ذات پر مبنی مردم شماری کا ڈول بہار میں ڈالا گیا اور راشٹریہ جنتا دل کے اس مطالبے کو نتیش کمار کی جے ڈی یو نے بھی مان لی اور بالآخر بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کا نہ صرف آغاز ہو گیا بلکہ اس کا پہلا مرحلہ مکمل بھی ہو گیا اور دوسرے مرحلے کا کام جاری ہے۔ذات پر مبنی مردم شماری کا مطالبہ بہت پہلے سے کیا جاتا رہا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں خودلالو یادو نے بھی اپنے دور اقتدار میں اس مطالبے پر کام نہیں شروع کیا جبکہ ان کی سرکار کو غریب غربا کی سرکار کہا جاتا رہا ہے۔سماجی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کہتے ہیں کہ اب اس کی ضرورت اس لئے محسوس کی جارہی ہے کہ بی جے پی نے دلت، مہادلت ،قبائلی اور پسماندہ سماج کے لوگوں کو بڑی تعداد میں اپنے قریب کر لیا ہے اور انتخاب در انتخاب اس طبقہ کا ووٹ بہت تیزی کے ساتھ بی جے پی کی طرف راغب ہو رہا ہے۔یہ ایک ایسی زمینی سچائی ہے جس پر تمام شیڈول کاسٹ شیڈول ٹرائب اور بہت حد تک او بی سی کے لیڈروں کو بھی ایک عرصہ تک یقین نہیں ہوا تھا لیکن گذشتہ اتر پردیش انتخاب میں یہ بات پوری طرح کھل کر سامنے آگئی کہ دلتوں مہادلتوں اور شیڈول کاسٹ و شیڈول ٹرائب کے ساتھ او بی سی کے ووٹر بھی بہت بڑی تعداد میں بی جے پی کو ووٹ دیتے ہیں اور بی جے پی کی کامیابی کی بڑی وجہ وہی ووٹر ہیں اور پانچ کیلو اناج کی اسکیم اس کی بنیادی وجہ ہے۔
افسوسناک سچائی یہ بھی ہے کہ بی جے پی جس نظریات پر قائم ہے اس نظریات کے دائرے میں دلتوں اور پسماندہ ذات کے لوگوں کی حالت مسلمانوں جیسی ہی ہے۔اور رام راجیہ میں ان کا حصہ زیرو سے زیادہ نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ طبقہ اگر بی جے پی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے تو یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ پسماندہ ذات و قبائل شیڈول کاسٹ اور شیڈول ٹرائب میں بیداری کی مہم چلانے والوں نے کہیں نہ کہیں تساہلی ضرور کی ہے۔اپنی آبادی کے حساب سے سہولیات حاصل کرنے کا نعرہ تو ایک عرصہ سے لگایا جاتا رہا ہے۔لیکن جب تک سرکاری طور پر یہ معلوم نہ ہو کہ کس ذات کی آبادی کتنی ہے اس وقت تک مطالبے میں نہ تو وہ زور پیدا ہو سکتا اور نہ ہی سرکار کوئی پالیسی بنا سکتی ہے۔خیر سے بہار میں نتیش کمار کی سرکار نے اس اہم کام کی ذمہ داری اٹھائی اور ایسا لگتا ہے کہ 2024کے پہلے جب اس مردم شماری کا اعلان ہو جائے گا تب بہار ہی نہیں پورے ملک کی سیاست میں ایک انقلابی تبدیلی دیکھنے کو ملی گی۔ایسا لگتا ہے کہ اب کانگریس نے بھی ذات پر مبنی مردم شماری کی اہمیت کو سمجھ لیا ہے کیونکہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر ملک میں ہر 10 سال بعد مردم شماری کرانے اور ذات پر مبنی جامع مردم شماری کو اس کا لازمی حصہ بنانے پر زور دیا ہے۔
انہوں نے یہ درخواست ایسے وقت میں کی ہے جب کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو کرناٹک میں ایک انتخابی میٹنگ میں وزیر اعظم مودی کو چیلنج کیا کہ وہ 2011 کی ذات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار اور ریزرویشن پر 50 فیصد کو عام کریں۔
16 اپریل کے اس خط میں ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم سے کہا ہے،”میں ایک بار پھر تازہ ترین ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کی اپیل کرتا ہوں۔ میں اور میرے ساتھی نے یہ مطالبہ کئی بار پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اٹھایا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ یہ مردم شماری جلد کرائی جائے اور ذات کی بنیاد پر مردم شماری کو اس کا حصہ بنایا جائے۔ کھڑگے نے مزید کہا کہ 2021 کی دس سالہ مردم شماری جلد کرانے سے سماجی انصاف اور بااختیاریت کو تقویت ملے گی۔
وہیں کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ٹویٹ کیا اور کہا کہ’جتنی زیادہ آبادی، اتنے زیادہ حقوق۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ ہمارے ملک میں ہر دس برس میں ایک بار جنرل مردم شماری ہوتی جو پچھلی بار2021 میں مجوزہ مردم شماری کورونا وائرس کی وباکی وجہ سے نہیں ہو سکی تھی۔اب کانگریس صدر نے مودی جی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ وہ اس مردم شماری کے ساتھ ہی ذات پر مبنی مردم شماری بھی کروالیں۔یہ بات غور کرنے کی ہے کہ بی جے پی ایسا کبھی نہیں کروائیگی لیکن کانگریس صدر کھڑگے نے یہ خط لکھ کر کانگریس کے موقف کو واضح کر دیا ہے۔












