مرکزی حکومت اور کانگریس پوری طرح ایک دوسرے کے سامنے دشمنی پر اتر آئے ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے .مرکزی حکومت کے خلاف حزب اختلاف کے الزامات کا پٹارہ پہلی بار نہیں کھلا ہے .اس کے پہلے کئی سرکاروں کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پھر سرکار گنوانی بھی پڑی ہے .اتفاق سے اس وقت وہی سیاسی جماعت برسر اقتدار ہے جس نے کئی مرکزی سرکار کے خلاف بے بنیاد الزامات تک لگاتی رہی ہے .2g اور رافیل فرضی اسکیم تو تازہ مثال ہے جس کا واویلا مچا کر بی جے پی اقتدار میں آئی تھی اور تقریباً دس سال ہونے کو آئے لیکن اس SCAM کی سچائی پردہ غیاب میں ہی رہی .لیکن اب جب اسی طرح کی صورت حال میں بی جے پی بھی پھنس چکی ہے تو وہ جارحیت پر اتر آئی ہے اور ایک ایک کر کے تمام اپوزیشن پارٹیاں اس کے نشانے پر ہیں .راہل گاندھی کی ممبر شپ منسوخی گو کہ عدالتی کارروائی کا نتیجہ ہے لیکن جس طرح 2018 کے اس کیس کو بی جے پی کے ہی ایک ریاستی وزیر کے ذریعہ کھلوا کر آنا فانا فیصلہ کیا گیا ہے اور پھر بلا تاخیر پارلیامنٹری کمیٹی نے اس فیصلے کی روشنی میں راہل گاندھی پر کارروائی کی ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ سرکار ایسا کیوں کر رہی ہے اور اس کی منشا کیا ہے .تازہ سیاسی صورت حال اور بی جے پی کے حزب اختلاف پر حملوں نیز سرکاری ایجنسیوں کا ناجائز استعمال موجودہ سرکار کا ایسا عمل ہے جو جمہوری اقدار کی نفی کرتا ہے اور راہل گاندھی جیسے اپوزیشن لیڈروں کی بات سچ کے قریب لگتی ہے کہ بھارت میں جمہوریت نہایت کمزور ہو چکی ہے .اور اب ساری دنیا کے جمہوریت پسند ممالک میں بھی یہ بات شروع ہو چکی ہے کہ بھارت میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہے .اس سلسلے میں بی بی سی نے متعدد سرکردہ لوگوں کی رائے پر مبنی ایک رپورٹ بھی شائع کی ہے .اس کے مطابق اپوزیشن آزاد رکن پارلیمان اور سرکردہ وکیل کپل سبُل کہتے ہیں ’اگر یہی چلتا رہا تو ملک کی جمہوریت کو سنگین خطرہ ہے۔ جہاں جہاں ناانصافی ہو رہی ہے اس کے خلاف لڑائی لڑنا ہو گی۔ کپل نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر سپریم کورٹ سے ’بے جا چھاپوں اور گرفتاریوں سے تحفظ مانگیں۔‘بی بی سی لکھتا ہے کہ تقریباً ایک برس قبل امریکہ کے ارب پتی اور جمہوریت کے علم بردار جارج سوروس نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا ’مجھے اپنی زندگی کے اس مرحلے میں سب سے بڑا ملال انڈین جمہوریت کے پھسلنے کا ہے۔ یہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ انڈیا میں جمہوریت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘بی بی سی ان لوگوں کی گفتگو کے بعد دلیل دیتے ہوئے کہتا ہے کہ .دنیا بھر میں جمہوریت کی صورتحال کا جائزہ لینے والے سویڈن کے ادارے ’وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ‘ کی مارچ کے اوائل میں جاری کی گئی سالانہ رپورٹ میں لبرل جمہوریت کی فہرست میں انڈیا کو 108 ویں مقام پر رکھا ہے۔ گذشتہ برس یہ 100ویں مقام پر تھی۔ رپورٹ کے مطابق جمہوریت انڈیکس میں انڈیا میں جمہوریت کی صورتحال تنزانیہ، بولویا، سنگاپور، نائجیریا اور میکسکو جیسے ممالک سے بھی نیچے آ چکی ہے۔ جرمنی اور سویڈین کے پولیٹیکل سائنٹسٹ کے ایک گروپ نے اکیڈمک آزادی کی اپنی حالیہ عالمی رپورٹ میں کہا ہے کہ انڈیا میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد تعلیمی اور ثقافتی آزادی اور ادارہ جاتی خود مختاری کو بہت شدید نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’2009 کے بعد ملک کی یونیورسٹیوں کی خود مختاری بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ 2014 کے بعد تعلیمی آزادی کے ہر پہلو میں زوال آ گیاانڈیا کی حکومت ان تنقیدی رپورٹوں کو بے معنی اور پراپیگنڈا کہہ کر مسترد کر دیتی ہے۔ ان رپورٹوں کو عموماً انڈین میڈیا میں جگہ بھی نہیں ملتی۔ حکومت اور حکمراں پارٹی کا خیال ہے کہ غیر ممالک کے یہ ادارے مودی کی قیادت میں انڈیا کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور اقتصادی قوت سے حسد میں مبتلا ہیں اور وہ ملک کی شبیہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
چند ہفتے قبل جب انڈیا کے سرکردہ صنعتکار گوتم اڈانی کے بارے میں امریکہ کے ریسررچ گروپ ہنڈن برگ کی منفی رپورٹ آئی تو اسے بھی میڈیا میں ’انڈیا کی ترقی کے خلاف بین الاقوامی سازش‘ کے طور پر دیکھا گیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کے جمہوری ادارے حکمراں دائیں بازو کے نظریات کی زد میں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے اپنے خیالات کے اظہار کے لیے ملک کے بجائے غیر ملک کا انتخاب کیا۔ کیونکہ یہاں میڈیا پر ان کی باتیں شاید آ ہی نا پاتیں۔ لیکن حکومت کا ردعمل ضرور آ جاتا۔
اور اب حکومت کا شدید رد عمل سامنے آچکا ہے اور راہل گاندھی کو پارلیمانی ممبر شپ سے ہاتھ دھونا پڑا .
ملک میں 2024 میں پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں۔ حکمراں پارٹی نے ابھی سے ہی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے ۔ اب تو یہ بھی کہا جانے لگا ہے کہ آئندہ پارلیمانی انتخاب صرف حکومت کا فیصلہ نہیں کریں گے وہ ملک کی جمہوریت کے مستقبل کا بھی فیصلہ کریں گے کہ وہ کونسا رخ اختیار کرتی ہے۔
شعیب رضا فاطمی












