
موجودہ سیاست کا حال ہم میں سے کسی کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اور سیاست دانوں کا حال بھی کسی پر مخفی نہیں ہے۔ سیاست کسے کہتے ہیں؟ سیاست عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ملکی تدبیر اور انتظام۔ یونان میں چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہوتی تھی جنہیں پولیس(polis) کہا جاتا تھا اور پولیس کے معاملات کو پولیٹک politic کہا جاتا تھا. ارسطو نے politic کے عنوان سے سیاست پر ایک کتاب لکھی تھی جسے انگریزی زبان میں politics کہا گیا اور یوں polis کے معاملات چلانے والے پولیٹیشن politition کہلائے۔ اردو زبان میں ریاست کے علم کو سیاست کہا جاتا ہے نبی پاک ﷺ کی سیاسی زندگی ہمارے لیے ایک اسوہ اور مثال ہے نبی پاک ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب قوم سیاسی اعتبار سے ایک نہایت پست حال قوم تھی۔ مشہور مورخ علامہ ابن خلدون نے تو انہیں مزاج کے اعتبار سے بھی ایک غیرت غیر سیاسی قوم قرار دیا ہے۔ اہل عرب اسلام سے پہلے اپنی پوری تاریخ میں کبھی وحدت و مرکزیت سے آشنا نہ ہوئے بلکہ ہمیشہ قبائل و گروہ میں بٹے رہے۔ اتحاد، تنظیم، شعور، قومیت اور حکم و اطاعت جیسی چیزیں جن پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کی بنیادیں قائم ہوتی ہیں ان کے اندر یکسر مفقود تھی لیکن نبی پاک ﷺ نے 23 سال کی قلیل مدت میں اپنی تعلیم و تبلیغ سے اس قوم کو اس طرح جوڑ دیا کہ یہ پوری قوم یک جان ہو گئی۔ یہ قوم صرف اپنے ظاہر ہی میں متحد و مربوط نہیں ہوئی بلکہ اپنے باطنی عقائد و نظریات میں بھی ہم آہنگ ہو گئی اور پوری انسانیت کو اتحاد و تنظیم کا پیغام دینے والی قوم بن گئی۔
نبی پاک ﷺ کی سیاست اور تدبر کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آپ نے اپنے کسی اصول کے معاملے میں کبھی کوئی لچک نہیں دکھائی۔ آپ کی سیاست اس اعتبار سے بھی دنیا کے لیے ایک نمونہ اور مثال ہے کہ آپ نے سیاست کو عبادت کی طرح ہر قسم کی آلودگی سے پاک رکھا۔ آپ کو اس دوران حریفوں اور حلیفوں سے مختلف قسم کے سیاسی اور تجارتی معاہدے کرنے پڑے، دشمنوں سے متعدد جنگیں کرنی پڑیں، عہد شکنی کرنے والوں کے خلاف اقدامات کرنے پڑے، آس پاس کی حکومتوں کے وفود سے سیاسی گفتگو کرنی پڑی، بعض بیرونی طاقتوں کے خلاف فوجی اقدامات کرنے پڑے، لیکن اپ نے کبھی کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کیا، اپنی کسی بات کی غلط تاویل پیش کرنے کی کوشش نہیں کی، کوئی بات کہنے کے بعد انکار نہیں کیا، معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کی۔ لیکن اگر ہم موجودہ سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیں یہ تمام چیزیں جن کا درس ہمیں حضور پاک ﷺ کی زندگی سے ملتا ہے بالکل دم توڑتی نظر آتی ہے۔ موجودہ سیاست کا حلیہ یکسر بدل چکا ہے۔ اب اقدار اور پیمانے بہت بدل گئے ہیں۔ اب اگر کوئی شخص اپنی ذاتی غرض کے لیے جھوٹ بولے، چال بازیاں کرے، عہد شکنیہ کرے، لوگوں کو فریب دے یا ان کے حقوق غصب کرے تو وہی اپنی قوم کا ہیرو سمجھا جاتا ہے، اس کے یہ کام فضائل و کمالات میں شمار ہوتے ہیں۔ سیاست کے یہی اوصاف و کمالات عرب جاہلیت میں بھی ضروری سمجھے جاتے تھے اور اس کا نتیجہ یہ تھا کہ جو لوگ ان باتوں میں شاطر ہوتے تھے وہی لوگ ابھر کر قیادت کے مقام پر آتے تھے۔
حضور ﷺ ہمیشہ لوگوں میں مل جل کر رہتے تھے۔ مگر اب اہل سیاست کا حال یہ ہے کہ جب وہ لوگ نکلتے ہیں تو ان کے قافلوں میں ہزاروں لوگ کئی کئی گاڑیوں پر سوار ہوتے ہیں۔ جہاں یہ اترتے ہیں ان کے نعرے بلند کرائے جاتے ہیں۔ ان کے جلوس نکالے جاتے ہیں۔ اور جلسوں میں ان کی شان میں جھوٹے اور انتہائی مبالغہ آرائی پر مشتمل قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ جب یہ مزید ترقی کر جاتے ہیں تو ان کے لیے قصر و ایوان آراستہ کیے جاتے ہیں۔ ان کو سلامیاں دی جاتی ہیں۔ ان کے لیے بری بحری اور ہوائی سواریوں کے خاص انتظامات کیے جاتے ہیں جب کبھی یہ سڑکوں پر نکلنے والے ہوتے ہیں تو ان کی گزرگاہیں گھنٹوں پہلے عوام کے لیے بند کر دی جاتی ہیں۔ دور حاضر میں ان چیزوں کے بغیر کسی صاحب سیاست کا تصور نہ دوسرے لوگ کرتے ہیں۔ نہ ہی کوئی صاحب سیاست ان لوازمات سے خود کو الگ تصور کرتا ہے۔ سیاست اس قدر ٹھاٹ باٹ سے آشنا کبھی نہیں تھی جس قدر یہ اب ٹھاٹ باٹ کی عادی ہو چکی ہے۔
اب اہل سیاست کا کام ریاست کے معاملات چلانا نہیں ہے اور نہ ہی اس طرف ان کی کوئی توجہ ہے۔ اب سیاست اقتدار اور کرسی کے لیے ایک دوڑ بن گئی ہے۔ اب اہل سیاست کا کام صرف دشنام طرازی، ایک دوسرے کی ذاتیات پر انگلی اٹھانا، ایک دوسرے کی عزت کو اچھالنا، مخالف جماعتوں کے کارکنان کو الٹے سیدھے ناموں سے پکارنا قانون کو گھر کی لونڈی بنا کر رکھنا، گالی گلوچ کرنا، جھوٹے وعدے کرنا، فریب دے کر ووٹ بٹورنا اور منصب کا ناجائز استعمال کرنا ہے۔ یہ خرافات کئی دہائیوں سے ہماری سیاست کا اہم ترین حصہ ہیں۔ بلکہ اس کے بغیر سیاست کو ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ آئے روز مچھلی بازار بنی ہوتی ہے۔جنہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اہل سیاست پڑھے لکھے اور دانشور نہیں بلکہ جہلاء کا ایک ٹولہ جمع ہے۔ جو باہم لڑائی جھگڑے میں مصروف ہے، پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کر رہا ہے اور قانون کی دھجیاں بکھیر رہا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ سیاست کی دو قسمیں ہیں۔ تو یہ کہنا بےجا نہ ہوگا۔ ایک وہ سیاست جو نبی پاک ﷺ کی زندگی میں اور صحابہ کرام کے دور میں ملتی تھی اور ایک یہ سیاست جو دور حاضر میں وطن عزیز میں رائج ہے۔ وہ حکمت کی سیاست تھی اور یہ لے اور دے کے سیاست ہے۔ یہاں جو جتنا امیر، کرپٹ، چور، ظالم و جابر، دغا باز اور مکروہ فریب کا جانے والا ہے۔ وہ اتنا ہی محترم اور منجھا ہوا سیاست دان ہے۔ اُس وقت صرف ایک اللہ کی عبادت ہوتی تھی۔ مگر اب کرسی اور پیسوں کو پوجا جاتا ہے۔ اب سیاست کو دین سے بالکل جدا کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ دین سیاست سے قطعا جدا نہیں ہے ۔علامہ اقبال فرماتے ہیں:
