گرمی شدید ہوتی جا رہی ہے ۔نہ صرف دہلی اور اس کے اطراف میں بلکہ لٹین زون میں بھی ۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ لٹین زون تو 2014کے بعد مسلسل الکشن موڈ میں رہنے کی وجہ سے سیاسی طور پر گرم ہی رہتا ہے ۔لیکن اس بات کی تائید کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ اس گرمی میں اور اضافہ کرنے بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار دہلی آ چکے ہیں ۔اور ان کی اس دہلی آمد سے سیاسی پارہ مزید اوپر جا سکتا ہے ۔دراصل بات یہ ہے کہ نتیش کمار فی الوقت ایک ایسا سیاسی چہرہ ہیں جنہیں مودی جی کے مقابل رکھ کر بھی دیکھا جا رہا ہے اور زیادہ تر سیاسی مبصرین یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ 2024 کے عام انتخاب میں اگر نتیش کمار کونریندر مودی کے مقابلے میں بطور وزیر اعظم پیش کر دیا جائے تو مودی جی کے 37فیصد ووٹ شئیر کے مقابلے میں نتیش کمار 63فی صد ووٹ کے حقدار ہو سکتے ہیں ۔یقینا نریندر مودی جی 2014 میں جس عوامی حمایت کے بل پر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے اس کی بنیاد کانگریس کے خلاف مبینہ کرپشن کے الزامات ہی تھے اور ساتھ ہی آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ساتھ ہی آدھے ہندوستان میں بی جے پی کی مظبوط تنظیم اور کارپوریٹ سیکٹر کے ذریعہ خریدی ہوئی میڈیا بھی تھی ۔اور اس سارے ہائی ٹیک ایونٹ کے لئے دھنا سیٹھوں کی بھری ہوئی تجوری اور اس کا کھلا ہوا منہ تھا جو مودی جی کو پردھان منتری بنانے کے لئے ایک اشارے کا محتاج تھا۔لیکن ان سب کے باوجود مودی جی 37 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکے کیونکہ ان کے اپنے کردار اور بیک گراؤنڈ کی تجوری خالی تھی ۔جبکہ نتیش کمار آج ملک کے چند سرکردہ ایسے لیڈروں میں ایک ہیں جنہوں نے سیاست کی ابتدائی تعلیم جئے پرکاش نارائن کے تاریخی آندولن سے حاصل کی اور پھر باجپائی کے ساتھ کیبنٹ منسٹر رہ کر یہ ثابت کیا کہ وہ صرف ڈگری والے انجینئر نہیں ہیں بلکہ سیاسی انجینئر نگ کے بھی ٹاپر ہیں ۔نتیش کمار کا سیاسی کیرئر نریندر مودی سے طویل بھی ہے اور موثر بھی ۔وہ ہندوستانی تہذیب اور آئین ہند کے مضبوط سپہ سالار ہیں ۔سادگی ان کا زیور ہے اور بے ایمانی سے ان کا دور دور تک کوئی رشتہ نہیں ۔اتنے طویل سیاسی پاری میں نتیش کمار نے اپنے دامن پر بد عنوانی کا کوئی چھینٹا پڑنے نہیں دیا اور نہ انہیں کوئی متعصب کہہ سکتا ہے ۔بہار کو ،جہاں وہ ایک طویل عرصے سےوزیر اعلی ہیں آج وہ جس ترقی کے شاہراہ پر لے آئے ہیں اور اسے نشہ مکت بنا دیا ہے وہ ان کا اپنا کارنامہ ہے ۔ نتیش کمار اور نریندر مودی میں ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ جہاں نریندر مودی نے اپنی بیاہتا بیوی سے کنارہ کشی اختیار کرکے یہ پرچار کیا کہ وہ اقربا پرور نہیں ہوسکتے جبکہ نتیش کمار اپنے بھرے پرے خاندان اور اولاد کی موجودگی کے باوجود یہ ثابت کرچکے ہیں کہ پتر موہ سے زیادہ انہیں دیش اور اس کی جنتا پیاری ہے ۔
