نئی دہلی، معروف عالم دین اور جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ کے بانی و مہتمم مولانا شعیب انجم جامعی کے سانحہ ارتحال پر مدرسہ اسلامیہ تعلیم القرآن نبی کریم دہلی میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا،جس کی صدارت صدر جمعیتہ علمائے ہند ضلع چاندنی چوک دہلی،رکن شوری امارت شرعیہ پٹنہ،ناظم تعلیمات مدرسہ ہذا مولانا عبد السبحان قاسمی نے کی۔مولانا عبد السبحان قاسمی نے اپنے صدارتی بیان میں مولانا شعیب انجم جامعی کے حالاتِ زندگی اور خدمات و کارنامے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ مولانا عظیم دینی درسگاہ جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ کے سند یافتہ تھے۔اس وقت کے بزرگ ہستی عالم ربانی حضرت مفتی نسیم احمد صاحب فریدی رحمتہ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ تھے۔فراغت کے بعد آپ نے سعد مسجد گلی شاہ تارا اجمیری گیٹ دہلی میں امامت کے فرائض انجام دئےے۔اس کے بعد آپ نے جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ دہلی کو اپنی دینی خدمات کا میدان بنایا،مولانا مرحوم کی سوانح حیات پرشرح وبسط سے روشی ڈالی اوران کے کمالات کو اجاگر کیا جو بے پناہ خدادادخوبیوں اور صلاحیتوں کے مالک تھے۔اللہ ان کی بال بال مغفرت فرمائے۔صدرجلسہ کے بعد مفتی وسیم اکرم قاسمی نے کہا کہ جب انسان کی موت ہو جاتی ہو تو اعمال کا سلسلہ رک جاتا ہے۔لیکن تین ایسا عمل ہے جس کا ثواب جاری رہتا ہے،صدقہ جاریہ،علم نافع اور نیک صالح اولادکی دعاءاور الحمد للہ قابل فخر بات ہے کہ مہتمم صاحب کے اعمال نامے میں یہ تینوں جامع اعمال موجود ہیں۔بلاواسطہ یا بالواسطہ آپ کے ہزاروں شاگرد آپ کے لیے علم نافع کی حیثیت رکھتے ہیں۔جن کا فیض واسطہ در واسطہ نئی نسلوں میں منتقل ہوتا رہے گا،ان شاءاللہ۔آپ کے صاحب زادے مولانا رضوان انجم ایک نیک طبیعت عالم دین ہیںاور دینی وعملی میدان سے منسلک ہیں۔یقینا یہ سب آپ کے لیے ذخیرہ آخرت ثابت ہوگا۔آخر میں قاری اسجد زبیر صدر جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ دہلی نے اپنے دعائیہ کلمات میں کہا کہ آج جس شخصیت کی یاد میں ہم سب جمع ہیں وہ اب ہمارے درمیان نہیں ہیں اوران کی یاد ہمیںتاحیات آتی رہے گی۔انہوںنے مزید کہا کہ ملک کے مختلف جگہوں سے میرے پاس جامعہ شمس العلوم شاہدرہ کے خیر خواہان اور متعلقین ومخیرین کے تعزیتی پیغامات موصول ہورہے ہیںاورانہیں اپنے تہنیتی کلمات سے نوازاجارہا ہے،آج ہمیں ان کی اہمیت اور ان کی شخصیت کا اندازہ ہورہا ہے جب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔
ہمارے ساتھ ان کا بیحدمشفقانہ رویہ رہا جسے میں تاحیات بھلا نہیںسکتا۔واضح رہے کہ مولانا مرحوم کی اہلیہ بھی بیمار تھیں اسی لیے کچھ دن قبل ہی جامعہ سے اپنے صاحب زادے کے پاس مصطفی آباد گئے تھے،مولانا کسی بڑی بیماری میں مبتلا نہیں تھے بلکہ اچانک موت کی خبر آئی جو میرے لئے کسی حادثہ سے کم نہ تھی اور بیحد صدمہ میں ہوں۔مولانا کے لیے جامعہ میں ایصال ثواب کا سلسلہ جاری ہے۔قاری اسجد زبیر صدر جامعہ شمس العلوم کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔اس موقع پر شرکاءمیںمدرسہ اسلامیہ تعلیم القرآن نبی کریم دہلی کے جملہ اساتذہ و طلبہ کے علاوہ قاری اسجد زبیر صدر جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ،مفتی وسیم اکرم قاسمی ناظم تعلیمات و استاذ حدیث جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ،مفتی عبدالرافع قاسمی مبلغ دارالعلوم وقف دیوبند،مفتی افضال اختر قاسمی استاذ جامعہ عربیہ شمس العلوم شاہدرہ، قاری اشرف مہتمم مدرسہ جامعہ رحمت دہلی گیٹ ایڈیٹر ہفتہ واری اخبار اسلامی ایکسپریس وغیرہ بطور خاص موجود تھے۔












