• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, مارچ 20, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

مسلم معاشرہ میں مسجد

ڈاکٹرمظفرحسین غزالی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
اپریل 20, 2023
0 0
A A
مسلم معاشرہ میں مسجد
Share on FacebookShare on Twitter

مسجد کو اسلامی معاشرہ میں مرکزی و قائدانہ حیثیت حاصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد سب سے پہلے مسجد تعمیر کرائی تھی۔ یہ مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ دین کی ترسیل، تذکیر، تبلیغ، تعلیم وتربیت کا مرکز تھی۔ یہیں بیٹھ کر آپ نے قبائل کے ساتھ معاہدے کئے۔ مملکتوں کے سربرہان کو دین کی دعوت کے پیغامات بھیجے۔ تمام سماجی، سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی معاملات طے فرمائے۔ مہمانوں سے ملاقات، بیت المال اور جنگی سپاہیوں کی بھرتی کا کام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود امامت فرماتے تھے۔ بعد کے زمانہ میں خلفاءراشدین (امیرالمؤ منین) سربراہان مملکت، گورنر اور ذمہ دار علاقہ امامت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ خلافت کے ملوکیت میں تبدیل ہونے کے ساتھ ہی دربار اور درباری علماءکا دور شروع ہوا۔ حالانکہ سربراہ حکومت خود کو خلیفہ کہتے تھے۔ اس دور کے درباری علماءکو دینی مصلح، مفکر اور عالم پسند نہیں کرتے تھے۔ لیکن مسجد کو پھر بھی مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ معاشرتی مسائل کے لئے مسلمان مسجد کا ہی رخ کیا کرتے تھے۔
بادشاہوں نے مساجد کے تقدس کو باقی رکھا۔ نئی مساجد اور مسافر خانے تعمیر کرائے، ائمہ کے وظائف مقرر کئے۔ مساجد کے اخراجات کے لئے جائیدادیں ان کے نام کیں۔ خوش لحن موذن اور اماموں کا مساجد میں تقرر کیا۔ سب کے لئے تعلیم و تعلم کا نظام قائم کیا۔ اس زمانہ میں دین کی تبلیغ و ترسیل کا کام صوفیاء، خانقاہوں، مصلحین و مفکرین امت کے ذریعہ انجام پاتا تھا۔ کچھ مدارس مساجد سے متصل بھی تھے۔ اس دور میں مسجد کی وہ حیثیت نہیں رہی جو نبی آخر الزماں یا خلفاءراشدین کے زمانے میں تھی۔ مسجد عبادات اور دینی معاملات تک محدود ہو کر رہ گئی۔ بادشاہوں کا نام جمعہ عیدین کے خطبہ میں پڑھا جاتا تھا۔ جس میں ان کا اقبال بلند رہنے کی دعا کی جاتی تھی۔ انہوں نے مسجد کے وسیع تصور کی کبھی ہمت افزائی نہیں کی۔ بادشاہ کو حکومت کے خلاف سازش اور بغاوت کا ہمیشہ خطرہ رہتا تھا۔ وہ صوفیاءاور خانقاہوں کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھتے تھے۔ جبکہ صوفیاءکرام کا مکمل دین کے بجائے صرف روحانیت اور ذکر و اذکار پر زور تھا۔
بھارت میں انگریزوں کی سب سے زیادہ مخالف علماءکرام نے کی۔ یہاں تک کہ احمد شہید بریلوی اور اسماعیل شہیدؒ دہلوی نے پنجاب میں اور رشید احمد گنگوہی نے شاملی کے میدان میں انگریزوں سے مسلحہ جنگ کی۔ مولانا محمود الحسن، مولانا عبیداللہ سندھی اور بہت سے دیوبندی علماءنے انگریزوں کے خلاف محاذ آرائی کی۔ جس کے نتیجہ میں انگریزوں نے بڑی تعداد میں علماءکرام کو پھانسی پر چڑھایا۔ یہاں تک کہ اکابرین کو یہ خطرہ لاحق ہونے لگا کہ ملک میں نماز پڑھانے، دین سے واقف کرانے اور دین کی باتیں بتانے والے عالم بھی باقی رہیں گے یا نہیں۔ اسی فکر کے تحت ملک بھر میں مکاتب اور مدارس دینیہ قائم کئے گئے۔ ان اداروں کی کفالت مسلمانوں نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے کی۔ دینی تعلیم پر غیر معمولی زور دینے کی وجہ سے ایک طرف تعلیم دین اور دنیا کے خانوں میں تقسیم ہو گئی۔ دوسری طرف مساجد کے امام تنخواہ دار ملازم بن گئے۔ محلے کے سب سے متقی، باکردار، اچھا اخلاق، بہتر معاملات، خوش لحن، دین کی سمجھ اور روحانیت سے تعلق رکھنے والے شخص کے اذان دینے اور نماز پڑھانے کا تصور دھیرے دھیرے ختم ہو گیا۔ اب جس کے پیچھے نماز پڑھی جا رہی ہے اس کے بارے میں نہ مقتدی کچھ جانتے ہیں اور نہ مسجد کی کمیٹی کے افراد۔ عام طور پر مسجد کی کمیٹی میں دولت مند، دبنگ حضرات ہوتے ہیں۔ ان کا تعلیم یافتہ ہونا یا دین کی سمجھ رکھنا ضروری نہیں ہے۔ مسجد کی تعمیر شاندار اور اس میں ہر سہولت تو دستیاب ہو گئی لیکن روحانیت مسجد سے غائب۔
پھر ایک دور ایسا بھی آیا جب کھانے اور معمولی تنخواہ پر نماز پڑھانے کے لئے امام رکھے گئے۔ رہنے کے لئے مسجد میں جو حجرا(کمرہ) دیا جاتا وہ اکیلے رہنے کے لئے بھی ناکافی ہوتا تھا۔ اس کا تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ امام صاحب کو خود گھروں سے جا کر کھانا لانا پڑتا تھا۔ ان سخت حالات میں دین کی خدمت انجام دینے ائمہ کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اس وقت رمضان یا جمعہ کو چھوڑ کر باقی دنوں میں بوڑھے اور ادھیڑ عمر لوگ ہی نماز میں دکھائی دیتے تھے۔ کوئی بچہ جماعت میں شریک ہو گیا تو اسے کندھے سے پکڑ کر پچھلی صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔ کچھ مساجد میں بعد نماز ظہر بچوں کو قرآن پڑھانے کا التزام تھا۔ اس وقت جمعہ کی نماز جامع مسجد اور عیدین کی نماز عیدگاہ میں ادا کرنے کو فوقیت دی جاتی تھی۔ اس کا مقصد اجتماعیت تھا یعنی آپسی میل ملاقات اور حالات سے واقفیت۔ کئی مرتبہ مسجد میں جمع ہونے کی برکت سے رکے ہوئے کام بن جاتے تھے۔ دراصل مسجد اخوت، مساوات، اتحاد، ایثار اور ہمدردی کے جوہر حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھی جاتی تھی۔ آداب مجلس اور آداب معاشرت کی عملی ترتیب بھی یہیں انجام پاتی تھی۔ اس وقت عبادات کا سماجی پہلو اور ملت کے ایک جسم ہونے کا تصور بہت واضح تھا۔ غیر مسلم مسجد اور نماز پڑھنے والوں کا احترام کرتے تھے۔ کئی غیر مسلم خواتین چھوٹے بچوں کو مغرب کے بعد نمازیوں سے پھونک لگوانے کے لئے مسجد کے دروازے پر کھڑی دکھائی دیتی تھیں۔ غیر مسلم مسجد یا درگاہ کے سامنے سے ہاتھ جوڑ کر گزرتے تھے۔
