کانگریس کے سابق قومی صدر راہل گاندھی کو گجرات کی ایک عدالت نے جس دن دو سال کی سزا ہتک عزت کے معاملہ میں سنائی ،اس سےاگلے روز ہی انکی پارلیمانی رکنیت ختم کر دی گئی ۔اس فوری کارروائی پر ملک کے سیاسی رہنما اور پارٹیاں دو حصوں میں منقسم ہوگئی۔بی جے پی اور اسکے بیشتر لیڈروں نے اس سزا ور راہل کی لوک سبھا رکنیت کے خاتمہ کو جائز قدم قرار دیا اور راہل گاندھی کو ہدف تنقید بنایا۔اسی طرح مودی بھگتوں نے بھی راہل کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔تاہم کانگریس اور دیگر تمام اپوزیشن پارٹیوں نے راہل گاندھی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور اس کارروائی کو جمہوری اقدار کا قتل قرار دیا۔دانشوروں اور عوام کے ایک بڑے طبقے نے بھی اس عمل کومرکزی حکومت کی زبردست غلطی بتایا۔لہٰذا اب سوال یہ ہے کہ راہل کی سزا اور انکی پارلیمانی رکنیت کا خاتمہ کانگریس اور راہل گاندھی کے لیے ایک بڑاسیاسی جھٹکا ہے یا اس سے انھیں مستقبل قریب و بعید میں سیاسی فائدہ پہنچے گا۔ بہ الفاظ دیگر یہ سزا راہل کے سیاسی مستقبل کے لیے جزا ہے !
سزا کے اعلان سے قبل کی اپوزیشن پارٹیاں جیسے ترنمول کانگریس ،عام آدمی پارٹی ،بھارتیہ راشرییہ سمیتی اور سماجوادی پارٹی وغیرہ راہل گاندھی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنا رہی تھیں لیکن راہل کو سزا اور انکی پارلیمانی رکنیت کے خاتمہ کے بعد ان سیاسی پارٹیوں سمیت تمام پارٹیوں نے جہاں راہل گاندھی سے اظہار ہمدردی کیا وہیں مودی سرکار پر ای ڈی ،سی بی ائی اور انکم ٹیکس محکمہ کو بڑے پیمانے پر استعمال کرکے اپوزیشن لیڈروں کو پھنسانے اور انھیں جیلوں میں ڈالنے کے لیے ذمہ دار قرار دیا۔لہٰذا اب یہ توقع ابھر رہی ہو کہ2024 کے لوک سبھا انتخا بات سے قبل ایک ایسا ہی محاذ مودی سرکار کے خلاف وجود د میں آجائیگا جیسا گزشتہ صدی میں اندرا گاندھی کے خلاف جے پرکاش ناراین کی زیر قیادت بنا تھا اور جس نے اندرا گاندھی کی آمریت کا خاتمہ کر دیا تھا۔یہ صحیح ہے کہ ترنمول کانگریس ،سماجوادی پڑتی ،بی آر اایس اور بی جے ڈی و سماجوادی پارٹی اور عا م آدمی پارٹی کوکانگریس کی قیادت شاید منظورنہ ہو تاہم لوک سبھا الیکشن کے بعد یہ مسئلہ منتخبہ ممبران پارلیمنٹ کی اکثریت طے کر سکتی ہے۔1989 میں ایک ایسا ہی محاذ وی پی سنگھ نے راجیو گاندھی کے خلاف بنایاتھا اور کانگریس کو شکست دی تھی۔در اصل2019کے لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کوتمام تر کوششوں کے باوجود محض37 فیصد ووٹ ہی مل پانے تھے اور 63 فیصد ووٹ اپوسشن پارٹیوں کو حاصل ہوئے تھے۔
لیکن اسکے باوجود بی جے پی اقتدار میں اس لیے آگئی تھی کیونکہ اپوسشن پارٹیوں کا ووٹ تقسیم ہو گیا تھا مگر راہل گاندھی کی سزا کے بعد صورت حال تبدیل ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ2024کا انتخاب لگ بھگ سب پارٹیاں متحد ہوکر لڑ سکتی ہیں۔درحقیقت آج حزب اختلاف کو یہ اندیشہ ہے کہ2024 کا چناؤ جیت کر بی جے اپوزیشن کو ختم کر دے گی اور مودی وشاہ کی آمریت چلے گی۔اسی لیے عام آدمی کے سربراہ اروند کجری وال نے کہا کہ”لوک سبھا سے راہل گاندھی کی رکنیت کی منسوخی حیران کن ہے۔ملک بہت مشکل دور سے گزر رہا ہے،سارے ملک کو انہوں نے ڈرا کر رکھا ہوا ہے130 کرود عوام کو ان کی تاناشاہی کے خلاف متحد ہونا ہوگا ترنمول کانگریس رہنما اور مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے لکھا ہے کہ ،”وزیر اعظم مودی کے نئے ہندوستان میں اپوزیشن رہنما بھی جے پی کا اہم نشانہ بن گئے ہیں۔ایک جانب مجرمانہ پس منظر کے حامل بی جے پی لیڈروں کو کابینہ میں شامل کیا جاتا ہے وہیں اپوزیشن لیڈروں کو ان کی تقریروں کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے۔“
یہ صحیح ہے کہ اپوزیشن لیڈروں کے رد عمل کا صرف یہ مطلب نہیں ہے کہ2024 کے چناؤ کے لیے تمام اپزشن پارٹیاں متحد ہو گئی ہیں۔تاہم مستقبل میں ایسے اتحاد کے لیے راہل گاندھی کی سزا اور پارلیمنٹ میں انکی رکنیت کا خاتمہ ،را ہ ہموار کرتے نظر آرہے ہیں۔
مو دی سرکارنے راہل گاندھی کو ایک سیاسی مظلوم بنا دیا ہے جسکا ووٹ کے لحاظ سے نہ صرف راہل گاندھی اور کانگریس کو بلکہ بحیثیت مجموعی تمام اپوزیشن پارٹیوں کو فائدہ ہو سکتا ہے۔ راہل کی مظلومیت کا پہلا فائدہ کرناٹک اسمبلی چناؤ میں دکھائی دے سکتا ہے اور وہاں بی جے پی کو حکومت سے محرم ہونا پڑ سکتا ہے۔ ممکن ہے الیکشن کمیشن دباؤ میں آکر راہل گاندھی کی وائناڈ (کیرالہ ) سیٹ پر ضمنی چناؤ کا اعلان کردے کیوکہ الیکشن کے اعلان کے بعد چھوٹی یا بڑی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔اگر ایسا ہوا تو راہل چناؤ لڑنے سے محروم ہو جائیںگے اور اس طرح انکی سیاسی مظلومیت اور عوامی حمایت میں اضافہ ہوسکتا ہے، ینز انکی سزا سیاسی جزا بن سکتی ہے مگر کس حد تک بن سکتی ہے اس کاپتہ تو کرناٹک اسمبلی چناؤ کے نتائج سے ہی لگے گا۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ2024 کے لوک سبھا انتخاب سے قبل راہل گاندھی یہ کہہ دیں کہ وہ وزارت عظمی کی ریس میں شامل نہیں ہوںگے۔ اگر ایسا ہوا تو مودی کی شکست اور اپوزیشن اتحاد کی فتح یقینی ہو سکتی ہے۔ بقول شاعر
یہ سزا کیسی دی عدالت نے
جس سے ملتی جزا ہے راہل کو












