رمضان کا مبارک مہینہ بڑی سرعت کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف رواں دواں ہے- اسکا تیسرا عشرہ اب شروع ہونے واالا ہے۔پہلے عشرے میں تو عام لوگوں میں اس ماہ کے اہتمام میں ذرا زیادہ جوش و جذبہ دیکھنے میں آتا ہے لیکن وسط ماہ تک پہنچتے پہنچتے یہ جوش وخروش سرد ہونے لگتا ہے اور عشرہ اخیرہ میں تو، االاماشاءاللہ، بہت پست ہو جا تاہے- جبکہ آخری عشرہ بقیہ دونوں عشروں کے مقابلے اپنی روحانیت کے اعتبار سے سب سے زیادہ برکات کا حامل اور اہتمام وتوجہ کا طالب ہے- عموماً یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ باستثنائے چند نفوس قدسیہ یہ عشرہ ہماری کسل مندی اور مشاغل دنیوی کی نذر ہو جاتا ہے- اس سلسلے میں پہلے ایک حدیث ملاحظہ ہو۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمرکس لیتے، رات میں جاگتے یعنی عبادت کرتے اور اپنے بیوی بچوں کو بھی جگاتے- )بخاری۔ 2024( اس حدیث سے یہ واضح ہے کہ رمضان کے ابتدائی دو عشروں کے مقابلے آخری عشرہ زیادہ اہتمام و توجہ کا طالب ہے- اسکی وجہ یہ ہے کہ اس آخری عشرے میں چار ایسی نعمتیں ملتی ہیں جو پچھلے دو عشروں میں نہیں ملتیں۔اب آئیے ان نعمتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔لیلٔ القدر: یہ رات اتنی اہم ہے کہ خود اللہ تبارک وتعالی نے اس رات کی فضیلت میں ایک مکمل سورٔ ) سورٔ القدر( اور سورہ دخان کی ابتدائی چند آیتیں نازل فرمائیں جس میں اس رات کو قدر اور برکت والی رات کہا اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر قراردیا- یہ رات اسلئے اتنی اہم ہے کہ اس میں قرآن حکیم جیسی نعمت عطا ہوئی- جس کے بغیر انسان خیر وشر، معروف و منکراور نیکی و بدی میں تمیز نہیں کر سکتا- یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ آج وہ لوگ جو اس کتاب پر ایمان نہیں رکھتے ان میں نہ صرف یہ کہ خیر وشر کی تمیز ختم ہوگئی ہے بلکہ الٹ گئی ہے- اس لئے یہ لوگ نہایت گھناؤ نے قسم کے شر کو جیسے ہم جنسی، زنا بالرضا، سود وغیرہ کو با ضابطہ قانون سازی کے ذریعے نہ صرف حلال و جائز بلکہ انسانی حقوق سمجھتے ہیں- یہ مثال اس لئے دی گئی کہ واضح ہو جائے کہ قرآن چھوڑ کے دنیا کس طرح تاریکی در تاریکی میں بھٹک رہی ہے- دراصل یہ قرآن ایک نور ہے جسے اس رات ہمیں دیکر اللہ نے ہمیں خیر امت بنایا- دراصل یہ رات قرآن کے سائے میں نئی زندگی کی شروعات ہے- یہی وجہ ہے کہ اس رات کے لئے جو خصوصی دعا سکھائی گئی وہ دعائے ‘عفؤہے یعنی پچھلی تمام بے راہ بلکہ بد راہ زندگی کی بد اعمالیوں کو معاف یعنی حذف کر کے نئی زندگی کی شروعات کرنا- اس لئے اس رات کے لئے جو دعا سکھائی گئی اس کاترجمہ یہ ہے ” اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنا تجھے پسند ہے، پس ہمیں معاف فرمادے )ترمذی 3513( –اعتکاف- اس آخری عشرے کا دوسرا اہم تحفہ اعتکاف ہے- اگرچہ یہ فرض نہیں ہے لیکن اس کی بڑی ترغیب دی گئی ہے- یہی وجہ ہے کہ اسے فقہا اپنی فقہی اصطلاح میں کفایہ کہتے ہیں- یعنی محلے کا کوئی بھی نہ کرے تو سب گنہگار ہونگے- دراصل یہ دس دنوں کا ترک دنیا ہے- معتکف بیس رمضان کو مغرب سے پہلے مسجد میں داخل ہوتا ہے اور شوال کا چاند دیکھنے کے بعد وہاں سے نکلتا ہے- ان دس دنوں میں وہ تمام دنیوی مشاغل ترک کرکے خالصتاً اللہ کی عبادت کے لئے اپنے کو مسجد کے کونے میں محصور کر لیتا ہے- یہ دس دن وہ زیادہ سے زیادہ صیام وقیام، رکوع و سجود، ذکروعبادات اور دعاءو مناجات میں گزارتا ہے- اگر واقعی اعتکاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے کوئی یہ دس دن لگا دے تو اس دوران وہ ایسے حیرت انگیزروحانی انوار و تجربات کا مشاہدہ کرے گا جو عام دنوں میں ممکن نہیں- یہ قرب الہی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے-صدقہ الفطر- اس آخری عشرے میں یہ تیسری بڑی نعمت ہے جو روزہ داروں کو دی گئی ہے- یہ عام صدقہ یا غربا و مساکین کوچند سکے دینے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ عظیم نعمت ہے- صدقہ الفطر کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کاترجمہ ملاحظہ ہو”حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاالفطر فرض کیا ہے تاکہ اس سے تمہارا روزہ تمام لغویات و شہوانی خیال و اعمال سے جن کا صدور دوران روزہ ہوا ہو پاک کردے اور مساکین کے کھانے کابھی انتظام ہو جائے…. )ابو داآ د1609-(” یہ مقام سخت توجہ کا طالب ہے- دنیا کا کون انسان ہے جو یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ روزے کے جملہ تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور دوران روزہ اس سے کسی بھی طرح کے لغویات و شہوانی خیال و اعمال کا صدور نہ ہوتا ہو- اللہ تعالی ہمارا خالق ہے اور ہماری تمام کمزوریوں سے اچھی طرح واقف ہے- اس لئے صدقہ فطر کی شکل میں اس نے ہمیں یہ موقع عنایت فرمایا کے اسے ادا کرکے ہم اپنے روزوں کے تمام نقائص وناہمواریوں کو دور کر لیں تاکہ بارگاہ ایزدی میں یہ قابل قبول ہو-عید الفطر- اس آخری عشرے کے اختتام پراللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیں عید الفطر عطا فرمایائی یہ عید الفطر کیا ہے اسکی حقیقت سے ہماری اکثریت نابلد ہے- غور کیجئے کہ روزے کی غایت حصول تقوی ہے )البقرہ 183( – اور قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے تقوی کا ہونا الزم ہے )البقرہ 2( – اس لئے اللہ نے ہمارے اوپر روزہ فرض کیا تا کہ اس کے ذریعے تقوی حاصل کر کے ہم قرآن، جس کا نزول اسی ماہ میں شروع ہوا، سے ہدایت حاصل کرنے کے اہل ہو جا ئیں- قرآن کا نزول اس بات کااعالن تھا کہ یہود کو دنیا کی قیادت کے منصب سے معزول کیا جاتا اور اب اس دنیا کی قیادت و سیادت کے منصب پر اس امت مسلمہ کو فائز کیا جاتا ہے- ظاہر ہے یہ اتنا بڑا اعزاز تھا کہ وہ صل عیدافطر کی شکل میں سجدہ شکر بجا النے کا حکم ہوا اوراس دن کو جشن کا دن قرار دیا- اور یہ بھی حکم ہواکہ عید کی نماز کے لئے آتے جاتے تکبیر یعنی اللہ کی بڑائی و کبریائی کااعلان کر کے دنیا کو کو بتا دیا جائے کہ اب بڑائی اور کبریائی صرف اللہ کی ہے نہ کہ کسی شخص یا بادشاہ یا خاندان یا کسی نسل کی- اس دنیا کی قیادت کے منصب پر ہم 629ء )فتح مکہ( سے لیکر 1922ء )سلطنت عثمانیہ کا اختتام( تک رہے اور اپنی بداعمالیوں کے باعث اللہ کے قانون کے مطابق معزول کر دئے گئے – یہ افسوس کی بات تو ہے لیکن مایوسی کی بات نہیں- اس لئے کہ اللہ کے قانون کے مطابق ہم بد اعمالیاں ترک کر کے اپنے رب کی طرف جب بھی رجوع کریں پھر کھوئی ہوئی قیادت وسیادت ہمیں دو بارہ حاصل ہوگی یہ اللہ کا وعدہ ہے- صاف لفظوں میں اللہ تعالی کا اعلان ہے کہ ” تمہیں غالب رہو گے اگر تم مو¿من ہو )آل عمران 139("یہ تو رہے آخری عشرے کے خصوصی امتیازات۔اب اس عشرے میں ہم ذرا اپنے عمومی اعمال کا جائزہ لیں- عام طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ ان خصوصی فضائل و برکات کے علی الرغم یہ آخری عشرہ نہ صرف ہماری بے توجہی بلکہ بد اعمالیوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ اس آخری عشرے میں ہماری توجہ زیادہ سے زیادہ ذکرو عبادات اور قیام الیل کے بجائے عید کی تیاریوںاور خریداریوں میں گزرتی ہے۔ ہم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ دیر رات تک کپڑے اور دیگر اشیائے خوردنی کی خریداری میں مشغول رہتے ہیں- خاص کر مسلم محلے کے بازاروں میں تو اس طرح کی بے راہ روی اپنے عروج پر ہوتی ہے- ساری ساری رات مردوں اور عورتوں کا دوکانوں پر ہجوم، اختلاط مردوزن اور ہر طرح کی ہنگامہ آرائیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں- ہمارے نوجوان محلے کے چوراہوں پر لہو ولعب میں بلکہ سگرٹ ودیگر منشیات کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں- یہاں تک کہ شب قدربھی اسکی نذر ہو جاتی ہے- عین اس وقت جب اللہ پکارتا ہے کہ ہے کوئی میرا بندہ جو مغفرت مانگے میں مغفرت کروں، عین اس وقت جب ہر مسلمان کا سر سجدے میں ہونا چاہئے، عین اس وقت جب ہمیں ذکر و استغفار میں مشغول رہنا چاہئے اور اللہ سے عفو درگذر کی دعا کرنا چاہئے ہم ان قیمتی لمحات کو لہو ولعب اور خرید وفروخت اور تمام تر دنیوی مشغولیات بلکہ کار گناہ میں گزارتے ہیں- یہ اس رات کی بہت بڑی ناقدری اور ناقابل تلافی محرومی ہے جس کا احساس شاید اکثریت کو نہیں ہے۔کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا،اللہ سبحانہ وتعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس نا قابل تلافی زیاں کا احساس عنایت کرے اور اپنی طرف رجوع کی توفیق عطافرمائے- آمین












