طویل انتظار کے بعد بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار اپنے تین دن کے نہایت مصروف لیکن کامیاب دورے کو مکمل کر کے واپس پٹنہ لوٹ گئے اور مبصرین سیاست کو اس کام پر لگا گئے کہ وہ 2024کے عام انتخاب کے سلسلے میں اپوزیشن جماعتوں کے بنت ہوئے اس نئے اتحاد کے مستقبل کا تجزیہ کریں۔نتیش کمار اسمبلی انتخابات 2024 کے لیے اپوزیشن کے اتحاد کو مضبوط کرنے کے مشن پر دہلی کے دورے پر آئے تھے۔ پہلے دن انہوں نے لالو یادو سے ملاقات کی اور دوسرے دن انہوں نے کانگریس صدر کھڑگے اور راہل گاندھی سے ایک طویل میٹنگ کر کے پریس کو یہ بتایا کہ کانگریس صدر سے ساری باتیں ہو گئی ہیں اور اب کام کرنا ہے۔خود کانگریس صدر نے اس میٹنگ کو تاریخی میٹنگ قرار دیا۔نتیش کمار نے میٹنگ میں طے کی گئی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے اپنے دورے کے تیسرے دن انہوں نے سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری اور سی پی آئی کے لیڈر ڈی راجہ سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔اس کے پہلے نتیش کمار دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال سے بھی ملاقت کی اور پریس کے سامنے کھڑے ہوکر یہ اعلان بھی کیا کہ 2024کے انتخاب میں عاپ بھی تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کو تیار ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے لیے کوشاں کانگریس کی اعلیٰ قیادت اور جے ڈی یو-آر جے ڈی بدھ کی میٹنگ کو تاریخی قرار دے رہے ہیں، لیکن اگر مجوزہ فارمولوں پر عمل کیا جاتا ہے تو کانگریس کو بڑی قربانی دینی پڑسکتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ نتیش کمار اور تیجسوی یادو نے کانگریس کو یہ اشارہ کیا ہے کہ وہ صرف ان سیٹوں پر توجہ مرکوز کرے جہاں ان کی پارٹی کامیاب ہوئی ہے یا دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ایسے میں کانگریس کو تقریباً 260 سیٹوں تک محدود رہنا پڑے گا اور بقیہ 300 سیٹوں پر اتحادیوں کا مقابلہ ہوگا۔ یہ تجویز اس نقطہ نظر سے سامنے آئی ہے کہ ایسی صورتحال میں بی جے پی امیدوار کے خلاف صرف ایک مشترکہ امیدوار دیا جاسکتا ہے۔ ورنہ علاقائی جماعتوں کو ساتھ لانا مشکل ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں بتایا گیا کہ بہار میں نتیش کمار نے 2015 کے اسمبلی انتخابات میں آر جے ڈی سمیت تین بڑی پارٹیوں کا اتحاد بنا کر بی جے پی کو اقتدار میں آنے سے روکا تھا۔ یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کانگریس، آر جے ڈی اور جے ڈی یو اس فارمولے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اب باقی جماعتوں سے بھی اس فارمولے پر بات کی جائیگی۔ اگر کسی جماعت کے پاس کوئی اور فارمولہ ہے تو اسے بھی زیر غور لایا جاسکتا ہے۔
فی الحال اسی فارمولے پر اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش جاری رہے گی اور اس کے لیے مختلف رہنما مختلف جماعتوں سے بات کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ نتیش کمار کو ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی جیسی جماعتوں سے بات کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے، جب کہ تیجسوی سماج وادی پارٹی، بھارت راشٹرا سمیتی وغیرہ سے بات کریں گے۔ تیجسوی کے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو کے ساتھ بھی خاندانی تعلقات بھی ہیں اور اس کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کانگریس دیگر جماعتوں سے بات چیت کرے گی۔اس سلسلے میں نتیش نے دو دنوں میں عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال، سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری اور سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ سے ملاقات کرکے بی جے پی مخالف محاذ پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔اور جیسا کہ بتایا جارہا ہے کہ ان تینوں سربراہوں نے بھی نتیش کی تجویز پر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ قیاس لگایا جا رہا ہے کہ نتیش کمار اگلے چند دنوں میں بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے بھی ملاقات کر سکتے ہیں۔ادھر ممتا بنرجی گزشتہ ماہ بنگال کی ساگردیگھی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں بائیں بازو اور کانگریس کے مشرکہ امیدوار سے شکست کے بعد پریشان ہیں۔اور آئندہ اکیلے چلنے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔
اگر پچھلے لوک سبھا انتخابات کو بنیاد کے طور پر لیا جائے تو کانگریس کی کارکردگی صرف تین ریاستوں کیرالہ، تمل ناڈو اور پنجاب میں اچھی رہی۔ کانگریس نے ان ریاستوں میں 38 سیٹوں پر لڑ کر 31 سیٹیں جیتی تھیں۔ باقی ملک میں کانگریس 383 سیٹوں پر لڑ کر صرف 21 سیٹیں ہی جیت سکی تھی۔مجموعی طور پر، کانگریس نے گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں کل 421 سیٹوں کے لیے امیدوار کھڑے کیے تھے۔ ان میں سے وہ صرف 52 سیٹیں جیت سکی اور 209 سیٹوں پر دوسرے نمبر پر رہی۔ آر جے ڈی اور ایس پی سمیت اپوزیشن کی کئی جماعتوں نے تجویز پیش کی ہے کہ کانگریس کو ان 261 سیٹوں میں سے زیادہ سے زیادہ پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ اور باقی نشستیں دوست جماعتوں کے حوالے کر دینی چاہئے۔ اس کے ساتھ جن ریاستوں میں علاقائی پارٹیاں مضبوط ہیں، انہیں اس ریاست کی کمان بھی ملنی چاہیے۔ گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کی 148 سیٹوں پر ضمانت بھی ضبط ہو گئی تھی۔ اس دوران نتیش کمار کے وزیر وجے چودھری نے کہا کہ بی جے پی کہتی رہتی ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کوئی ویکنسی نہیں ہے، لیکن ہم جگہ خالی کوانا جانتے ہیں۔ اور الیکشن کے ذریعے دکھائیں گے بھی کہ پی ایم سیٹ کی ویکنسی کیسے نکلتی ہے ہمیں کسی بھی قیمت پر آئین کو بچانا ہے اور اس کے لئے بی جے پی کو شکست دینا ہی ہوگا۔سیتا رام یچوری نے بھی سی ایم نتیش کمار سے ملاقات کے بعد، ٹویٹ کر کے کہا کہ جے ڈی یو کے صدر اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ ہندوستانی جمہوریہ، آئین اور جمہوریت کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت کی۔ سیکولر جمہوری جماعتوں کو متحد کرنے کی جو کوشش وہ کر رہے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے بی جے پی اور مودی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ، آئیے ہم ہندوستان اور لوگوں کی روزی روٹی بچانے کے لیے بی جے پی کو شکست دیں۔اس موقعہ پر وجے چودھری یچوری نے کہا کہ ہمیں آج آئین کو بچانا ہے، اور اس کے لیے ہمیں 2024 کے انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینا ہوگی۔ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے وجے چودھری نے کہا کہ بی جے پی کہتی رہتی ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لیے کوئی آسامی نہیں ہے، لیکن ہم ایک خالی جگہ بنائیں گے اور الیکشن کے ذریعے دکھائیںگے۔امید کی جا رہی ہے کہ ننتیش کمار آنے والے چند دنوں میں کئی اور تجربہ کار لیڈروں سے مل سکتے ہیں۔نتیش کمار اور کانگریس و دیگر اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کا نتیجہ یہ ہوا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر اور مہاراشٹرا میں کانگریس شیو سینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے متحدہ محاذ مہا وکاس اگھاڑی کے سرپرست شرد پوار نے دوسرے دن ہی کانگریس صدر اور راہل گاندھی سے ملاقات کر کے اڈانی کے سلسلے میں اپنے بیان سے پیچھے ہٹ کر اپوزیشن اتحاد کے ساتھ ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔کل ملا کر نتیش کمار کی دہلی آمد نے اپوزیشن جماعتوں کو جھنجھوڑ کر جگا دیا ہے اور برسر اقتدار جماعت کی حکمت عملی بننے اور بگڑنے لگی ہے۔












