوری طرح روندنے کا من بنا چکے ہیں،اور دوسری طرف کانگریس اور ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں بھی اب یہ سمجھ چکی ہیں کہ نریندر مودی کو اقتدار سے باہر کئے بغیر جمہوریت کی بات کرنا بھی بے وقوفی ہوگی،اور ایک بڑی تبدیلی یہ بھی ہوئی ہے کہ اب ملک کے عام لوگ بھی یہ سوال پوچھنے لگے ہیں کہ آخر اڈانی کے حوالے سے راہل گاندھی کے سوالات کا جواب نہ دینے میں نریندر مودی کی کون سی مصلحت ہے،اور اس سوال کا جواب نہ دے کر وہ خود کو کب تک بچا پائینگے کیونکہ نہ صرف کانگریس بلکہ ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیاں اب جے پی سی کا مطالبہ کرنے کےلئے سڑکوں پر اتر چکی ہیں۔
آج کانگریس نے ملک گیر سطح پر احتجاج کا کال دیا تھا اور ملک نے ہر ضلعی ہیڈکوارٹر پر گاندھی مجسمہ کے آگے دھرنا دیا۔ دہلی میںراج گھاٹ پر راہل گاندھی کی پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخی کے خلاف صبح سے شام تک کا ستیاگرہ کیا جہاں بولتے ہوئے پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ ”کائر ہے اس دیش کا پردھان منتری۔ لگا دو کیس مجھ پر۔ جیل لے جاؤ مجھے بھی۔ لیکن سچائی یہی ہے کہ اس دیش کا پردھان منتری کائر ہے، جو اپنی ستا کے پچھے چھپا ہوا ہے!“
پرینکا گاندھی نے اس موقع پر میڈیا سے بھی سچ کا ساتھ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا ”میڈیا کے ساتھیو! میں آپ سے کہنا چاہتی ہوں، بہت ہو گیا ہے۔ میں جانتی ہوں کہ آپ پر کتنا دباؤ ہے لیکن آج جمہوریت خطرے میں ہے۔ اگر حکومت آواز اٹھانے والے کو پارلیمنٹ سے نکال دیتی ہے اور الیکشن لڑنے سے روک دیتی ہے تو یہ ملک کے لئے خطرناک ہے۔پرینکا گاندھی نے آگے کہا ”آج تک ہم خاموش رہے اور ہمارے خاندان کی لگاتار بے عزتی کی گئی۔ میرے بھائی نے پارلیمنٹ میں مودی کو گلے لگایا اور کہا کہ میں آپ سے نفرت نہیں کرتا۔ لیکن آپ کی نفرت کی کوئی انتہا نہیں ہے۔
انہوں نے کہا ”اگر آپ سمجھتے ہو کہ تمام ایجنسیوں کو لگا کر، چھاپہ مار کر ہمیں ڈرا سکتے ہیں تو غلط سوچتے ہو، ہم اور مضبوطی سے لڑیں گے۔ اس ملک کی جمہوریت کے لئے ہم کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اس ملک کی آزادی کے لئے کانگریس پارٹی لڑی اور آج بھی لڑ رہی ہے۔ کیا عوام کو یہ سب نظر نہیں آتا ۔
یعنی کانگریس اب جم کر کھڑی ہو گئی ہے اس ظلم کے خلاف جو اس پر بی جے پی کر رہی ہے اور اس بے ایمانی کے خلاف بھی جو ملک کے ساتھ برسر اقتدار جماعت کر رہی ہے۔دیکھنا ہوگا کہ ملک کے لوگ کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔












