آخر وہی ہوا جس کا اندازہ لگایا جارہا تھا ۔خود عتیق کہہ چکا تھا کہ اس کا قتل ہو سکتا ہے ۔اشرف نے تو کہا تھا کہ اسے ایک بڑے پولیس افیسر نے بتا یا کہ اسے پولیس کسٹڈی سے نکال کر نمٹا فیا جائے گا۔اتر پر دیش کے وزیر اعلی اکھلیش یادو سے دوبدو مباحٹے میں چند دنوں پہلے ہی عتیق کو سماج وادی پارٹی اور بی ایس پی کا پالا ہوا غنڈہ قرار دیتے ہوئے اسے مٹی میں ملانے کا عہد کرتے ہیں ۔اب ایک ٹھاکر کا کیا ہوا عہد اگر پورا ہوا تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے ۔جوگی جی یہ کیوں بتائینگے کہ بھیرو سنگھ شیخاوت کے انتخابی مہم میں جب بی جے پی کا ساتھ سماجوادی پارٹی نے نہیں دیا تھا اور عتیق احمد نے پارٹی وہپ کی مخالفت کرتے ہوئے بھیرو سنگھ شیخاوت کے حق میں ووٹ کیا تھا جو بی جے پی کے امیدوار تھے ۔ویسے بھی جوگی اور ان کی پارٹی کے لوگوں کو تاریخ یاد رکھنے کی ضرورت کیا ہے ۔جب وہ خود ہر روز ایک نئی تاریخ بنا رہے ہیں ۔اسد کے قتل کے دوسرے دن اشرف اور عتیق احمد کے قتل کا وقت بھی کتنا معقول ہے کہ اسی وقت ملک کی سب سے بڑی بر سر اقتدار پارٹی کے سینئر لیڈر ستیہ پال ملک نے جو 2019میں جموں کشمیر کے گورنر تھے نے اعتراف کیا کہ پلوامہ میں فوجیوں پر حملہ ہوا تھا اور ہمارے چوالیس ٹرینڈ فوجی شہید ہو گئے تے وہ سراسر سرکاری چوک تھی اور جب میں نے وزیر اعظم س یہ بات بتائی تو انہوں نے مجھے خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا اور میں چپ ہوگیا ۔
آپ تصور کر سکتے ہیں کہ پلوامہ میں شہید فوجیوں کی لاش پر سیاست کر کے ہی مودی جی نے 2019کا انتخاب جیتا تھا ۔اور اب ستیہ پال ملک کے اس بیان کے بعد اس دھماکے کی اصل وجہ ،یعنی سرکار کی ناکامی کا ذکر کرنے سے وزیر اعظم کو روکنا کس طرف اشارہ کرتا ہے یہ قارئین کے صوابدید پر چھوڑتا ہوں ۔لیکن کمال یہ ہے کہ ہمارے ملک کی قومی میڈیا نے کہیں بھی اور کسی بھی صورت میں ستیہ پال ملک کے اس بیان یا انکشاف کا ذکر نہیں کیا اور سارے اسکرین پر عتیق اور اشرف ہی چھائے رہے۔

کیا کسی گورنر کے ذریعہ دیا گیا یہ بیان معمولی نوعیت کا ہو سکتا ہے جو خود اسی پارٹی اور اس کے نظریہ کا پروردہ ہو لیکن میڈیا نے اس کے بیان کو ایسے نظر انداز کیا جیسے وہ بیان کانگریس یا عاپ کے کسی تیسرے درجہ کے لیڈر نے کہی ہو ۔لیکن ہماری جمہوریت میں اب یہ رویہ عام ہے لہذا کیسی شکایت اور کس کا ماتم۔
بی جے پی نے بھی اور خاص طور پر جوگی سرکار نے ایک ایک کر کے جمہوری اقدار کے تمام ستونوں کو جس طرح بلڈوز کیا ہے اس کی دوسری مثال ملنی مشکل ہے ۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ بلڈوزر کا چلن اب پورے ملک میں عام ہو گیا ہے ؟اور اس غیر قانونی حرکت کو بھی ہمارے معاشرے نے مثبت معنوں میں قبول کر لیا ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش کے وزیر اعلی خود کو بلڈوزر بابا کے نام سے پکارا جانا قابل فخر سمجھتے ہیں ۔اور اب جس طرح ملزمین یا سرکار کے ناپسندیدہ افراد کو سر عام گولیوں سے اڑا دینے کا چلن عام ہوا ہے اور اندھ بھکتوں نے اس کی تائید شروع کی ہے عین ممکن ہے کہ جلد ہی اس طرح کے انکاؤنٹر اور چوراہے پر گولی مارنے کا رواج بھی عام ہو جائے اور نہ تو عدالت کی ضرورت باقی رہے اور نہ جیل کی ۔
عتیق اور اشرف کا قتل تو ایک علامت ہے ۔اور جس طرح اس کے لائیو قتل کو سر عام دکھایا گیا ہے اس سے اس کے سیاسی زاویہ کا بھی پتہ چلتا ہے ۔اور اب جو پولیس والوں کی معطلی ،قانون و انتظامیہ کی ناکامی کا سلسلہ چلا ہے یہ سب خانہ پری ہے ورنہ ان تین نوجوانوں کی آرتی اتارنے کا پورا بندو بست اسی انداز میں ہو چکا ہوگا جس طرح بلقیس کے مجرموں کی ہوئی تھی ۔اور آنے والے چند مہینوں میں یہ سب کچھ سامنے آ جائیگا ۔بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے ذریعہ ابھی سے اس معاملے کو آسمانی فیصلہ ،جیسی کرنی ویسی بھرنی اور گیتا میں کرشن کے کہے گئے اشلوکوں سے تعبیر کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ قتل سیاسی ہے اور اس برے وقت میں جب بی جے پی چاروں طرف سے گھر چکی ہے وہ اس موقعہ سے فائدہ اٹھا سکتی ہے لیکن یہ اسی وقت ہوگا جب عام لوگ اس کو سازش نہیں بلکہ جوگی حکومت کا کارنامہ سمجھنے لگینگے ۔اب گودی میڈیا کئی دنوں تک اس قتل کے واردات کو کو الگ الگ زاویہ سے دکھاتا رہیگا ۔اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم کی ڈگری کا مطالبہ، ہو یا جے پی سی کا مطالبہ ،ستیہ پال ملک کے پلوامہ پر دئے بیان کا معاملہ ہو یا پھر کرناٹک کے انتخاب سے پہلے ہی مختلف پرائیویٹ چینلوں میں بی جے پی کی کراری شکست کا معاملہ ۔ان سب کو ٹی وی چینلوں سے ہٹا دینے کے لئے عتیق اور اشرف کے قتل کا ویڈیو دکھانا کافی ہے ۔یہ ایک ایسی فلم ہے جس میں بی جے پی کے ووٹر کے لئے یا یہ کہیں کہ بھکتوں کے لئے تمام تفریحی لوازمات موجود ہیں ۔بس نہیں ہے تو ایمانداری ،بھائی چارہ ،انسانی ہمدردی ،امن و سکون اور جمہوری قدریں ۔لیکن ابشاید اس ملک کے عام لوگوں کو بھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔