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اور یہ چنگیزی صفات آج ہر سیاسی لیڈر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ قتل و غارت موجودہ سیاست کا ایک اہم حصہ بلکہ اصل رخ ہے جو چنگیزی صفات و رنگ کی نشاندہی کرتا ہے۔
جس طرح دین محمدی عبادت، رہن سہن، حسن اخلاق و عادات، عدل و انصاف، تعلیم و تربیت اور انسانوں کے حقوق و فرائض کے متعلق رہنمائی فرماتا ہے، اسی طرح وہ سیاست کے قواعد و ضوابط اور آئین کے متعلق بھی رہنمائی فرماتا ہے۔ اسلام اور نبی پاک ﷺ کی تعلیمات کا جتنا تعلق اللہ تعالٰی کے عبادات اور اطاعت سے ہے اتنا ہی تعلق سیاست، حکومت اور رہنمائی سے بھی ہے۔ نبی پاک ﷺ کی ذات اقدس ایک بہترین مصلح، معلم اور رہنما کا عمدہ نمونہ ہے۔ آپ نے جس معاشرے میں پرورش پائی وہ قبائلی معاشرہ تھا۔ اجتماعیت سے زیادہ قبائلی عصبیت ہر فرد کی ذات کا خاصہ تھی۔ نبی پاک ﷺ نے نبوت کے مختصر عرصے میں اپنی تبلیغ، رہنمائی اور بہترین حکمت عملی سے بٹی ہوئی عوام کو ایک قوم بنا دیا۔
حلف الفضول اور واقعہ حجر اسود یہ دو ایسے واقعات ہیں جو قبل اعلان نبوت آپ کی سیاست اور اجتماعی شعور کی بہترین مثال ہے۔ ہجرت کے بعد آپ ایک بہترین سیاسی رہنما بن کر سامنے آئے۔ میثاقِ مدینہ وہ معاہدہ تھا جس نے مختلف قبائلوں اور قوموں میں بٹے ہوئے مسلمانوں کو ایک مسلم قوم بنا دیا۔ مواخات میں جہاں آپ نے مسلمانوں کو بھائی بھائی بنایا وہی مسلمانان مدینہ کو بیرونی خطرات سے بچانے کے لیے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان میثاقِ مدینہ قائم کیا تاکہ باہمی اختلافات کو ہوا نہ ملے اور مشرکین مکہ اور دیگر قبائل، مدینہ پر حملہ کرنے کی ہمت نہ کریں آپ کے سیاسی تدبر سے مدینہ کو حفاظت اور سکون کے حالات میسر آئے۔
آپ کی جنگی حکمتیں عملی ہی کی وجہ سے تعداد میں کم ہونے کے باوجود مسلمانوں نے ابتدائی تین جنگوں میں مشرکین مکہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ غزوہ احد میں آپ نے اپنے ساتھیوں کو پہاڑی درّے کی حفاظت پر مامور کر کے جہاں اپنی جنگی صلاحیتوں کا ثبوت دیا وہی غزوہ خندق میں سلمان فارسی جیسے عظیم ساتھی کے مشورے پر عمل کر کے آپ نے حکومتی فیصلوں میں اپنے ساتھیوں کے مشورے پر عمل کرنے کی اہمیت کو اجاگر فرمایا۔ صلح حدیبیہ آپ کی سیاسی حکمت عملیوں میں سے ایک کامیاب سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے نہ صرف مکہ فتح ہوا بلکہ آپ کا پیغام عرب کے صحراؤں سے نکل کر قیصر و کسری کے محلوں میں گونجنے لگا۔ مدینہ اور قرب و جوار کے قبائل سے جہاں انہوں نے داخلی حالات پر کنٹرول کیا وہی دیگر ممالک کے حکمرانوں کو خط لکھ کر خارجی منظر نامے پر ایک مدبر رحکمرانوںہنما ثابت کیا۔
نبی پاک ﷺ کی ذات اقدس رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ آپ کی شخصیت کی بے شمار جہتیں ہیں میری اس گفتگو کا مقصد ان بے شمار صلاحیتوں میں سے صرف چند صلاحیتوں کا ذکر کر کے باقیوں کا انکار کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اپنے موضوع کے مطابق باقی تمام صلاحیتوں کا اقرار کرتے ہوئے صرف سیاسی صلاحیتوں پر روشنی ڈالنا ہے۔
از : مولانا شیخ حامد علی
البرکات انسٹیٹیوٹ علی گڑھ












