کامیابی کے ساتھ تکمیل رمضان المبارک کے جشن کا نام عید ہے ۔اللہ کے بیش بہا نعمتوں میں سے ایک نعمت کا نام عید ہے ۔پرہیزگاری کی مشق کو کامل اعتماد کے ساتھ متواتر جاری رکھنے کے عہد کا نام عید ہے ۔اور اسی لئے عید الفطر کو یوم انعام بھی کہا جاتا ہے ۔پورے ایک ماہ روزہ رکھنے کے بعد جب مومن آخری روزہ رکھ چکا ہوتا ہے اور وہ شوال کا چاند دیکھ چکا ہوتا ہے تو اللہ کی بے شمار نعمتیں اس پر اترنا شروع ہو جاتی ہیں ۔یہ وہ شب ہوتی جب شیطان رو رو کر اپنے سر میں خاک ڈال رہا ہوتا ہے کہ آج تو اللہ نے تمام مومنین کو بخشنے کا اعلان کر دیا ہے ۔اس کی گریہ و زاری کو دیکھ کر اس کے شاگرد جمع ہو جاتے ہیں اور گریہ کا سبب پوچھتے ہی چیخ پڑتا ہے کہ ہماری ساری محنت اکارت چلی گئی اور اللہ نے اس ماہ مبارک میں ان تمام مومنین کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئے جنہوں نے اس ماہ میں روزہ رکھا ،قیام اللیل کا اہتمام کیا ،بھوکوں کو کھانا کھلایا ،اپنے فطرانہ کے ذریعہ کئی گھروں کے افراد کو بھی عید کی خوشیوں میں اپنے ساتھ شریک کیا اور اس سب کے طفیل اللہ نے ان کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا ۔لہذا اب تم سب نئے سرے سے مومنین کو بہکانے کی کو شش کرو ۔
یہ عید سعید کی عظمت و اہمیت ہے کہ اس کی برکت کے سبب شیطان بھی گریہ و زاری کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
عید سعید کی برکتوں میں سب سے بڑی برکت یہ ہے کہ اس ماہ میں قرآن کریم کی تلاوت کا بطور خاص اہتمام کیا جاتا ہے ۔مساجد و مکاتب سے لےکر گھروں تک میں قرآن کریم کی تلاوت اور اس کے سمجھنے سمجھانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔قیام الیل کے طور پر تراویح پر بطور خاص توجہ کا مرکز ہو جاتی ہے ،حفاظ کرام کا اکرام کیا جاتا ہے اور مومنین عام دنوں کے مقابلے زیادہ سے زیادہ فرائض و سنن کی پابندی میں مشغول رہتے ہیں ۔عید الفطر ملت اسلامیہ کے لیے انعام الہی کا دن ہے۔اور اللہ کریم اس جانفشانی کا بدلہ اپنے ہاتھوں سے اور فورا ادا کرتا ہے ۔
علمائے کرام نے لکھا ہے کہ’’ عید کا لفظ ”عود“ سے مشتق ہے، جس کے معنیٰ”لَوٹنا“ کے ہیں، یعنی عید ہر سال لَوٹتی ہے، اس کے لَوٹ کے آنے کی خواہش کی جاتی ہے۔ اور ”فطر“ کے معنیٰ ”روزہ توڑنے یا ختم کرنے“ کے ہیں۔ چوں کہ عید الفطر کے روز، روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے اور اس روز اللہ تعالیٰ بندوں کو عباداتِ رمضان کا ثواب عطا فرماتے ہیں، تو اِسی مناسبت سے اسے ”عید الفطر“ قرار دیا گیا۔حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ اہلِ مدینہ دو دن بہ طورِ تہوار مناتے اور اُن میں کھیل تماشے کیا کرتے تھے۔ رسولِ کریمﷺ نے اُن سے دریافت فرمایا’’ یہ دو دن، جو تم مناتے ہو، ان کی حقیقت اور حیثیت کیا ہے؟‘‘ تو اُنہوں نے کہا’’ ہم عہدِ جاہلیت میں یعنی اسلام سے پہلےیہ تہوار اِسی طرح منایا کرتے تھے۔‘‘ یہ سُن کر نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ان دونوں تہواروں کے بدلے میں ان سے بہتر دو دن مقرّر فرما دیے ہیں یوم عیدالاضحٰی اور یوم عیدالفطر نبی کریمﷺ نے عیدین کے موقعے پر شرعی حدود میں رہتے ہوئے خوشیاں منانے کی اجازت دینے کے ساتھ، دوسروں کو بھی ان خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دی۔ نیز، ان مواقع پر عبادات کی بھی تاکید فرمائی کہ بندۂ مومن کسی بھی حال میں اپنے ربّ کو نہیں بھولتا۔