وہ ایک اصول پسند سیاستداں ہونے کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں جسے کارپوریٹ سیکٹر کی پالتو میڈیا انکی خرابی بتاتی ہے ۔لیکن ان کے فیصلہ لینے کی قوت سے موجودہ حکومت بھی تلملا کر رہ جاتی ہے ۔آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات اسی لیڈر کی ہوسکتی ہے جو بے خوف ہو اور جس کو معلوم ہو کہ اس کے مقابل کھڑی ہوئی حکومت کے پاس اس کی کوئی ایسی خفیہ فائل ہو ہی نہیں سکتی جس کو سنگھا کر اس کے پیچھے ای ڈی اور سی بی آئی کو لگایا جاسکے ۔
یعنی 2024 میں مودی اینڈ کمپنی کو دعوت مبارزت دینے کی حیثیت کا وہ لیڈر اس بار جب دہلی آیا ہے تو اس کامطلب ہے کہ اسے اب راجدھانی میں اپنے ہم خیال پارٹی لیڈروں سے اس ایجنڈے کی بات کرنی ہے جس ایجنڈے پر 2024 کا عام انتخاب لڑا جانا ہے ۔اس سفر میں یقینا ان کی ملاقات کانگریس سے بھی ہوگی کیونکہ وہ بہار میں کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ کانگریس کو جلد از جلد یہ صاف کر دینا چاہئے کہ 2024کے عام انتخاب میں اس کا ایجنڈہ کیا ہے ۔اور ایسا لگتا ہے کہ کانگریس اعلی کمان تک نہ صرف ان کی بات پہنچ گئی ہے بلکہ وہ نتیش کمار پر بھروسہ کرنے کو بھی تیار ہے ۔نتیش کمار اپنے کئی بیانات میں یہ کہہ بھی چکے ہیں کہ نریندر مودی اینڈ کمپنی سے عام انتخاب میں دودو ہاتھ کرنے کے لئے جس محاذ کی ضرورت ہے اس میں کانگریس کا ہونا ناگزیر ہے ۔ویسے بھی بہار میں کانگریس ان کے ساتھ ہے ۔نتیش کمار بڑ بولے کبھی نہیں رہے جو بولتے ہیں سوچ سمجھ کر بولتے ہیں اور پھر اس پر قائم بھی رہتے ہیں۔ابھی کچھ دنوں پہلے ہی انہوں نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ کانگریس سمیت تمام حزب اختلاف کی پارٹیاں اگر چاہیں تو بی جے پی کو سو سیٹوں کے اندر محدود کیا جا سکتا ہے۔نتیش کمار کے بیان کا یہ تیر بہار سے دہلی تک بہت پہلے پہنچ گیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے چانکیہ ان دنوں بہار میں زیادہ ہی سرگرمی دکھا رہے ہیں اور اپنے ہر خطاب میں یہ کہنا نہیں بھولتے کہ نتیش کمار کے لئے بی جے پی کا راستہ بند ہو چکا ہے ۔اس میں کسی بھی شک کی گنجائش نہیں ہے کہ نریندر مودی خود بھی نتیش کمار سے براہ راست مقابلے کی ہمت خود میں نہیں پاتے ۔ابھی وہ اسی ادھیڑ بن میں ہونگے کہ کسی بھی طرح ان کے خلاف محاذ کی قیادت نتیش کمار کے ہاتھ میں نہ چلی جائے ۔اڈانی کے سلسلے میں راہل گاندھی کے سوالات انہیں پہلے ہی نیم جان کر چکے ہیں اور پوری بی جےپی بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ایسے میں مودی کا بہار سے نکل کر دہلی آنا سیاست کے پارے کو ساتویں آسمان پر پہنچا دینے والا ہے ۔قیاس تو یہی لگایا جا رہا ہے ۔
ایک باوقار ،تجربہ کار ،دور اندیش ،سماجوادی،سنجیدہ او بی سی، ہندی بیلٹ کا سب سے قد آور لیڈر اگر بہار سے چل کر دہلی آتا ہے اور کچھ کہتا ہے تو اس پر غور بھی کیا جانا چاہئے اور بی جے پی کے خلاف قیادت کےلئے اس سے گذارش بھی کی جانی چاہئے ۔
شعیب رضا فاطمی












