عرفان صدیقی نے کہا تھا
عجب حریف تھا میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
میرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لئے
2014سے اب تک ہمارے ملک میں یہی ہو رہا ہے اور ہمارے حریف کو یہ بھی پتہ نہیں کہ اس کی دشمنی سے ہمارا جو نقصان ہو رہا ہے وہ نقصان اس پورے ملک کا نقصان ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کو معلوم ہے کہ ہمارے ہم وطنوں کی ایک قلیل تعداد ہر دور میں ایسی رہی ہے جو آستھا کے نام پر جھوٹ کی کھیتی کرتے ہیں ،اباس راہ میں تاریخ آئے یا جغرافیہ ،سائنس آئے یا ٹکنالوجی ،انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ان مٹھی بھر لوگوں نے تو خود کو بھکت بنا لیا ہے ان پاکھنڈیوں کا جنہیں عقیدت ہے تو صرف اقتدار سے۔ان کے سامنے نہ ملک بڑا ہے اور نہ اس کی تاریخ و تہذیب۔اقتدار کی ہوس میں ہی اس گروہ نے جب یہ دیکھا کہ باجپائی اور اڈوانی جیسے بلا کے قائدین بھی جب ملک کی باگ ڈور کو پوری طرح اپنے قبضہ قدرت میں نہ لے سکے اور ہم پورے ملک میں کھل کر ہندوتوا کا تانڈو نہیں کر سکے تو اب آگے اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔لیکن پھر یکایک گجرات سے ایک آواز آئی کہ ہمیں بھی ایک موقع دیا جائے اور پھر وہی ہوا جو گجرات میں پہلے بھی ہو چکا تھا۔ایک ادرک جیسی مسلم منافرت پر مبنی تنظیم اور اڈانی اور امبانی جیسے گجراتی تجارتی گھرانوں کے پیسوں کا استعمال کر کے پورے ملک میں مسلمانوں کو ویلن بنا دیا گیا ،سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو پپو بنا دیا گیا ،گاندھی بنام گوڈسے کی بحث شروع کر دی گئی اور یہ ثابت کیا گیا کہ گاندھی جی کو مارنے والا حق بجانب تھا اور پھر باضابطہ پارلیمنٹ میں گاندھی کے قاتلوں کے نام پر زندہ باد کے نعرے لگے ،کانگریس کے سینئر لیڈر اور آزاد ہندوستان کے پہلے ہوم منسٹر کو تاریخ سے اغوا کر کے انہیں بھگوائی بن کر ان کی مورتی لگائی گئی۔ساری اپوزیشن جماعت کو اس پارٹی کے صدر نے پبلک میٹنگ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد ملک سے علاقائی پارٹیاں پوری طرح ختم ہو جائینگی۔سائنس اور ٹکنا لوجی کے اس طوفانی دور میں ایجوکیشن بجٹ کو کم کر کے دفائی بجٹ کو صرف اس لئے بڑھایا گیا تاکہ اسلحہ خریداری کے کمیشن خوروں کا فائدہ ہو۔الکٹورل بانڈ کے ذریعہ ٹھیکیداری پر کمیشن لینے کا نیا نظام ڈیولپ کیا گیا۔ ریاستوں سے جی ایس ٹی وصول کر مرکزی حکومت نے انہیں ان کا حصہ دینے میں بھی سیاست کرنے لگی۔لیکن ان سب کے درمیان ملک میں نہ تو کوئی احتجاج ہوا اور نہ ہی عوامی بیداری کی کوئی ایسی ہوا چلائی گئی جس سے اس سرکار سے ملک کا دامن چھوٹے ، سوائے کسان تحریک اور راہل گاندھی کے بھارت جوڑو یاترا کے۔لیکن ان دونوں عوامی تحریک کی سرکار نے جس طرح مخالفت کی وہ ہمارے سامنے ہے۔اب خبر آئی ہے کہ مغلوں کے عہد کو ہی اسکولی نصاب سے حذف نہیں کیا گیا ہے بلکہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد پر بھی حملہ شروع ہو گیا ہے اور بچوں کے نصاب سے یہ حذف کیا جا چکا ہے کہ مجلس آئین ساز سے مولانا ازاد کا کوئی تعلق تھا۔
ایک طرف ووٹ بینک کے چکر میں بھیم راؤ امبیڈکر کے نام پر پورے ملک میں سرکار جشن منا رہی ہے اور دوسری طرف مولانا آزاد جیسے سیکولر لیڈر کا نام نصاب سے ہٹا رہی ہے۔ اب اگر اسے بھی مسلم دشمنی میں اندھا ہونا نہ کہیں تو اور کیا کہیں۔
میں نے عرفان صدیقی کا شعر اسی لئے پیش کیا تھا کہ مسلم دشمنی میں یہ سرکار اتنی اندھی ہو گئی ہے کہ اسے اندازہ ہی نہیں کہ وہ اپنے ملک کی تاریخ سے کتنا سنگین کھلواڑ کر رہی ہے۔اسے اندازہ نہیں کہ ہندوستان میں گاندھی جی کے فکری سرچشمہ کو عام کرنے میں مولانا آزاد کا کتنا بڑا رول تھا۔اسے پتہ ہی نہیں کہ اسہیوگ آندولن کے ذریعہ انگریزی حکومت کی مخالفت کو مولانا آزاد نے مسلمانوں کے لئے فرض قرار دیا تھا اور اس کے لئے قرآن و احادیث سے دلائل بھی پیش کئے تھے۔اس حکومت کو اندازہ ہی نہیں کہ اس نے مولانا ابوالکلام آزاد کو این سی ای آر ٹی کے نصاب سے نہیں نکالا مولانا آزاد جیسے جمہوریت کے سچے بہی خواہ کی تذلیل کی ہے اور آنے والا وقت بتائے گا کہ مولاناآزاد کے دشمنوں کا بھارت کی سرزمین پر کیاحشر ہوتا ہے۔کیونکہ ابھی تک مولانا ابوالکلام کے دشمنوں کو ہم جناح کے حواری سمجھتے تھے لیکن اب وہ موقع آگیا ہے جب ہم کھل کر کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام سنگھی دراصل جناح کے چچا زاد بھائی ہیں اور انہیں ملک کا اقتدار دے کر بھارت کے لوگوں نے جو غلطی کی ہے اس کا جلد از جلد تدارک نہ کیا گیا تو بھارت کو جنونی پاکستان بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔












