پریاگ راج، بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے اس وقت کے لیڈر راجو پال کے قتل کے بعد مافیا عتیق احمد کے ستارے گردش میں آگئے اور امیش پال کا قتل تو اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔راجو پال کو 25 جنوری 2005 کو سیاسی دشمنی کی وجہ سے قتل کر دیا گیا تھا۔ یہیں سے عتیق کے ستارے گردش میں آگئے تھے ۔ عتیق نے 2006 میں راجو پال کے قتل کے اہم گواہ امیش پال کو گواہی نہ دینے پر اغوا کروایاتھا۔ اس معاملے میں عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف کو نامزد کیا گیا تھا۔راجو پال کے اہم گواہ امیش پال نے ریاست میں بی ایس پی کی حکومت بننے کے بعد 2007 میں عتیق کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔ 2007ءمیں عتیق فرار ہو گیا تھا۔ راجو پال قتل کیس کی فائل دوبارہ کھولی گئی۔ عتیق اس وقت رکن اسمبلی تھے ، اس کے بعد بھی پولیس نے ان پر 20 ہزار کا انعام رکھا تھا۔ بعد میں 2008 میں اسے دہلی کے پریتم پورہ علاقے سے گرفتار کرکے پریاگ راج لایا گیاتھا۔24 فروری کو امیش پال کے قتل کے الزام میں سابرمتی جیل میں بند عتیق احمد، بریلی جیل میں بند اشرف، بیوی شائستہ پروین، بیٹوں اور 9 دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ امیش پال کے اغوا کے 17 سال بعد پہلی بار 28 مارچ کو ایم پی/ایم ایل اے کی خصوصی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اسی کیس میں فریقین کے دلائل سننے کے بعد جج نے ثبوت کی کمی کی وجہ سے اشرف کو بے قصور قرار دیاتھا اور اسی شام عتیق کو سابرمتی اور اشرف کو بریلی جیل بھیج دیا گیا۔امیش پال کے قتل کے بعد عتیق کا باقی خاندان بھی بکھر گیا۔ عتیق احمد اور اشرف، بیٹے عمر اور محمد علی پہلے ہی جیل میں تھے ۔ تیسرا بیٹا اسد اور اہلیہ شائستہ پروین اور خاندان کے دیگر افراد مفرور ہیں۔ شائستہ پر 50 ہزار جبکہ اسد پر پانچ لاکھ روپے کا انعام تھا۔ وہ 13 اپریل کو جھانسی میں ایس ٹی ایف کے ساتھ تصادم میں مارا گیا۔عتیق احمد اور بھائی اشرف کو13 اپریل کو امیش پال کے قتل کے معاملے میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (سی جے ایم) دنیش کمار گوتم کی عدالت نے کیس میں پوچھ گچھ کے لئے 17 اپریل تک پانچ دن کا پولیس ریمانڈ منظور کیا تھا۔ ایس ٹی ایف 13 اپریل کی شام سے ہی مسلسل پوچھ گچھ کر رہی تھی۔ اس دوران اس نے بہت سے اہم رازوں کو قبول کیا۔
جمعہ کی رات معمول کے چیک اپ کے لیے اسے کالون اسپتال لے جایا گیا تھا۔ ایس ٹی ایف کے ساتھ مڈبھیڑ میں بیٹے اسد کے مارے جانے پر میڈیا کے تیکھے سوالات کے جواب میں عتیق پرسکون نظر آرہاتھا، جبکہ اشرف نے جواب میں کہا“اللہ نے دیا تھا اور اللہ نے واپس لے لیا۔ہفتہ (15 اپریل) کی رات پھر عتیق اور اشرف کو معمول کے چیک اپ کے لیے کالون اسپتال لے جایا گیا۔ یہیں پر حملہ آوروں نے میڈیا اہلکاروں کی شکل میں سوال کرنے کے لئے اس کے قریب پہنچ کر کل دیر رات تقریباً 10:30 بجے کئی رؤ نڈ فائرنگ کرکے عتیق اور اشرف کو ہلاک کردیا۔












