راہل گاندھی اور نریندر مودی کا نام اگر آج ٹاپ ٹرینڈپر ہے تو اس کی وجہ آپ سب جانتے ہیں ،اور مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ راہل گاندھی بھی اس ملک میں غیر مقبول نہیں ہیں۔یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ نریندر مودی کو آج بھی ملک کے عام لوگ اگر پسند کرتے ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی ملک کے ایک خاص طبقہ سے نفرت ہے اور وہ اپنے عمل سے یہ وضاحت بھی کرتے ہیں کہ وہ ویسے ہی ہیں۔جبکہ راہل گاندھی سے بھی وہی لوگ نفرت کرتے ہیں جو لوگ مودی جی سے محبت کرتے ہیں اور ان کی مجموعی آبادی پورے ملک میں تیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن نفرت اور بغض و حسد کے نمائندوں کو اپنا ہیرو تسلیم کرنے والے لوگ بھی اس ملک میں نئے نہیں ہیں اور نہ ہی نریندر مودی یکایک آسمان سے ٹپکے ہیں اور راتوں رات ان کے رویہ میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے اور ان کی دو چارسینگیں نکل آئی ہیں جو آج یہ واویلا مچا ہوا ہے۔غیر آئینی کام کرنے کا الزام ان پر لگایا جا رہاہے جن کو مینڈٹ ہی اسی غیر آئینی کام کرنے کی وجہ سے ملا ہے۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بی جے پی جو آر ایس ایس کی سیاسی شاخ ہے اس کی بنیاد ہی آئین مخالفت کے لئے پڑی ہے ،ترنگا کی مخالفت ان کا سدھانت ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو مسلسل اس ملک کے سب سے کامیاب سیاسی لیڈر،سوشل انجینئر،بیرسٹر، مہاتما گاندھی کے قاتلوں کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔کیا اس بات سے آپ کو انکار ہے کہ بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ کو ہوا دے کر یا یہ کہیں کہ پال کر ان لوگوں نے 1992 میں اس کا نتیجہ حاصل کیا ،کیونکہ 1949 میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھنے والے بھی اسی قبیلے کے لوگ تھے،اور یہ ساری حرکتیں آئین مخالف تھیں،اور پھر اسی رام مندر کی گرد میں چھپا ہوا گودھرا ٹرین حادثہ کی سازش ہے جس سازش کا سراغ آج تک نہیں لگ سکا جبکہ اس کے بعد گجرات میں کم و بیش دس ہزار مسلمان مرد عورتیں اور بچے کاٹ ڈالے گئے ۔
کیا نریندر مودی اس وقت ساری دنیا کے سامنے اپنی تمام تر آئین مخالف سرگرمیوں کے ساتھ نہیں کھڑے تھے ؟اس وقت بھی نہیں جب باجپائی حکومت ختم ہوئی اور منموہن سنگھ کی سرکارنہ صرف بنی بلکہ دس سال چلی بھی۔ لیکن مودی جو اس وقت تک آئین و قانون مخالفت کا ایک ٹول بن چکا تھا اس تک کسی قانون کا ہاتھ نہیں پہنچا اور وہ قوی سے قوی تر ہوتا گیا یہاںتک کہ اس نے دہلی کا رخ کیا اور دہلی کو فتح بھی کر لیا۔
ملک کے لوگوں کے ساتھ تمام اپوزیشن پارٹی کے لوگ آج بھی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ مودی کسی جمہوری آئین کے ذریعہ منتخب ہو کر آئے ہیں۔اگر ایسا ہوتا تو پھر اڈوانی نریندر مودی سے بڑے ہردئے سمراٹ تھے ،مودی کی جگہ اڈوانی وزیر اعظم ہو سکتے تھے۔لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ مودی کے ساتھ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کاسرٹیفکیٹ تھا اور اڈانی اور امبانی جیسے سیٹھوں کا پیسہ جو اڈوانی کے پاس نہیں تھا،اور یہ دونوں اعزاز جو انہیں حاصل تھا غیر قانونی بھی اور غیر آئینی بھی تھا۔کیونکہ ان دھناسیٹھوں کا پیسہ ہی تھا جس کے بل پر بھارت کی انتخابی تاریخ کا پورا منظر نامہ تبدیل ہو گیااور انتخابی ریلیوں کی جگہ ایونٹ مینجمنٹ نے لے لیا جس میں بھیڑ اپنے نیتاؤ ں کو دیکھنے اور سننے نہیں آتی بلکہ روز کی مزدوری کرنے کےلئے لائے جاتے ہیں۔ٹھیک اسی طرح جیسے فلم اور سیریل کی شوٹنگ کےلئے کراؤ ڈ کے سپلائر سے فلم پروڈکشن کے ذمہ دار اپنی ضرورت کے مطابق کراؤ ڈ کا انتظام کراتے ہیں ۔
یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا ،عدالت بھی آنکھوں پر پٹی باندھے رہی اور حزب اختلاف نے یہ سمجھا کہ چلو اقتدار میں رہتے رہتے تھک چکے ہیں سو ایک بار ان لوگوں کو بھی آزما لیتے ہیں،اور پھر ان لوگوں کی اپنی آزمائش جو شروع ہوئی تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔
راہل گاندھی کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ ابھی چند ماہ پہلے رام پور کے سماجوادی پارٹی کے ایم پی اعظم خان کے ساتھ جو ہوا تھا اس سے کیسے الگ ہے؟رام پور میں تو باضابطہ انتخاب کے دن الیکشن کمیشن نے مسلمان ووٹرس کو ووٹ دینے نہیں دیا ،لیکن نہ کوئی شور شرابہ ہوا اور نہ جمہوریت کی دہائی دی گئی۔خود سماج وادی پارٹی کے سیکولر اور تعلیم یافتہ نوجوان نیتا اکھلیش کمار یادو جی بھی سب کچھ ہوتا دیکھتے رہے۔رام پور کے ایم پی کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ہو رہا ہے اتنا برا تو ابھی راہل گاندھی کے ساتھ ہوا بھی نہیں ہے ،لیکن لوگ کیوں نہیں بولے اسے بھی سب جانتے ہیں۔وہ کمیونٹی تو ضرور جانتی ہے جس کمیونٹی سے اعظم خان کا تعلق ہے۔
نریندر مودی اینڈ کمپنی نے ملک کے تمام زرداروں کو خرید کر زرپرستوں اور زرپسندوں میں تقسیم کرنے اور ان سے ان کی سروس کے دوران اپنے حق میں کام کرنے کا زبانی ایگریمنٹ کروا چکی ہے،اور جو اس ایگریمنٹ کے لئے تیار نہیں ان کے لئے ای ڈی اور آئی بی جیسی ایجنسیاں مالش کرنے کے لئے موجود ہیں۔
کل ملا کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مودی تو صرف ایک بدنام نام ہے ورنہ اس پردہ زنگاری کے پیچھے ایک پورا نظام کام کر رہاہے اور مجھے نہیں لگتا کہ یہ مفاد پرست حزب اختلاف کا جماوڑہ کانگریس کے ساتھ دیر تک اور دورتک چل پائےگا۔راہل گاندھی کی محنت اور لگن سے تو ضرور یہ لگتا ہے کہ کچھ بات ضرور ہے بندے میں اور آج راج گھاٹ پر پرینکا بھی اپنے اصل کردار میں سامنے آ گئیں۔کاش!ملک کے لوگ خواب غفلت سے باہر نکل آئیں اور لٹتی پٹتی جمہوریت کو بچا لیں۔