آج ائمہ مساجد کو معقول تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ ان کو فیملی کے ساتھ رہنے کے لئے (خاص طور پر شہروں میں) مکان مہیا کرایا جاتا ہے۔ ہر عمر کے لوگ نماز میں نظر آتے ہیں۔ مگر مسجد کی قرون وسطیٰ میں جو حیثیت تھی وہ نہیں ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسجد و درگاہوں کا غیر مسلموں میں جو احترام تھا وہ لگ بھگ ختم ہوتا جارہا ہے۔ مساجد کے خطبے عصری تقاضوں اور ملکی معاملات میں عوام کی رہنمائی سے قاصر ہیں۔ جبکہ مسجد نبوی کے خطابات ملت کے مسائل کا حل اور سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے عکاس ہوا کرتے تھے۔ مساجد کے ائمہ دین کی معلومات تو رکھتے ہیں لیکن ملک اور دنیا میں آرہی تبدیلیوں سے نہ وہ واقف ہیں اور نہ ہی انکی اس میں دلچسپی ہے۔ ہماری سماجی و اصلاحی تحریکات کی ناکامی کا بھی یہی سبب ہے۔ نماز میں صف بندی کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ لیکن عام طور پر لوگ جہاں تہاں بے ترتیب بیٹھ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے بعد میں آنے والے لوگوں کو چیر کر جگہ حاصل کرتے ہیں یا پھر انہیں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ بے ہنگم ہوتا ہے امام صاحب کے سلام پھیرتے ہی لوگوں کا مسجد سے نکلنا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ مسجد سے نکلنے کی جلدی میں لوگوں کے سروں پر سے گزر جائیں گے۔ اس سے نہ صرف نظم و ضبط بلکہ مسجد کا تقدس بھی پامال ہوتا ہے۔ جبکہ مسجد مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا نمونہ ہوتی تھی۔ اب مسجد کے سامنے پھل فروٹ بیچنے والوں کے ٹھیلے، بے ترتیب کھڑی سائیکل، موٹر سائیکل اور کاریں، بکھرے ہوئے جوتے چپل، فقیروں اور مدارس کے سفرا کا جمگھٹا اس کی پہچان بن گئی ہے۔ اکثر نمازیوں کا مسجد سے نکلنا تک دوبھر ہو جاتا ہے۔
نبی پاک نے اذان کے لئے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہما کا انتخاب کرکے اصول وضع کردیا کہ اذان وہ شخص دے جو خوش الحان ہو۔ یہ التزام مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں آج تک جاری و ساری ہے۔ بھارت کی مساجد میں یہ قابل عمل کیوں نہیں؟ اہل وطن کرخت آوازوں کی وجہ سے اذان پر اعتراض کرتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جمعہ کے دن مسلمانوں کے سڑک پر نماز ادا کرنے کی وجہ سے راستہ بند ہو جاتا ہے۔ ایمبولنس تک نہیں گزر پاتی۔ تاویلات کے بجائے اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ اگر ایک محلے میں کئی مساجد ہیں۔ ان میں سے کئی بہت نزدیک ہیں اور سب میں ایک ہی وقت پر پوری آواز میں اذان دی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے اتنا شور ہوتا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ اس کا کیا حل یے اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کر کوئی راستہ نکالا جانا چاہئے۔
مساجد نماز کے بعد زیادہ وقت خالی رہتی ہیں۔ اس وقت میں مسجد کو رفاہ عامہ کے کاموں کے لئے استعمال کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ مثلاً اسکول، ڈسپنسری، مفت دوا کا مرکز، مفت کوچنگ، لائبریری، مسافروں کے مختصر قیام اور شادیوں کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جو مساجد تبلیغی جماعت کے تسلط میں ہیں وہاں جماعت کے افراد ٹھہرتے ہیں۔ لیکن کسی مسافر کو ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہے۔ کئی ممالک میں مساجد کو اسلامک سینٹر کہا جاتا ہے۔ یہ سینٹر دینی بیداری، مسلمانوں کے درمیان اتحاد، اتفاق، اخوت، رابطہ کا ذریعہ ہیں۔ یہاں لائبریری، کوچنگ، اسپتال، مختصر وقت کے لئے آرام گاہ، میٹنگ ہال، خواتین کے لئے نماز پڑھنے اور اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو اس کے کفن دفن تک کا انتظام موجود ہے۔ بھارت میں 19 ویں صدی سے خواتین کے مسجد آنے پر پابندی ہے۔ جبکہ خاندان کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری انہیں کے کاندھوں پر ہے اور وہی دینی ماحول سے بیگانہ ہیں۔ خواتین کے مسجد آنے کا نہ رجحان ہے نہ مساجد (چند کو چھوڑ کر) میں ان کے لئے انتظام۔ اس کا نتیجہ ہے کہ خواتین دینی شعور سے بتدریج محروم ہوتی جا رہی ہیں۔ اب جبکہ مسلم لڑکیوں کے مرتد ہونے کی خبریں مسلسل آ رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عبادات کے سماجی اور مساجد کے معاشرتی کردار کو فعال کیا جائے۔ مسجد میں بیت المال قائم کر آسانی سے زکوۃ کا نظام بنایا جا سکتا ہے۔ ان مقاصد کی تکمیل کے لئے ائمہ مساجد کی مخصوص تربیت کی جانی چاہئے تاکہ وہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات میں رہنمائی کے فرائض انجام دے سکیں۔

