رائے پور میں کانگریس کا یہ اعلان کہ پورے میں کاسٹ سینسس کی ضرورت ہے ،ایک بڑا اعلان تھا لیکن اس اعلان کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے بی جےپی کی پالی ہوئی میڈیا نے سرکار کے اشارے پر عوامی بحث کا حصہ نہیں بننے دیا اور موقع ملتے ہی کولار میں راہل گاندھی کے خطاب سے او بی سی کی مخالفت کا بے بنیاد الزام لگا کر انہیں عدالت سے معتوب کروا کر ممبر آف پارلیامنٹ کا حق بھی چھین لیا ۔لیکن کیا اس سازش میں بی جے پی کامیاب ہو گئی ؟

راہل نے اس راستے پر ایک قدم اور آگے بڑھا دیا اور اسی کولار میں کرناٹک اسمبلی انتخاب کی اپنی ریلی میں صاف کر دیا کہ وہ کاسٹ سینسس کے مدعے پر پوری مضبوطی کے ساتھ ان تمام لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو "جتنی جس کی سنکھیا بھاری اتنی اس کی حصہ داری "کے لئے ایک عرصہ سے کوشاں ہیں ۔یوں تو کانگریس نے آزادی کے بعد سے لگاتار یہ کوشش کی ہے کہ معاشرے میں موجود تمام طبقات کو اس کی ضرورت کے مطابق سرکاری اثاثے میں نمائندگی دی جائے اور 2011میں کانگریس نے اس کاسٹ سینسس کو ملکی سطح پر کرانے کے لئے ایک بڑے بجٹ کا بھی اعلان کیا تھا اور یہ کام تقریبا مکمل بھی ہو چکا تھا کہ 2014میں اس کی سرکار چلی گئی اور بی جے پی کی سرکار نے اس کام کو آگے نہیں بڑھایا ۔لیکن اب جب کانگریس نے بہت سوچ سمجھ کر اپنا صدر ایک دلت کو بنایا ہے تو اس نے اپنے پہلے قومی کنونشن میں ہی یہ عندیہ فے دیا کہ کمنڈل کے مقابلے منڈل کو لاکر وہ تمام منڈل کی ہمدرد پارٹیوں کو ایک ساتھ لانے کے ایک لمبے پلان پر کام کر رہی ہے ۔اور پھر نتیش کمار کے سآتھ کانگریس صدر اور راہل گاندھی کی میٹنگ نے بھی یہ وضاحت کر دی کہ نتیش کمار کو کانگریس اسی لئے اتنی اہمیت دے رہی ہے کہ وہ بہار میں کاسٹ سینسس پر بہت تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اور یہی وہ ہتھیار ہے جس کا استعمال کر کے کانگریس ملک کی تمام چھوٹی بڑی علاقائی پارٹیوں کو اپنے ساتھ شامل ہونے پر مجبور کر سکتی ہے ۔

کولار میں راہل گاندھی کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب کرناٹک میں انتخابی مہم زوروں پر ہے اور اگر کرناٹک میں کانگریس کامیاب ہوتی ہے تو یہ مان لیا جانا چاہئے کہ کئی دہائیوں سے مختلف علاقوں سے اٹھنے والی سماجک نیائے کا یہ ایجنڈہ ہی 2024کے عام انتخاب میں مودی کے نقلی نعرے” سب کا ساتھ اور سب کا وکاس”کی ہوا نکال دیگا ۔
اب بڑے بڑے سیاسی مبصرین بھی تسلیم کر رہے ہیں کہ کمنڈل کے مقابلے میں منڈل ہی ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے فرقہ پرست اور فتنہ پسند گروہ کو اس کے گھر میں ہی شکست دیا جا سکتا ہے ۔اور کانگریس نے اس بات کو پوری طرح سمجھ لیا ہے ۔نتیش کمار جو فی الوقت ملک کے سیاسی مدبرین میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں انہوں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ بات کہی تھی کہ اگر کانگریس پہل کرے تو ہم 2024میں بی جے پی کو 100سیٹوں تک محدود کر سکتے ہیں ۔یہ وہی فارمولہ ہے جس کے تحت کانگریس سمیت ان تمام سیاسی پارٹیوں کو اب سماجی انصاف کے کارواں کا فرد بن کر پرائیویٹ نوکریوں تک میں ریزرویشن کی بات کرنی ہوگی ۔دور بدلا ہے اور ٹکنا لوجی جس رفتار سے اپنے قالب بدل رہی ہے اس میں موجود نوکریوں میں بھی بہت تیزی سے کمی آئیگی ایسے میں پیچھے کا بیک لاک کے طور پر کروڑوں نوجوانوں کی نوکری کے لئے سنجیدہ کوشش ناگزیر ہے ۔اور یہ سماجی انصاف کا تقاضہ بھی ہے کہ ہم تمام جدید تقاضوں اور چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں ۔نریندر مودی اینڈ کمپنی جس ہندوتو کے راستے پر چل پڑے ہیں اس سے وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتے ۔مذہبی شدت پسندی کی راہ شیر کی سواری جیسی ہے ۔اگر اس سے اترنے کی کوشش کی تو پھر شیر خود انہیں کھا جائے گا ۔پانچ کیلو اناج ہو یا پھر قبائلی علاقوں سے لے کر دلت اور پچھڑی بستیوں تک آر ایس ایس کے ذریعہ وقتی ضرورت کی چیزیں تقسیم کرنے کا یہ چلن نیا نہیں ہے ۔عیسائی مشنریوں نے یہ کام پہلے بھی کئے ہیں اور آج بھی کر رہی ہیں ۔آر ایس ایس ان کے نقش قدم پر چل کر ان مشنریوں جتنی خدمت بھلے ہی نہ کرے لیکن پورے ملک میں یہ پرچار ضرور کرتے ہیں کہ یہ مشنریز مذہب تبدیل کرانے کے لئے اس برح کی خدمات کا ڈھونگ رچاتی ہیں ۔اور اس سے ایک طرف ملک میں مذہبی مافرت کے پھیلنے میں مدد ملتی ہے اور دوسری طرف بی جے پی کے ووٹ بینک میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔
ایسا نہیں ہے کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لئے صرف نعرہ کافی ہوگا ۔حزب اختلاف کی ہر پارٹی کو اپنے اپنے حلقہ اثر میں نہایت باریک بینی سے بی جے پی اور آر ایس کے بچھائے ہوئے جال کی پہچان کرنی ہوگی تب جاکر سماج کو ان نفرت فروشوں سے نجات ملیگی ۔اور ملک میں جمہوریت کو مضبوط بنیاد پر کھڑا رکھنے کے لئے یہ سب کرنا ناگزیر ہے ۔