احادیثِ مبارکہؐ میں شبِ عید اور یومِ عید کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جب عیدالفطر کی رات ہوتی ہے، تو اُسے آسمانوں پر’’ لیلۃ الجائزہ‘‘یعنی’’ انعام کی رات‘‘ کے عنوان سے پکارا جاتا ہے اور جب صبحِ عید طلوع ہوتی ہے، تو حق تعالیٰ جل شانہ فرشتوں کو تمام بستیوں میں بھیجتا ہے اور وہ راستوں کے کونوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے، جسے جنّات اور انسانوں کے سِوا ہر مخلوق سُنتی ہے، پکارتے ہیں کہ’’ اے اُمّتِ محمّدیہﷺ اس کریم ربّ کی بارگاہِ کرم میں چلو، جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔‘‘جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں، تو اللہ ربّ العزّت فرشتوں سے فرماتا ہے’’ اُس مزدور کا کیا بدلہ ہے، جو اپنا کام پورا کرچُکا ہو؟‘‘ وہ عرض کرتے ہیں’’ اے ہمارے معبود! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اُس کی مزدوری اور اُجرت پوری پوری عطا کردی جائے‘‘، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’ اے فرشتو! تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اُنہیں رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلے میں اپنی رضا اور مغفرت عطا فرمادی‘‘ اور پھر بندوں سے ارشاد ہوتا ہے کہ’’ اے میرے بندو! مجھ سے مانگو، میری عزّت و جلال اور بلندی کی قسم! آج کے دن آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے، عطا کروں گا۔دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے، اُس میں تمہاری مصلحت پر نظر کروں گا۔ میرے عزّوجلال کی قسم! مَیں تمہیں مجرموں اور کافروں کے سامنے رُسوا نہ کروں گا۔ مَیں تم سےراضی ہو گیا ۔بلاشبہ وہ افراد نہایت خوش قسمت ہیں کہ جنھوں نے ماہِ صیام پایا اور اپنے اوقات کو عبادات سے منور رکھا۔پورے ماہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھی اور بارگاہِ ربّ العزّت میں مغفرت کے لیے دامن پھیلائے رکھا۔یہ عید ایسے ہی خوش بخت افراد کے لیے ہے اور اب اُنھیں مزدوری ملنے کا وقت ہے۔تاہم، صحابہ کرامؓ اور بزرگانِ دین اپنی عبادات پر اِترانے کی بجائے اللہ تعالیٰ سے قبولیت کی دُعائیں کیا کرتے تھے۔حضرت اقدس پیران پیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ’’ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو آراستہ کیا، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ گئے اور اُس کے عذاب و عتاب سے ڈر گئے۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے بہت زیادہ خوشیاں منائیں، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اُس پر قائم رہے۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے بڑی بڑی دیگیں چڑھائیں اور دسترخوان آراستہ کیے، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے نیک بننے کی کوشش کی اور سعادت حاصل کی۔ عید اُن کی نہیں، جو دنیاوی زیب و زینت اور آرایش و زیبایش کے ساتھ گھر سے نکلے، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جنھوں نے تقویٰ، پرہیزگاری اورخوفِ خدا اختیار کیا۔ عید اُن کی نہیں، جنھوں نے اپنے گھروں میں چراغاں کیا، بلکہ عید تو اُن کی ہے، جو دوزخ کے پُل سے گزر گئے۔‘‘حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عید کی مبارک باد دینے کے لیے آنے والوں سے فرمایا۔عید تو اُن کی ہے، جو عذابِ آخرت اور مرنے کے بعد کی سزا سے نجات پاچُکے ہیں۔