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    ایڈوکیٹ راغب احسن صاحب کی کمی دہائیوں  تک محسوس کی جائے گی: ڈاکٹر خالد انور

    ایڈوکیٹ راغب احسن صاحب کی کمی دہائیوں تک محسوس کی جائے گی: ڈاکٹر خالد انور

    مارچ 20, 2026
    تیل و گیس کے کنوؤںپر حملے فوری بند ہونے چاہئے: بھارت

    تیل و گیس کے کنوؤںپر حملے فوری بند ہونے چاہئے: بھارت

    مارچ 20, 2026
    ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر بنگال کونشانہ بنانے  کا الزام، اقدامات کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی قرار دیا

    ممتا بنرجی کا الیکشن کمیشن پر بنگال کونشانہ بنانے کا الزام، اقدامات کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی قرار دیا

    مارچ 20, 2026
    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    دہلی میں فسادات جیسے حالات پیدا کر رہی ہے بی جے پی

    مارچ 20, 2026
    ایڈوکیٹ راغب احسن صاحب کی کمی دہائیوں  تک محسوس کی جائے گی: ڈاکٹر خالد انور

    ایڈوکیٹ راغب احسن صاحب کی کمی دہائیوں تک محسوس کی جائے گی: ڈاکٹر خالد انور

    مارچ 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist