روزہ اسلام کا ایک رکن ہے اور جس طرح نماز اور زکوٰة فرض ہے اسی طرح رمضان کا روزہ بھی مسلمان مرد وعورت پر فرض ہے۔ روزہ کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے، ایک حدیث میں ہے روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے، دوسری حدیث میں ہے جس نے اللہ تعالی کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالی اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے بقدر دور کردیتا ہے، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے تک کے گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے، ایک دوسری حدیث میں ہے جس نے رمضان کے روزے اوراس کے بعد شوال میں چھ نفلی روزے رکھے وہ شخص ایسے ہے جیسے وہ ہمیشہ روزہ رکھنے والا ہے۔روزہ کی بہت سی حکمتیں ہیں جو غور کرنے والوں کو حاصل ہوجاتی ہیں۔ حکیم الامت حضرت تھانوی ؒ نے روزہ کے متعدد فوائد کا تذکرہ کیا ہے جس کو اختصار کے ساتھ قارئین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے (۱) روزہ سے انسان میں خشیت وتقوی کی صفت پیدا ہوتی ہے (۲) روزہ رکھنے سے انسان میں عاجزی و مسکنت اور خدا تعالی کے جلال اور اس کی قدرت پر نظر پڑتی ہے (۳) روزہ سے چشم بصیرت کھلتی ہے (۴) درندگی و بہیمیت سے دوری ہوتی ہے (۵) خداتعالیٰ کی شکر گزاری کا موقع ملتا ہے (۶) انسانی ہمدردی دل میں پیدا ہوتی ہے (۷) روزہ جسم وروح کی صحت و تندرستی کا سبب ہے (۹) روزہ انسان کی روحانی غذا ہے (۱۰) روزہ محبت الہی کا ایک بڑا نشان ہے۔رمضان المبارک صرف انسان کی روحانی تطہیر کا ہی نام نہیں ہے بلکہ رمضان کے دوران روزہ رکھنے اور عبادات کی مشق سے انسانی جسم کو بھی بے پناہ فوائد حاصل ہوتے ہیں،طبی اعتبار سے روزہ رکھنے سے انسانی جسم میں حیرت انگیز اور خوشگوار تبدیلیاں آتی ہیں جو اسے دیرپا فائدہ پہنچاتی ہیں، روزہ رکھنے سے پہلے ہی دن انسانی جسم میں زہریلے مادوں کی صفائی کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ انسان کا شوگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضراثرات کا عمل دخل کم ہو جاتا ہے، دھڑکن سست ہو جاتی ہے اور بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔ اصل میں انسانی جسم میں توانائی کا ذخیرہ چربی کے چھوٹے چھوٹے ذرات کی شکل میں جمع ہوتا رہتا ہے روزہ رکھنے سے چونکہ انسان سارا دن بھوکا پیاسا رہتا ہے تو جسم میں موجود چربی محفوظ شدہ توانائی کو خارج کرنا شروع کردیتی ہے اور پہلےمرحلہ میں گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یہی گلوکوز جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے کولیسٹرول کی مقدار کم ہونا شروع ہوجاتی ہے، دماغ تیزی سے کام کرنا شروع کردیتا ہے، وزن گھٹنا اور چربی گھلنا شروع ہوجاتی ہے۔لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ اس ماہِ مقدس کے دوران خود کو ربِ کریم کی عبادت کے لئے وقف کریں ماہِ صیام کے روزے رکھیں اور اپنے جسم کو زہریلے مادوں سے نجات حاصل کرکے تازہ خلیات پیدا کرنے دیں تاکہ آپ کو روحانی سکون کے ساتھ ساتھ جسمانی فوائد بھی حاصل ہوں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی نے رمضان کا روزہ بغیر کسی عذر یا بیماری کے چھوڑا تو پھر ساری عمر بھی روزہ رکھے تو اُس روزہ کے ثواب کو نہیں پہنچ سکتا،یعنی قضا کرنے سے فرض تو ادا ہوجائے گا، مگر فضائل حاصل نہیں ہوں گے۔اس ماہ مقدس کا سب سے اہم عمل روزہ ہے اور ہر صحت مند بالغ مرد و عورت پر فرض ہے، اور اس کو تمام آداب کے ساتھ بجا لانا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔حدیث قدسی ہے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں یا میں خود براہ راست اس کا بدلہ دیتا ہوں اور اس کے ترک پر بہت سی وعید بھی آئی ہے اس لیے رمضان میں بلا کسی معقول عذر کے روزہ ترک کرنا بہت سخت گناہ ہے۔ عبادات کی صحیح ادائیگی کے لیے اس کا سیکھنا اور معلوم کرنا بھی ضروری ہے، بعض مرتبہ مسائل معلوم نہ ہونے کی وجہ سے روزہ دار کو سوائے بھوکا رہنے کے کچھ نہیں ملتاہے، آدمی پوری محنت کرتا ہے،لیکن نامہ اعمال میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ اس کی وہ عبادت صحیح نہیں ہوئی اور اس کو معلوم بھی نہیں ہوسکا کہ میری یہ عبادت صحیح نہیں ہوئی اس لیے مسائل سے واقفیت کا ہونا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ مسائل سے واقفیت کے بغیر اللہ ربّ العزت کے حضور ہماری کسی بھی عبادت کا حق ادا نہیں ہوسکتا۔
دوسرا عنوان ہے تلاوت قرآن
ماہِ رمضان المبارک کو کلام الٰہی سے بھی خصوصی مناسبت ہے، اسی وجہ سے اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن کی تاکید کی گئی ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں کثرت سے تلاوت فرمایا کرتے تھے اور آپ کی ہدایت کے مطابق حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور سلف صالحین کا معمول رمضان المبارک میں کثرت سے تلاوت قرآن کریم تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام رمضان المبارک میں روزانہ تشریف لاتے اور نبی کریم کو قرآن سنا تے۔بعض روایت میں آیا ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام خود آنحضرت سے قرآن کریم سنتے تھے اور یہ بھی ہے کہ جبریل امین نبی کریم سے رات میں دور کیا کرتے تھے اسی لئے رات میں قرآن کی تلاوت کی کثرت مستحب ہے۔ اور سب سے زیادہ جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار قرآن کریم کا دور فرمایا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبریلؑ رمضان کی ہر رات میں حضرت نبی کریم ﷺ سے ملتے تھے اور آپ ﷺ انھیں قرآنِ کریم سناتے تھے۔حضرت ابوذر ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس کا ارشاد ہے کوئی بندہ قرآن کریم کی تلاوت سے زیادہ کسی اور چیز کے ذریعے بارگاہ رب العزت میں تقرب حاصل نہیں کرسکتا،یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام اور سلف صالحین ہمہ وقت تلاوت کلام پاک میں مصروف رہتے۔ اس میں تدبر و تفکر کرتے، اس کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرتے اور اس کے احکام کے خلاف ایک لمحہ بھی نہیں گزارتے، خاص طور پر رمضان المبارک کا مہینہ ان کے لیے نعمت غیرمترقبہ شمار ہوتا تھا۔ وہ اس کے قیمتی لمحات کی بھرپور قدر کر تے اور قرآن پاک کے علوم و معانی کے بحرِ ناپید ا کنارمیں غواصی کرتے رہتے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے ،اسی طرح حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ ایک رکعت میں پورا قرآن ختم کرلیا کرتے تھے ،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان میں ۳ دن میں قرآن پڑھا کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس امر کو پسند فرماتے تھے کہ سات دن میں قرآن کریم مکمل کیا جائے اور تین دن سے کم میں قران مجید ختم نہ کیا جائے بلکہ وہ اپنے تلامذہ کو اس سے منع فرماتے تھے، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے متعلق روایت ہے کہ جب رات کی تاریکی چھا جاتی اور ہر طرف سکون پھیل جاتاتو آپؓ نہایت اہتمام سے وضو کرکے نماز میں مشغول ہوجاتے اور تہجد میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے رہتے اور شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کے سینے سے رونے کی آواز آتی۔
حضرت امام شافعی سے منقول ہے کہ آپ رمضان المبارک میں ساٹھ(60) مرتبہ قرآن ختم کیا کرتے تھے۔امام بخاری رحمہ اللہ کے شاگرد مسبح بن سعید آپ کا یہ معمول نقل کرتے ہیں کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی تو آپ اپنے اصحاب کو جمع کرتے اور انھیں تراویح پڑھاتے اور ہر رکعت میں بیس آیات کی تلاوت کرتے.پورے رمضان آپ کا یہی معمول رہتا یہاں تک کہ قرآن کریم مکمل ہوجاتا. اسی طرح سحر کے وقت ثلث سے نصف تک قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور ہر تین دن میں ایک مرتبہ قرآن مکمل فرمالیتے اسی دن میں ہر روز ایک قرآن مجید ختم کرتے اور فرماتے ہر قرآن ختم کرنے پر دعا قبول ہوتی ہے۔رمضان کا بابر کت مہینہ آتا تو حضرت سفیان ثوریؒ تمام نفلی عبادات سے الگ ہو کر تلاوتِ قرآن میں مشغول ہو جاتے۔ حضرت امام نخعیؒ پورے رمضان میں ہر تین دن میں ایک قرآنِ کریم ختم فرماتے اور آخری عشرے میں ہر رات میں ایک ختم فرماتے تھے۔ حضرت قتادہؒ عام دنوں میں ہر سات دن میں ایک ختم فرماتے تھے اور رمضان المبارک میں ہر تین دن میں ایک ختم فرماتے تھے اور آخری عشرے کی ہر رات میں ایک قرآنِ کریم ختم فرماتے تھے۔ حضرت اسود بن یزید ؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب رمضان المبارک کا مہینہ آجاتا تو ہر چیز سے کنارہ کش ہوجاتے اور کلی طور پر تلاوت کلام پاک میں مصروف ہوجاتے، ہمہ وقت اس میں مصروف رہتے اوردودنوں میں قرآن پاک ختم کرنے کا اہتمام کرتے۔
حضرت سعید بن جبیر ؓ کا بھی یہی معمول تھا کہ رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی تمام دنیوی مصروفیتوں کو ترک کردیتے اور تلاوت کلام پاک میں ہمہ تن مشغول ہوجاتے، حضرت مالک بن انس ؓ رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی ہر چیز سے دست بردار ہوجا تے. یہاں تک کہ احادیث مبارکہ کی تدوین وتالیف،بحث و تحقیق اور اہل علم کے ساتھ نشست و برخواست سے علیحدگی اختیار کرلیتے اور تلاوت کلام پاک میں مصروف ہوجاتے۔حضرت قتادہ ؓ عام دنوں میں 7دنوں میں قرآن کریم ختم فرماتے تھے، لیکن جب رمضان کا مہینہ آجاتا تو ہر 3دنوں میں ایک قرآن پاک ختم کرنے کا اہتمام کر تے اور جب اخیر عشرہ آجاتا تو روزانہ ایک قرآن کریم ختم کرتے۔حضرت طاؤ س ؒ جب بستر پر جاتے تو جہنم کے خوف سے ان کی نیند اڑجاتی،گھبراتے ہوئے کھڑے ہوجاتے اور وضوکرکے نماز پڑھنے لگتے اس حالت میں پوری رات گزاردیتے۔ حضرت امام حسن ؓ سے کسی نے دریافت کیا کہ تہجد گزار کے چہرے اس قدرروشن اور پررونق کیوں ہوتے ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ جب ساری دنیا نیند کی آغوش میں ہوتی ہے تو یہ اللہ رب العزت کے برگزیدہ بندے اپنے نرم نرم بستروں کو چھوڑ کر بارگاہ رب العزت کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور نمازوں میں اس سے مناجات کررہے ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں نور کی ایسی خلعت عطا کرتا ہے جس سے ان کے چہرے پرُرونق ہوجاتے ہیں۔
حضرت عبدالعزیز بن رواد ؒ کے متعلق سیرت کی کتابوں میں موجود ہے کہ جب رات ہوجاتی او ر وہ اپنے بستر پر جاتے تو بستر کی طرف مخاطب ہوکر فرماتے کہ اے بستر!تو بہت زیادہ نرم اور گداز ہے لیکن جنت کا بستر تجھ سے زیادہ نرم اور گداز ہے اسکے بعد بستر چھوڑ دیتے، وضوکرکے نماز پڑھنے لگتے۔ظاہر ہے کہ یہ حضرات نماز میں طویل قرائتوں کا اہتمام فرماتے تھے۔حضرت فضیل بن عیاضؒ کا مشہور واقعہ ہے کہ رات آتے ہی نماز،تلاوت کلام پاک اور اذکار میں ہمہ تن متوجہ ہوجاتے، بعض سلف صالحین کا معمول تھا کہ رمضان المبارک میں تہجد میں 7راتوں میں ایک قرآن ختم کرتے جبکہ بعض 10راتوں میں تہجد کی نمازوں میں ایک قرآن پاک ختم کرنے کا اہتمام کرتے۔حضرت عبد اللہ بن زبیر سے منقول ہے کہ وہ ایک رکعت میں پورا قرآن مجید ختم کرتے تھے۔حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ (شہادت 94ھ) ایک رکعت میں پورا قرآن مجید ختم فرمایا کرتے تھے۔حضرت امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رمضان المبارک میں دن رات میں دو قرآن کریم مکمل فرمایا کرتے تھے۔مشہور محدث اور فقیہ امام نووی ؒ فرماتے ہیں کہ ایک رکعت میں ختم قرآن کرنے والوں کی تعداد کا شمار ممکن نہیں ہے۔ متقدمین میں عثمان بن عفانؓ،تمیم داری،سعید بن جبیر ؒ ایک رات میں قرآن ختم فرماتے تھے۔یہی معمول ہمارے اکابر علماءدیوبند کا بھی تھا۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی تحریر فرماتے ہیں: حضرت اقدس مولانا شیخ الہند رحم اللہ علیہ تراویح کے بعد سے صبح کی نماز تک نوافل میں مشغول رہتے تھے اور یکے بعد دیگرے متفرق حفاظ سے کلام مجید سنتے رہتے تھے۔حضرت مولانا شاہ عبد الرحیم صاحب رائے پوری قدس سرہ کے یہاں تو رمضان المبارک کا مہینہ دن ورات تلاوت ہی کا ہوتا تھاکہ اس میں ڈاک بھی بند اور ملاقات بھی ذراگوارا نہ تھی۔
بعض مخصوص خدام کو صرف اتنی اجازت ہوتی تھی کہ تراویح کے بعد جتنی دیر حضرت سادی چائے کے ایک دو فنجان نوش فرمائیں،اتنی دیر حاضرِ خدمت ہو جایا کریں۔خود شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کا برسہا برس یہی معمول رہا،تحریر فرماتے ہیں:۸۳۳۱ھ سے ماہِ مبارک میں ایک قرآن روزانہ پڑھنے کا معمول شروع ہوا تھا، جوتقریباً ۰۸۳۱ھ تک رہا ہوگا؛ بلکہ اس کے بھی بعد تک۔اللہ کے انعام وفضل سے سالہا سال یہی معمول رہا،اخیر زمانے میں بیماریوں نے چھڑا دیا۔
رسول اکرمﷺنے قرآن پڑھنے والوں کو اہل اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے خاص بندے قرار دیا ہے۔ یہ قرآن قیامت کے دن قرآن والوں کے لئے سفارشی بن کر کھڑا ہوگا، اس لئے تلاوتِ قرآن مجید کا اہتمام تو ہمیشہ ہونا چاہئے؛ لیکن رمضان المبارک میں تلاوت کا خصوصی اہتمام مطلوب ہے، دن و رات میں سے کوئی بھی وقت گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ، دو گھنٹے تلاوت کے لئے مخصوص کرلیجئے، ظہر کے بعد، عصر کے بعد، سحری سے پہلے، یا فجر کے بعد، جو وقت مناسب حال ہو، عام طورپر نصف گھنٹہ میں تو ایک پارہ مکمل ہوہی جاتا ہے، اس گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ میں کچھ وقت تلاوت کے لئے رکھیئے اور باقی اوقات میں قرآن مجید کا ترجمہ پڑھ لیجئے، جو ترجمہ مستند و معتبر ہو، اس سے قرآن سے آپ کا رشتہ مضبوط ہوگا۔اس کے معانی میں تدبر کیجیے، علماءسے رشتہ قائم رکھیے.
تلاوتِ قرآن مجید کے اس نظام کو رمضان المبارک تک محدود نہ کیجئے، بلکہ سال بھر کا معمول بنالیجئے اس کے لیے اپنی سہولت سے طے کیجئے۔حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاصؓ کا معمول روزانہ روزہ رکھنے اور پوری شب قرآن مجید کی تلاوت کا تھا، رسول اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی، آپ نے ان سے استفسار کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ہمیشہ روزہ رکھتے ہو اور رات بھر قرآن پڑھتے ہو؟ انھوں نے عرض کیا: ہاں! اے اللہ کے نبی! لیکن میرا ارادہ اس سے خیر اورنیکی ہی کا ہے، آپ ﷺنے فرمایا کہ تمہارے لئے ہر ماہ تین دن روزہ رکھنا کافی ہے، اوررہ گیا قرآن تو ہر ماہ میں ایک ختم کرلیا کرو، کہنے لگے کہ میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، آپ ﷺنے فرمایا: بیس دن میں ختم کرلو، میں نے عرض کیا: اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں، تو ارشاد ہوا کہ سات دن میں ختم کرو اور اس سے زیادہ نہ پڑھو؛ اس لئے کہ تم پر تمہاری بیوی کا، آنے والوں کا، اور تمہارے جسم کا بھی حق ہے۔
اس حدیث سے اندازہ ہوا کہ کم سے کم وقت میں ختم قرآن کریم کا معمول بنا نا اس وقت مناسب نہیں ہے جب اہل وعیال کی حق تلفی کا خدشہ ہو۔رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ تلاوتِ قرآن مجید کی کیا اہمیت ہے؟ اور اسلام کا مزاجِ اعتدال بھی معلوم ہوتا ہے کہ آدمی حسب ِسہولت مقدار کا انتخاب کرے؛ لیکن ہمیشہ پڑھا کرے، اسی سات دن کی مناسبت سے بعد کے اہل علم نے قرآن کو سات منزلوں پر تقسیم کردیا ہے کہ روزانہ ایک منزل پڑھی جائے، تو ہفتہ میں ایک بار ختم ہوجائے اور کچھ اور وقت گذرنے کے بعد لوگوں کی تن آسانی کو دیکھتے ہوئے تیس پارے کردیئے گئے؛ تاکہ روزانہ ایک پارہ پڑھے تو ارشادِ نبوی ﷺ کے مطابق مہینہ میں ایک ختم ہوجائے۔ مذکورہ تفصیلات سے واضح ہے کہ ہمارے اسلاف رمضان المبارک کے مقدس لمحات کی بے انتہا قدر دانی کیا کرتے تھے، اور لمحات میں سے زیادہ تر کو کلام الہی کی تلاوت میں صرف کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین












